کرپشن کرپشن بلوچستان بلوچستان

کرپشن کرپشن بلوچستان بلوچستان
 کرپشن کرپشن بلوچستان بلوچستان

  



جب نواب بگٹی مرحوم وزیراعلیٰ بلوچستان تھے۔ ایک شام کھانے پر ان کے ساتھ تھا۔ میرے علاوہ ارشاد گولہ بھی تھے۔ کھانے کے بعد بات چیت کا دور شروع ہوا تو نواب بگٹی نے ایک اعلیٰ آفیسر کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ تم اس کو جانتے ہو؟ ان سے کہا جی ہاں جانتاہوں۔ پھرپوچھا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ ان سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس کو ایک اچھے عہدے پر لگانا چاہتا ہوں؟ انہیں بتلایا کہ آفیسر کرپٹ ہے نواب پھٹ پڑے تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو؟اور ہر ایک کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ کرپٹ ہے۔ میرا جواب تھا نواب صاحب میں تو فٹ پاتھ کا آدمی ہوں مجھے معلوم ہے تواس پر نواب بگٹی نے ارشاد کو کہا تم سخی دوست محمد کو فون کرو اور اس سے پوچھو کہ اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ ارشاد گولہ نے کہا جی سائیں۔ انہوں نے فون کیا اور یہ میرے سامنے کا منظر تھا بلوچی میں بات ہورہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے فون رکھ دیا نواب نے پوچھا کیا کہا سخی نے ارشاد گولہ سے کہاکہ رشوت لیتا ہے۔ لیکن چوہے نہیں کھاتا ہاتھی کھاتا ہے۔ اور نواب صاحب سے کہاکہ شادیزئی کی بات تودرست نکلی۔ نواب خاموش ہوگئے اور پھر کہاکہ میں جس کو دیکھتا ہوں وہ کرپٹ نکلتا ہے۔ پشتون اور بلوچ آفیسر کی اکثریت کرپٹ ہے۔ میں کیسے حکومت کرسکتا ہوں اور کیسے درست کرسکتا ہوں؟ اس کے بعد نواب صاحب نے برملا کہنا شروع کردیا کہ قوم پرست پیٹ پرست ہیں۔ یہ تجربہ انہیں وزارت اعلیٰ ملنے کے بعد ہوا وزارت اعلیٰ کے تجربہ سے پہلے نواب بگٹی سے جب ملتا تو وہ مجھے طعنہ دیتے تھے کہ پٹھان پیسوں کے شوقین ہیں اور جب حکومت کا تلخ تجربہ ہوا اور قوم پرستوں نے ان کی حکومت کو گرانے میں اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا تو نواب شہید کا لہجہ بہت سخت ہوگیا اور وہ کہتے تھے کہ بلوچوں نے پٹھانوں کو پیچھے چھوڑدیا ۔ یہ تو پیسوں کے زیادہ شوقین نکلے اور وہ جملہ نواب صاحب ہمیشہ دہراتے تھے کہ قوم پرست پیٹ پرست ہیں۔

یقیناًسب ایسے نہیں ہوں گے مگر حکومت میں شامل بیورو کریٹ بدنام ہی رہے نواب بگٹی کے بعد جتنی حکومتیں بنیں ان میں کرپشن کے آثار نظر آتے رہے اور بلوچستان کے وسائل کو شیرمادر کی طرح پیتے رہے۔ اور بلوچستان کے عوام کی قسمت میں محرومیاں ہی محرومیاں آتی چلی گئیں۔ اس نام نہاد جمہوریت سے نواب مری زیادہ ردعمل کا شکار ہوگئے اور ان کا عقیدہ پارلیمانی نظام ہی سے اٹھ گیا اور ان قوم پرست پارٹیوں کو جن میں نیشنل پارٹی اور بی این پی تھی ان کے بارے میں انہوں نے کھل کر کہا کہ یہ قوم پرست نہیں ہیں، بلکہ یہ بلوچ قوم کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ پاکستان میں بلوچوں کیلئے مشکلات ہی مشکلات ہیں اور یہ اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکیں گے اور ان کا ذہن آزادی کی طرف چلاگیا یہ ان کی رائے تھی لیکن اس رائے کو ان قوم پرست لیڈروں نے قبول نہیں کیا جو اقتدار کے مزے لے چکے تھے اقتدار کی سحر انگیز چمک دمک انہیں پہاڑوں سے اتار لائی اور راستہ پارلیمانی نظام کا قبول کرلیا اب انہیں اپنا سابقہ ماضی خوفناک سائے کی طرح نظر آتا ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں اس لئے اب یہ فوج کے ساتھ ایک پیچ پر نظر آرہے ہیں پشتون اور بلوچ قوم پرست نئی جگمگاتی سحر انگیز سیاست میں فوج کے ساتھ قدم ملاکر کھڑے ہوگئے۔ اور خوشیاں ان کے دامن میں سیاست میں ستاروں کی مانند جگمگاتی ہوئی اترتی نظر آرہی ہیں۔ بلوچستان ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں پارلیمانی سیاست اب کرپشن میں گردن تک گھر چکی ہے اب سے چند دن قبل فوج کے جنرل صاحبان گرفت میں آچکے ہیں اور گھروں کو پہنچادیئے گئے ہیں کیا یہ سزا کافی ہے؟

اب ایک طویل عرصہ کے بعد کرپشن کے خلاف ایک بیانات کا طوفان بگولے کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ اور انہیں خطرات نظر آرہے ہیں پارلیمانی سیاست کا جہاز ڈانو ڈول ہوتا نظر آرہا ہے کالی گھٹائیں امڈتی نظر آرہی ہیں خطرات ہی خطرات نظر میں سما گئے ہیں۔اب رخ بلوچستان کی طرف ہوگیا ہے نیب نے وزیرخزانہ کے زیر سایہ سیکرٹری خزانہ کے گھر پر چھاپہ مارا ہے جناب مشتاق رئیسانی تو موجودہ اور سابق حکومت کے علی بابا نکلے ہیں ان کے گھر کے درو دیواروں سے ڈالروں اور پونڈوں اور پاکستانی نوٹوں کے انبار نکل آئے۔ سونے کے زیورات بھی ہاتھ آگئے ہیں ان کی مالیت بقول ڈی جی نیب بلوچستان 65 کروڑ 18لاکھ روپے 24 لاکھ ڈالر پندرہ ہزار پونڈ پانچ کروڑ کے بانڈ ہاتھ لگے ہیں اور اب یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اس کے سہولت کار کی تعداد بھی 15تک تھی ان کی تلاش بھی جاری ہے تو بے شمار آفیسران اور وزراء بھی گرفت میں آجائیں گے اب مشتاق رئیسانی 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے سرکاری مہمان ہوں گے اب ان کی زبان طوطے کی طرح تمام راز اگل دے گی اور اس کے بعد بلوچستان اسمبلی ایک اور طوفان کا سامنا کرے گی۔ اب دیکھیں گے کہ نیب کا طوفان بلا مشتاق رئیسانی کے بعد کس کس کے گھر جائے گا۔ اور سب سے حیرت انگیز بات تو یہ ہوئی ہے کہ رات کا اندھیرا چھانے سے پہلے پہلے جناب خالد لانگو نے اپنا استعفے پیش کردیا ہے اور عہدے سے علیحدہ ہوگئے ہیں انہوں نے یہ استعفے کس کو پیش کیا ہے؟ یا صرف اخبارات کو اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ میں نے اخلاقاً استعفے دیا ہے جب دامن صاف تھا تو استعفے دینے کی کیا ضرورت تھی اور پھر حکومت کے ترجمان کے ساتھ پریس کانفرنس کچھ عجیب سی لگی ہے کیا ترجمان ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ساتھ تھے یاان کی تصدیق کے لئے موجود تھے؟

اور حکومت کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ بدقسمتی سے آج سیکرٹری خزانہ کے گھر پر چھاپے کے دوران ناقابل تردید شواہد ملے ہیں جس کے نتیجے میں سیکرٹری خزانہ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان حکومت بلوچستان اور اس میں شامل نیشنل پارٹی پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ن نیب کی اس کارروائی کو خوش آئند سمجھتی ہے اور اس کی حمایت کرتی ہے اور نیب نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق بڑا اہم قدم اٹھایا ہے اور کہا کہ اتحادی جماعت نیشنل پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اس سے پہلے کہ نیب کوئی ایکشن لے ان کے مشیر خزانہ کو اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے تاکہ ادارے غیر جانبدارانہ تحقیق کرسکے۔ آخر میں ہم سب سے اہم سوال کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن سیاستدان کرتے ہیں یا آفیسر شاہی؟

مزید : کالم