سوڈانی اقدار

سوڈانی اقدار

  

میں 1997ء سے 1999ء تک پاکستانی سفارتخانہ خرطوم میں تعینات رہا۔ بچے میرے ساتھ تھے۔ میری بیٹیاں،سبا اور شیرین، وہاں سکول جانے لگیں تو میں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی کہ ان کو صبح سکول پہنچایا اور چھٹی کے بعد گھر لایا کرے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن ایک دن بچے وقت پر گھر نہ پہنچے توہم پریشان ہوگئے۔ یہ موبائیل فون کا زمانہ نہیں تھا اور ڈرائیور کے ساتھ رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔مجھے ڈرائیور کا نام بھی معلوم نہیں تھا۔میں نے اپنی رفیقۂ حیات،نگہت،سے پوچھا تواُس کو بھی معلوم نہ تھا۔ ہم دونوں نے ڈرائیور کا نام جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔ چونکہ ڈرائیور سوڈانی تھا اور سوڈانی قابل اعتماد لوگ ہیں اس لئے ہم نے نام پوچھنے کا تردد نہیں کیاتھا۔بچے کچھ دیر کے بعد گھر پہنچ گئے، ان کی گاڑی راستے میں خراب ہونے کی وجہ سے ان کو دیر ہو گئی تھی۔ ہم نے صحیح آدمی پر اعتماد کیا تھا۔

یہ توسوڈان کے ایک غریب ڈرائیور کی بات تھی۔ اَب ایک وزیر کی بات سنئے۔ بشپ روریگ وزارت خارجہ میں وزیرِمملکت تھے۔اُن کو میں نے ایک دفعہ کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کاوقت قریب آیا تو میں گھر سے نکلا کہ وزیر صاحب پہنچنے والے ہونگے۔ہمارے گھر کے سامنے ایک سڑک گزرتی تھی۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک صاحب اپنی گاڑی سے نکل کر قریبی دکان(کھوکھے) پر بیٹھے ایک بچے سے با ت کررہے ہیں۔ وہ خود بشپ صاحب تھے جو میرے گھر کا راستہ پوچھ رہے تھے اور اپنی گاڑی خود چلا کر آئے تھے۔ میں اُنہیں اپنے گھر لے آیا۔اسی طرح وزارت خارجہ میں ایک اور وزیر مملکت نمیری صاحب تھے۔ ایک دفعہ رمضان میں ہم سعودی سفیر کے ہاں افطار پر مدعو تھے۔کھانے کے بعد میں باہر نکلا تو نمیری صاحب کھڑے تھے۔ کہنے لگے، میں نے گاڑی نکالتے ہوئے آپکی گاڑی سے ٹکرائی ہے، کوئی نقصان تونہیں ہوا ہے لیکن میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو بتا دوں کہ یہ غلطی مجھ سے ہوئی ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں اور انہیں خدا حافظ کہہ کر رخصت کیا لیکن اُن کا ذمہ دارانہ رویہ میں بھول نہیں سکتا۔ جتنا خیال سفارتکاروں کا وزراء مملکت رکھتے تھے اتنا ہی وزیر خارجہ مصطفی عثمان اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی رکھتے تھے۔ خیال رکھنے اور مروت برتنے میں چھوٹے اہلکار بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔

