پول کھلنے کے بعد ’بول‘بھی بول پڑا

پول کھلنے کے بعد ’بول‘بھی بول پڑا
پول کھلنے کے بعد ’بول‘بھی بول پڑا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) بول ٹی وی کا پراجیکٹ لانچ کرنے کا ارادہ رکھنے والی کمپنی Axact کی مبینہ جعلسازی کے متعلق امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے جواب میں کمپنی کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔

Axactنے اپنی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے ردعمل میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو بے بنیاد، غیر معیاری، ہتک آمیز، غلط الزامات پر مبنی اور تخیلاتی شے قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نیویارک ٹائمز کے شراکت دار میڈیا گروپ ایکسپریس نے مشکوک کردار کے حامل صحافی ڈیکلان واش کے ذریعے بے بنیاد رپورٹ شائع کروائی۔ Axact کی طرف سے اپنے تعلیمی اداروں کے قانونی وجود پر بھی اصرار کیا گیا ہے لیکن کسی تعلیمی ادارے کا نام نہیں بتایا گیا،اس کے ساتھ ہی دنیا بھر کے بڑے تعلیمی برانڈز کے ساتھ شراکت داری کا دعویٰ بھی کیا گیا لیکن کسی برانڈ کا نام نہیں لیاگیا۔ اپنے رد عمل میں کمپنی نے سخت قانونی کارروائی کی بات بھی کی گئی۔

 دوسری جانب ویب سائٹ aarpix.comکا کہنا ہے کہ Axact کی طرف سے نیویارک ٹائمز کو بھیجا گیا قانونی نوٹس بظاہر کچھ خاص قانونی نہیں لگتا۔ ویب سائٹ کے مطابق قانونی نوٹس کے لئے دیا گیا پی ڈی ایف لنک کھولنے پر نظر آنے والی تحریر بظاہر ایک خوفناک کارپوریٹ لیگل نوٹس نظر آتی ہے لیکن اس میں رموز اوقاف کے علاوہ حقائق کی غلطیاں بھی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی طرف سے Axact کے ساتھ رابطہ کرنے کی تاریخ بھی 14 مئی 2015ءکی بجائے 14 اکتوبر 2015ءلکھی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس