امریکی اخبار نے ’بول ‘ کا پول کھول دیا

امریکی اخبار نے ’بول ‘ کا پول کھول دیا
امریکی اخبار نے ’بول ‘ کا پول کھول دیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) ”بول، پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ“ یہ الفاظ گزشتہ دو سال سے پورے پاکستان میں گونج رہے ہیں۔ نئے میڈیا گروپ کی حقیقت اور اس کے دعووں کے بارے میں ایک عرصے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے اور عوام کے ساتھ ساتھ ماہرین بھی یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ ’سب سے بڑے میڈیا گروپ‘ کے لئے بے شمار فنڈز کہاں سے آرہے ہیں۔ امریکہ کے مشہور اخبار ”نیویارک ٹائمز“ نے بالآخر ایک طویل تحقیق کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ "بول"کے پیچھے موجود کمپنی Axact صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کا ایک بہت بڑا ”فراڈ گروپ“ ہے۔

”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ گروپ گزشتہ کئی سالوں سے متعدد قسم کی جعلسازیوں کے ذریعے اربوں ڈالر کما چکا ہے لیکن اس کی ناجائز آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ جعلی تعلیمی اسناد کی فروخت ہے اور یہ کاروبار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر نظر ڈالیں تو اس گروپ کی وسیع و عریض تعلیمی سلطنت نظر آتی ہے جس میں سینکڑوں یونیورسٹیاں اور ہائی سکول شامل ہیں، جن کے شاندار نام ہیں اور ان کے روشن امریکی کیمپسز میں مسکراتے ہوئے پروفیسر پڑھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ جعلی تعلیمی ادارے نرسنگ سے لے کر ایروناٹیکل انجینئرنگ تک درجنوں شعبوں میں ڈگریاں جاری کرتے ہیں۔ ان ڈگریوں کی تعریف و توصیف کے لئے CNNiReport پر پُرجوش ویڈیوز ملتی ہیں اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دستخطوں والے سرٹیفکیٹ بھی نظر آتے ہیں جنہیں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تصدیق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

چین نے مودی کو چاروں شانے چت کردیا، کہانی ایسی کہ آپ بھی ہنسنے پر مجبور ہوجائیں ۔

 اخبار کا کہنا ہے کہ بنظر عمیق مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک سراب ہے۔ نیوز رپورٹیں جعلی ہیں۔ پروفیسر اداکار ہیں۔ یونیورسٹیوں کے کیمپس محض کمپیوٹر سرورز پر محفوظ کی گئی تصویریں ہیں۔ ڈگریاں کوئی حقیقی الحاق یا منظوری نہیں رکھتیں۔ اخبار کے مطابق کم از کم 370 ویب سائٹوں پر پھیلی ہوئی اس تعلیمی دنیا میں کوئی بھی چیز اصلی نہیں ہے، سوائے ان کروڑوں ڈالروں کے جو کہ دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں سے ہر سال ہتھیائے جاتے ہیں، اور یہ تمام دولت کراچی شہر میں واقع ایک پراسرار سافٹ ویئر کمپنی کے پاس جاتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی مفصل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جعلی کاروبار کی خالق اور مالک کراچی شہر سے کام کرنے والی کمپنی Axact ہی ہے جس نے شہر میں اپنے دفاتر میں دو ہزار سے زائد افراد کو ملازم رکھا ہے اور خود کو پاکستان کی سب سے بڑی سافٹ ویئر برآمد کنندہ کمپنی کہتی ہے، جو ملازمین کو سلیکون ویلی کی طرح مراعات فراہم کرتی ہے جس میں ایک سوئمپنگ پول اور تفریحی کشتی بھی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق اگرچہ Axact کچھ سافٹ ویئر ایپلی کیشنز بھی بناتی ہے، لیکن اس کے سابقہ ملازمین، کمپنی کے ریکارڈ اور اس کی ویب سائٹوں کا تفصیلی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا اصل کام جعلی ڈگریاں بیچنا ہے اور یہ اس کام کو عالمی پیمانے پر لے جاچکی ہے۔

ویرات کوہلی عشق کے ہاتھوں مجبور، ایک مرتبہ پھر قواعدو ضوابط کی دھجیاں اڑادیں

 ایک سابقہ ملازم کے مطابق Axact کے ہیڈکوارٹرز میں ٹیلی فون سیلز ایجنٹ شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور دنیا بھر کے ممالک سے تعلیم کے خواہشمندوں کو جھانسہ دے کر انہیں جعلی دستاویزات فروخت کرتے ہیں۔ سابقہ ملازمین اور فراڈ کے ماہرین کے مطابق یہ کمپنی ہر ماہ لاکھوں ڈالر کماتی ہے۔ Axact کو چھوڑنے والے کوالٹی کنٹرول آفیشل یاسر جمشید کے مطابق ”کسٹمر سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی یونیورسٹی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔“ یہ کمپنی جعلی اسناد کا کام عموماً پاکستان سے باہر کرتی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کے علاوہ ایشیا، یورپ اور امریکا تک بیسیوں ممالک اس کی زد میں ہیں۔

اخبار نے Axact کی دھوکہ دہی کا نشانہ بنے والے متعدد افراد کے بیانات کا بھی ذکر کیا ہے۔ سابقہ ملازم جمشید کے مطابق ایک سعودی شخص سے جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس کے عوض 4لاکھ ڈالر (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے) ہتھیائے گئے۔ ایک مصری شخص نے گزشتہ سال انجینئرنگ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جان کیری کے دستخطوں کے ساتھ حاصل کرنے کے لئے 12ہزار ڈالر (تقریباً 12لاکھ پاکستانی روپے) ادا کئے۔ ابوظہبی کے ایک بڑے ہسپتال میں کام کرنے والی ایک نرس نے میڈیکل ڈگری کے حصول کے لئے 60ہزارڈالر (تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے) لٹادئیے۔ ابوظہبی میں ہی ایک کنسٹرکشن کمپنی کے لئے کام کرنے والے جونیئر اکاﺅنٹنٹ موہن نے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری اور انگلش لینگوئج ٹریننگ سرٹیفکیٹ کے لئے مختلف اوقات پر رقوم ادا کیں اور مجموعی طور پر 30 ہزار ڈالر (تقریباً 30 لاکھ پاکستانی روپے) لٹا بیٹھا۔

وہ وقت جب آئی ایس آئی نے بھارت کی نینڈیں اڑا دیں،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

2009ءمیں امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے Axact کی ملکیت دو ویب سائٹوں بیلفرڈ ہائی سکول اور بیلفرڈ یونیورسٹی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔ اس کارروائی میں جلد ہی 30 ہزار دیگر متاثرین بھی شامل ہوگئے، لیکن دفاع کے لئے Axactکی بجائے ایک پاکستانی شخص سلیم قریشی سامنے آگئے . سلیم قریشی کے لئے امریکی وکلا کو چار لاکھ ڈالر (تقریباً 4کروڑ پاکستانی روپے) دبئی کے مختلف کرنسی ایکسچینج سٹورز کے ذریعے کیش کی صورت میں ٹرانسفر کئے گئے۔ سلیم قریشی نے Axactسے کسی بھی تعلق کی تردید کی، اگرچہ یہ بات بھی سامنے آگئی کہ بیلفرڈ سکول اور یونیورسٹی کے میل باکس کے فارورڈنگ ایڈریس کے طور پر Axactہیڈکوارٹرز کو لسٹ کیا گیا تھا۔ اس کیس کا اختتام 2012ءمیں ہوا اور عدالت کی طرف سے سلیم قریشی اور بیلفرڈ کو 22.7 ملین ڈالر (تقریباً 2ارب 27 کروڑ پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ Axact کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شعیب احمد شیخ اب پاکستان میں طاقتور ترین میڈیا گروپ قائم کرنا چاہ رہے ہیں، اخبار کے مطابق یہ قدم مزید طاقت اور اثر و رسوخ کے حصول کی ایک کوشش ہوسکتی ہے، جبکہ اس ملک میں Axact کے طرز کاروبار کے لئے پہلے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔

نیویارک ٹائمز کی تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنیوالی  جعلی   یونیورسٹیوں کی فہرست اور تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں