ناکام ترین پارلیمینٹ…… ذمہ دار کون؟

ناکام ترین پارلیمینٹ…… ذمہ دار کون؟

  

وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمینٹ پاکستان کی تاریخ کی سب سے ناکام پارلیمینٹ ہے، عوام کی فلاح اور ریاست کے مفاد میں قانون سازی میں ناکام رہی، قانون سازی پارلیمینٹ کی بنیادی ذمے داری ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بجٹ سیشن سے پہلے پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس یکم جون کو بُلایا جائے گا۔ پیر کو وزارت کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں وزارت پارلیمانی امور روڈ میپ دے گی کہ پارلیمانی سال کے بقایا53 دن کیسے مکمل ہوں گے۔ یہ آئینی تقاضا ہے جو پورا کریں گے، پارلیمینٹ کے لئے اگلے تین سال کا پروگرام بھی طے کر لیا جائے گا۔ تمام وزارتوں کو مراسلہ بھیجا ہے کہ زیر التوا قانون سازی کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔ انہوں نے یہ باتیں ایک اخباری انٹرویو میں کہیں۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے یہ فیصلہ تو کر دیا کہ موجودہ پارلیمینٹ تاریخ کی ناکام ترین پارلیمینٹ ہے، بہتر ہوتا وہ اگر یہ تشخیص بھی کر دیتے کہ اس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے۔ قائد ایوان، ارکانِ پارلیمینٹ، اپوزیشن یا وہ وزراء جو ایوان میں لڑنے جھگڑنے کی تیاری کر کے تو آتے ہیں،لیکن قانون سازی میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے، زیادہ تر کام آرڈیننسوں سے چلایا جاتا ہے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ایک آرڈیننس کے ذریعے ختم کر کے نئی تشکیل دی گئی، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا تو وزارتِ صحت اس حکم کی تعمیل میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی، بالآخر توہین عدالت کی بار بار کی درخواستوں کے بعد ہی ایم ڈی سی کو بحال کیا گیا، اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور فیصلے کا انتظار ہے،لیکن حکومت ایسے آڈیننس جاری کر دیتی ہے جن میں قانونی سقم موجود ہوتے ہیں۔ اب دسواں مالیاتی کمیشن تشکیل کیا گیا ہے تو اس پر بھی اعتراضات وارد ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کی طرف سے جو رکن نامزد کئے گئے ہیں اُن کے خلاف خود حکومت کی حلیف جماعت کے ایک رکن اسمبلی نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے،مشیر خزانہ کے معاملے پر سندھ حکومت کو اعتراض ہے، بہتر ہوتا کہ آرڈیننس کے اجرا سے پہلے مشاورت سے کام لیا جاتا، اپوزیشن سے مشورے میں اگر حکومت اپنی ہتک محسوس کرتی ہے تو سرکاری جماعت میں بابر اعوان جیسے لائق فائق لوگ موجود ہیں،انہی سے پوچھا جاتا کہ کیا مشیر خزانہ کو کمیشن میں نامزد کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

