آگہی کا سفر

آگہی کا سفر

  

محمد اکرم نے بیان کیا کہ وہ1980ء کے آخر میں کینال لاہور میں نوکری کی تلاش میں آیا تھا،اس نے پک اَپ ڈرائیور کی حیثیت سے نوکری شروع کی وہ اپنی بہن کے ساتھ رہتا تھا۔ ایک دن اس کے دوست اس کو ایک برف فروش کے پاس لے گئے،وہ سب ڈرگز(کینابس) استعمال کرتے تھے، لیکن اکرم نہیں جانتا تھا انہوں نے اسے کش لگانے کو کہا،اس کے بعد وہ بیمار رہنے لگا، آہستہ آہستہ منشیات کا عادی ہونے لگا، اپنی صحبت کی وجہ سے جلد ہی منشیات کا استعمال بہت زیادہ کرنے لگ گیا،گھریلو جھگڑے شروع ہو گئے،بالآخر اس نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور مختلف صوفیاء کے مزاروں پر رہنے لگا،جن میں سے ایک مزار بابا شاہ جمال کا تھا۔جمعرات کی رات بابا شاہ جمال کا مزار منشیات کے خریداروں سے بھرا رہتا تھا اور منشیات کا لین دین عام ہوتا تھا۔ وہ اس ماحول کا عادی ہو چکا تھا تمام جمع پونجی نشے میں لگا چکا تھا۔1999ء تک اس کے حالات بدتر ہو چکے تھے، کمائی کا کوئی خاص ذریعہ بھی نہیں رہا تھا۔

ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ جب اس کے پاس پیسے تھے ہرکوئی اس کو نشے کی پیشکش کرتا تھا جب وہ مالی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا تو نشہ دینے والوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ ایک دن اس نے ٹھان لی کہ وہ نشہ کا استعمال ترک کر دے گا۔اس نے خود کو مذہب کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا۔ علماء کی مجلسوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگا۔ پُرسکون ماضی اور نشہ میں مبتلا ہونے کے بعد کے تکلیف د حالات کا تقابل کرنے لگا،آہستہ آہستہ نشہ سے بیزار ہونے لگا، بالآخر نشہ سے دور ہوتا چلا گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ کافی بہتری آ گئی اور کچھ ہی عرصہ میں اس نے مکمل نشہ چھوڑ دیا۔نشہ سے واپسی کے اس سفر کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے لگاؤ، پختہ عقائد اور مضبوط قوتِ ارادی تھی۔

اکرم کی کہانی میں ہمارے لئے یہ نصیحت ہے کہ کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی وہ شخص جو تقریباً ایک گھنٹہ میں دس بار نشہ کرتا تھا اس نے محض اپنے ارادے و شعور سے نشے کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ماحول سے باخبر رہیں اور اپنے مسائل کا خود حل تلاش کریں اور آگہی کے اس سفر کو جاری رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -