طلاق کی شرح کم کرنے کیلئے کنواری سعودی لڑکیوں نے عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر دیا

طلاق کی شرح کم کرنے کیلئے کنواری سعودی لڑکیوں نے عجیب و غریب خواہش کا اظہار ...
طلاق کی شرح کم کرنے کیلئے کنواری سعودی لڑکیوں نے عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر دیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لئے نوجوان سعودی خواتین نے ایک دلچسپ تجویز پیش کردی ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ہونے والے شوہر کی سیکیورٹی، صحت اور قانونی معلومات کی رپورٹیں شادی سے پہلے فراہم کی جائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ جس شخص سے شادی کرنے والی ہیں اس کی حقیقت کیا ہے۔ خواتین کا موقف ہے کہ اس طرح وہ بہتر فیصلہ کرسکیں گی اور اپنے فیصلے سے مطمئن رہیں گی جس کے نتیجے میں طلاق کی شرح خود بخود کم ہوجائے گی۔

مزیدپڑھیں:10پاکستانیوں کا گرہ عرب ملک میں پکڑا گیا

”عرب نیوز“ کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو ہونے والے شوہروں کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے متعلق قانون سازی کی جاتی ہے تو سعودی عرب یہ قانون سازی کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔ مشاورت فراہم کرنے والی ماہر نجویٰ صالح کا کہنا ہے کہ یہ تجویز تعلقات میں بہتری لائے گی لیکن انہوں نے خواتین کو بھی خبردار کیا کہ ان معلومات کی بنا پر مردوں کو رد نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو حق حاصل ہے کہ وہ ہونے والے شوہروں کے متعلق معلومات حاصل کریں لیکن مرد کے ماضی کے متعلق بہت زیادہ معلومات نہ ہی حاصل کریں تو بہتر ہے۔

 انہوں نے اس خطرے سے بھی خبردار کیا کہ مردوں پر غیر ضروری دباﺅ ڈالنے کی صورت میں وہ غیر سعودی خواتین سے شادی کی طرف بھی مائل ہوسکتے ہیں جس کے سبب خالص سعودی خاندانوں کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔ قانون دان ڈاکٹر احمد المعابی نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح مردوں پر خواتین کا کنٹرول مضبوط ہوجائے گا جبکہ مردوں کے اعتماد میں کمی آسکتی ہے اور وہ ہتک بھی محسوس کرسکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس