اورنج ٹرین اپنے سفر پر رواں دواں

اورنج ٹرین اپنے سفر پر رواں دواں
اورنج ٹرین اپنے سفر پر رواں دواں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بالآخر اورنج ٹرین چل ہی پڑی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں ’’اورنج لائن ٹرین‘‘ کا افتتاح کر دیا، جس کے بعد ٹرین آزمائشی طور پر چلنا شروع ہوگئی۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین ٹریک کی کل لمبائی 27.12 کلومیٹر ہے،جس میں سے بالائے زمین25.4 کلو میٹر ہے اور تاریخی مقامات کی حفاظت کے پیش نظر زیر زمین ٹریک کی طوالت (کٹ اینڈ کور) 1.72 کلومیٹر ہے، اس کے 26 سٹیشن ہیں۔ 24 سٹیشن زمین سے 12 میٹرکی بلندی پر اور 2 سٹیشن زیرزمین ہیں۔ ٹرینوں کی تعداد 27 ہے اور ہر ٹرین میں 5 بوگیاں ہیں۔

ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عوام کو ٹرانسپورٹ کی آرام دہ، معیاری اور باکفایت سفری سہولتوں کی فراہمی کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔

الیکشن کے بعد اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو بھاٹی سے ائرپورٹ تک بلیو لائن میٹروٹرین بنائیں گے۔اورنج لائن میٹرو ٹرین کی رونمائی کے بعد ٹرین کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور چینی قونصل جنرل اور پراجیکٹ مینجر کے ہمراہ ٹرین کے مختلف حصے دیکھے۔

اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں غریب قوم کے 75 ارب روپے بچائے ہیں۔ نیب سے پوچھتا ہوں کہ وہ ہر چیز کا کھوج لگاتا ہے اور غیب کی چیزیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے، وہ غریب قوم کے بچائے گئے 75 ارب روپے کی تعریف تو کر دے، اگر 70 یا 75 ارب روپے سے زیادہ نہ بچایا ہو تو آپ کا ہاتھ اور میرا گریبان ہو گا۔

مَیں عوامی آدمی ہوں اور عوام کے درمیان ہی رہتا ہوں۔ اورنج لائن میٹروٹرین کی وجہ سے عوام کو جو تکلیف اٹھانا پڑی ہے، اس پر بھی معافی چاہتا ہوں اور جن تاجر حضرات کا نقصان ہوا ہے، آئندہ موقع ملا تو کمیٹی بنا کر ان تاجروں کے نقصان کی تلافی کریں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی ورلڈ کپ اور شوکت خانم کا نعرہ لگا کر ووٹ مانگتے ہیں تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ خیبرپختونخوامیں تعلیمی ادارے، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بناتے،لیکن انہوں نے تو خیبرپختونخوا کا بیڑا غرق کر دیا۔ عوام کے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی۔

مسلم لیگ (ن) کی دشمنی میں اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے کی مخالفت کرکے عوام سے کھلی دشمنی کی، اب عوام نے ترقیاتی منصوبوں اور اورنج لائن ٹرین کے عوامی منصوبے میں تاخیر کا بدلہ ان سے لینا ہے اور 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے جہاز کو ڈبونا ہے۔ جب خیبرپختونخوا میں ڈینگی آتا ہے تو نتھیاگلی کے پہاڑوں پر چڑھ کر سو جاتے ہو، ہم نے پنجاب میں پل، سڑکیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال بنائے ہیں۔ موقع ملا تو سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی یہ منصوبے لگائیں گے۔

اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں پی ٹی آئی کی وجہ سے 22 ماہ کی تاخیر ہوئی، لیکن یہ عوامی منصوبہ تاخیر کے باوجود تکمیل کے قریب ہے، جس کی نیازی صاحب کو بے حد تکلیف ہو رہی ہے، اگر اورنج لائن میٹروٹرین میں پی ٹی آئی کی وجہ سے 22 ماہ کی تاخیر نہ ہوتی تو بلیولائن کے منصوبے پر بھی کام شروع ہو چکا ہوتا،انہوں نے منصوبوں میں تاخیر کر کے قوم کے بیٹے، بیٹیوں، بزرگوں، ماؤں اور بہنوں سے دشمنی کی ہے۔

اورنج لائن ٹرین کی بروقت تکمیل میں تاخیر کی ذمہ دار پی ٹی آئی ہے۔ عوام الیکشن میں اورنج لائن میں تاخیر کا بدلہ لیں گے۔ نیازی صاحب کہتے ہیں کہ مَیں خطرناک ہوں، نیازی صاحب آگے آگے دیکھیں مَیں بتاؤں گا کتنا خطرناک ہوں۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ میں قومی ورثے کی حامل عمارات کو ارتعاش سے پہنچنے والے خدشات سامنے آئے تو حکومت نے ایسے مقامات سے ہٹ کر ایلیویشن کردی۔

اس دوران لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پراورنج لائن منصوبے پر کام سے روک دیاگیا۔ ان تاریخی عمارتوں میں شالا مار باغ، گلابی باغ گیٹ وے، بدو کا آوا، چوبرجی، زیب النساء کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جی پی او، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ، سینٹ اینڈریو چرچ، موج دریا دربار اور مسجد شامل تھیں۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ جاری رکھنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پنجاب حکومت کی درخواست منظور کرلی۔

میٹرو ٹرین منصوبہ جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے معاملے پر پانچ رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جو سپریم کورٹ کی 31 ہدایات (شرائط) پر عمل درآمد کرتے ہوئے منصوبے کی نگرانی کرے گی۔معاملہ کورٹس تک نہ جاتا تو اب تک یہ عوامی مفاد کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہوتا۔

منصوبے میں تاخیر سے ایک تو متعلقہ علاقوں کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنی رہی اور لوگوں کو ٹریفک کے عذاب کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری جانب ابتدائی طور پر 164 ارب روپے کا پراجیکٹ بڑھتا ہوا 260 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

اس منصوبے میں غریب قوم کے 76 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔ ٹینڈرنگ کے عمل کے بعد گفت و شنید کے ذریعے اربوں روپے بچانے کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی،اگرچہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے تحت منصوبے میں ٹینڈرنگ کا عمل ساقط ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب حکومت نے اس جی ٹو جی پراجیکٹ میں بھی ٹینڈرنگ کے عمل کو مکمل کیا ہے۔

ملک کی تاریخ کا یہ پہلا منصوبہ ہے، جس میں چین نے سول ورکس پاکستانی کمپنیوں کو دیا ہے اور سول ورکس میں بھی 6ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے اس منصوبے میں سوفیصد فنڈنگ چین کے ایگزم بینک کی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی آبادی اس وقت ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے، جس میں سالانہ 8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی کے اضافے کے ساتھ ناکافی سفری سہولتوں کے پیش نظر لاہور کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی سلسلے میں عوام کی سفری ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لاہور، راولپنڈی،اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس سسٹم کے کامیاب آغاز کے بعد لاہور میں میٹرو ٹرین نظام کا آغاز کیا جارہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا اور اپنی نوعیت کا پہلا ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین سے ابتدا میں روزانہ ڈھائی لاکھ افراد استفادہ حاصل کریں گے، بعد ازاں یہ تعداد بڑھ کر 5 لاکھ یومیہ تک بڑھ جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز 25 اکتوبر 2015ء کو ہوا تھا۔

مزید : رائے /کالم