ہائی کورٹ:انتخابی دھاندلیوں کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کو کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد

ہائی کورٹ:انتخابی دھاندلیوں کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کو کارروائی سے روکنے کی ...
ہائی کورٹ:انتخابی دھاندلیوں کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کو کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کو فوری طور پر کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین کے وکلاءکو 20 مئی کو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیا۔مسز جسٹس عائشہ اے ملک کے روبرو درخواست گزاروں لائرز فاﺅنڈیشن فار جسٹس اور عابد علی لون کی طرف سے استدعا کی گئی تھی کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے خلاف ان درخواستوں کے حتمی فیصلے تک اسے کام کرنے سے روکا جائے ۔فاضل جج نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ۔
درخواست گزاروں کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ صدر مملکت ممنون حسین نے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے 3جج صاحبان پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کا آرڈیننس جاری کیا ہے جو آئین کے آرٹیکل 225 کی خلاف ورزی ہے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین کے کسی آرٹیکل کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی صدارتی آرڈیننس کو مجموعی پارلیمانی شعور پر فوقیت دی جا سکتی ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ انکوائری یا تفتیش کرنا سپریم کورٹ کے ججوں کا نہیں بلکہ حکومتی اداروں کا کام ہے جبکہ کوئی متاثرہ فریق ایک ہی وقت میں دو فورمز پر قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتا ،سپریم کورٹ کے پاس پہلے ہی ہزاروں مقدمات میں زیر التواءہیں اور تین جج صاحبان کو انکوائری میں مصروف کرنے سے عوام اور سائلین کی حق تلفی ہوگی، درخواست گزاروں کے وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ عدالتوں کا کام سیاسی جماعتوں کی ذاتی رنجشیں دور کرنا نہیں بلکہ فیصلے کرنا ہے، سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو تفتیش کرنے یا انکوائری کرنے پر لگانا عدلیہ کے وقار کو کم کرنے کا مترادف ہے۔فاضل جج نے کیس کی مزیدسماعت 20مئی کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

مزید : قومی