پارلیمینٹ میں قانون سازی حکومت کی ضرورت اور ذمے داری ہے،لیکن جب سے یہ حکومت آئی ہے اس نے قانون سازی پر توجہ نہیں دی، غالباً وہ یہ سمجھتی ہے کہ قومی اسمبلی سے کوئی قانون منظور ہو بھی گیا تو ایوانِ بالا(سینیٹ)میں شکست ہو جائے گی،اِس لئے وہ قانون کا مسودہ پارلیمینٹ میں پیش ہی نہیں کرتی، حالانکہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے، اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت کی مخالفت ہوتا ہے وہ اگر ایسا کر رہی ہے تو کیا غلط کر رہی ہے، لیکن حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب وزراء کی تلخ نوائیوں کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑ جاتا ہے اور قانون سازی کھٹائی میں پڑ جاتی ہے، وزیراعظم نے چند مرتبہ ہی پارلیمینٹ کے ایوان کو رونق بخشی، عرصے سے انہوں نے اِدھر کا رُخ نہیں کیا، ایسے میں حکومتی ارکان بھی کارروائی میں دلچسپی نہیں لیتے اور موج میلے کے لئے ایوان میں آتے ہیں۔ کورم کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا رہتا ہے،پھر بعض وزراء تو ایوان میں آتے ہی اِس لئے ہیں کہ مخالفین پر گولہ باری کر سکیں، کیونکہ اس کام کی سرکاری جماعت میں بڑی قدرو منزلت ہے، اور دیکھا یہ جاتا ہے کہ کون سا وزیر کس کو زیادہ رگیدتا ہے، ایسے میں وزیروں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ قانون سازی کے خشک اور دقت طلب کام میں دلچسپی لیں وہ تو وہی کچھ کریں گے جس سے اُن کی دربار میں قدرو منزلت میں اضافہ ہو، چنانچہ وہ یہ کام خوب کرتے ہیں ایسے میں قانون سازی کون کرے گا؟ اِس کام میں اپوزیشن بھی اپنے حصہ بقدرِ جُثہ کے مطابق قصور وار ہے،لیکن بنیادی ذمے داری تو حکومت کی ہے،اِس لئے اگر پارلیمینٹ ناکام ہے تو اِس کا مطلب ہے حکومت ناکام ہے اور قائد ایوان بھی اس کے ذمہ دار ہیں، جو ایوان کو اہمیت ہی نہیں دیتے، پارلیمینٹ کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت اپنے ہی منتخب ارکان کو نظر انداز کرتی ہے اور غیر منتخب ارکان کو اہم ذمے داریاں سونپی گئی ہیں۔یہ لوگ اپوزیشن لیڈروں کے میڈیا ٹرائل کے سوا کسی دوسرے کام میں دلچسپی ہی نہیں لیتے۔ ٹاک شوز اور اخبارات کے کالموں میں ان کے بیانات حمع کر لئے جائیں تو مخالفین کی کردار کشی ان کا پسندیدہ مشغلہ نکلے گا۔ کورونا بحران کے دِنوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ وزراء سندھ حکومت کے لّتے لے رہے ہیں اور جواب میں صوبے کے وزیر بھی ایسی ہی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

پارلیمینٹ کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت تو خود مشیر پارلیمانی امور کا تقرر ہے، وزیراعظم کو اپنی پوری جماعت اور اتحادیوں میں سے کوئی ایسا منتخب رکن نہیں ملا جسے وہ پارلیمانی امور پر مشاورت کے لائق سمجھتے، بالآخر اُن کی نظرِ عنایت ڈاکٹر بابر اعوان پر پڑی،جو ایک زمانے میں آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی معتمد تھے اور بقول خود انہوں نے اپنے صدر کے اِردگرد مضبوط دفاعی حصار قائم کر رکھا تھا وہ خود کہا کرتے تھے کہ جس نے صدر صاحب کو بُری نظر سے دیکھنا ہو وہ پہلے انہیں راستے سے ہٹائے۔اتنی وفاداری بشرط استواری کے باوجود انہیں پیپلزپارٹی میں سے مکھن سے بال کی طرح نکال دیا گیا، تو کسی کو حیرت بھی نہ ہوئی، پھر انہوں نے تحریک انصاف کی پناہ ڈھونڈ لی، اب دو سال کی کوشش کے بعد وہ پارلیمانی امور کے مشیر مقرر ہوئے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ ان کے دور میں پارلیمینٹ پہلے کی طرح ”تاریخ کی ناکام ترین“ پارلیمینٹ ہی رہتی ہے یا ڈاکٹر صاحب اس کے مردہ جسم میں کوئی نئی رُوح پھونکتے ہیں، پارلیمینٹ اگر ناکام ہے تو اس کی زیادہ ذمے دار خود حکومت ہے،اپوزیشن جماعتیں بھی بری الذمہ نہیں،لیکن ان کی ذمہ داری کا درجہ حکومت کے بعد ہے۔ حکومت نے تو شاید یہ طے کر لیا ہے کہ پارلیمینٹ کو کوئی اہمیت نہیں دینی،اِس لئے ہمارا نہیں خیال کہ بابر اعوان پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے کوئی کردار ادا کر سکیں گے، تاہم اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ اُن کا مثبت کردار ہو گا اور اسے سراہا جائے گا،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کم از کم ورکنگ ریلیشن شپ تو قائم ہو جو اس وقت عنقا ہے اور بظاہر نظر بھی نہیں آتا کہ حکومت کو اس کام میں کوئی دلچسپی ہے ایسے میں پارلیمینٹ اگر ناکام نہیں ہو گی تو کیا ہو گا؟

مزید :

رائے -اداریہ -