سوڈان کا صدارتی محل نیل کے کنارے ایک خوبصور ت تاریخی عمارت ہے۔ ہم گاڑی میں محل کے سامنے سڑک پر گزرتے اور ڈیوٹی پر مامور فوجی دستہ سفارت خانہ کی گاڑی پر پرچم لہراتا دیکھتا تو فوراًسلوٹ کر تا۔ اگر گاڑی پر پرچم نہ ہوتا اور بچے کھڑکی سے ہاتھ ہلاتے تو بھی چاک و چوبند دستہ سلوٹ کرتا۔یہ ہے غیر ممالک کے سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کے لئے احترام کا جذبہ جس کا صرف سرکاری اہلکارہی اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ عام لوگ بھی کسی سے کم نہ تھے۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے باہر پودوں کو پانی دے رہے تھے۔ اتنے میں ایک سوڈانی وہاں سے گزرا۔ انہوں نے اُس سے مدد مانگی ’علیک اللہ‘ یعنی اللہ کے لئے کہہ کر۔ وہاں کسی کی مدد چا ہیئے تو علیک اللہ کہتے ہیں۔سوڈانی دیر تک ہمارے دوست کا ہاتھ بٹاتا رہا۔جب ہمارے دوست نے اس سے پوچھا کہ آپ کہا ں رہتے ہیں؟تو سوڈانی نے جواب دیا کہ میرا تعلق دوسرے شہر سے ہے۔ یہاں ایک دوست سے ملنے خرطوم آیا ہوں۔ ہمارے دوست نے معذرت کرتے ہوئے کہا میں سمجھا تھا کہ ”تم یہاں پڑوس میں رہتے ہو“۔

ایک دفعہ میں گاڑی میں جارہا تھا سڑک پر کچھ دوسری گاڑیاں بھی تھیں اور مجھے جلدی تھی میں سڑک کے کنارے گاڑی چلانے لگا۔ کچھ فاصلے کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک سوڈانی مجھے رکنے کا اشارہ کر رہاتھا۔میں نے گاڑی روکی تو وہ نیچے جھکا اور ایک پتھر سامنے سے ہٹایا۔یہ پتھر میں نے نہیں دیکھا تھا لیکن اُس سوڈانی کو نظر آیااور اُس نے میرے راستے سے ہٹادیاکہ کہیں میری گاڑی کو نقصان نہ پہنچے۔خرطوم میں اگر کہیں کوئی خاتون گاڑی چلا رہی ہو اور ٹائر پنکچر ہو جائے یا گاڑی خراب ہو جائے تو اردگرد سے لوگ جمع ہو جائیں گے۔ خاتون کو تسلی دینگے اور گاڑی کو ٹھیک کراکے اُس کے حوالے کرینگے۔ایسا وہ کسی لالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کرتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک پاکستانی خاندان کینیا سے خرطوم آیا۔ گاڑی چلاتے ہوئے اُن کو محسوس ہوا کہ کچھ لڑکے ایک دوسری گاٖڑی میں اُن کا پیچھا کر رہے ہیں۔ وہ پریشان ہوئے۔ اتنے میں وہ لڑکے اُن کی گاڑی کے آگے آئے اور اُن کو رُکنے کا کہا۔ یہ رُکے تو انہوں نے کہا کہ آپکی گاڑی کے ایک پہیہ سے ہوا نکلی ہوئی ہے۔ آپ اُتر جائیں کہ ہم آپکا ٹائر بدل دیں۔ ایسا ہر جگہ نہیں ہوتا۔

ایسے بے شمار واقعات ہیں جو سوڈانیوں کے اخلاق، رواداری اور ملنساری کی مثالیں ہیں۔کہتے ہیں کہ سوڈان آنے والے سفارتکار دو دفعہ روتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب وہ سنتے ہیں کہ سوڈان جا رہے ہیں جس کو وہ سخت جگہ سمجھتے ہیں اور دوسری دفعہ جب وہ سوڈان چھوڑ رہے ہوتے ہیں تو پھر سوڈانیوں کی محبت اُن کو رُلادیتی ہے۔یہ سچ ہے۔آج ہزاروں سوڈانی خرطوم میں کئی ہفتوں سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ وہ جنرل عمر حسن احمد البشیر کی معزولی پر تو خوش ہیں لیکن اس کے بعد ملک میں عارضی فوجی کونسل کی تشکیل پر تحفظات رکھتے ہیں اُن کا مطالبہ ہے کہ کونسل میں زیادہ تعداد سویلین ہو اور وہ لوگ شامل نہ ہوں جو سابق صدر یا اس کی حکومت کے آلہ کار رہے ہوں۔ آخر ی خبریں آنے تک کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہیں ہو سکا ہے۔خدا کرے کہ سوڈانیوں کا اپنے ملک میں جمہوریت کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -