رمضان،قرآن پاک اور مسلمان

رمضان،قرآن پاک اور مسلمان
رمضان،قرآن پاک اور مسلمان

  

رمضان کا مہینہ تمام مہینوں سے افضل ہے اور اس مہینے کی برکت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے سب سے محبوب نبی پر سب سے افضل کتاب یعنی قرآن مجید نازل فرمایا۔یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ یہ جس نبی ﷺ پر نازل ہوا وہ نبی تمام نبیوں میں افضل ہو گیا،جس مہینے میں نازل ہوا وہ مہینہ تمام مہینوں میں افضل ہو گیا، جس رات نازل ہوا وہ رات تمام راتوں سے افضل ہو گئی۔جس شہر میں نازل ہوا وہ شہر سب سے اعلی ہو گیا جس امت پر نازل ہوا وہ امت سب امتوں کی سردار بن گئی یعنی کے قرآن پاک کے اتنے معجزے ہیں کہ اگر بندہ گننے لگے تو تعداد ختم ہو سکتی ہے لیکن قرآن پاک کا اعجاز اس کے معجزے ختم نہیں ہو سکتے۔اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ اس قرآن کو یاد کریں مکمل نہیں ہو سکتا تو کچھ سورتیں یاد کریں تا کہ اس قرآن کی بدولت ہم دنیا میں معزز ہو سکیں۔

”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ ”بیشک وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ(یاد) نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔یعنی جیسے ویران گھر خیروبرکت اوررہنے والوں سے خالی ہوتا ہے، ایسے ہی اس شخص کا دل خیر وبرکت اور روحانیت سے خالی ہوتا ہے جسے قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ یاد نہیں۔“

اس حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس قرآن پاک کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور یاد کرے تا کہ اللہ کے عذاب سے بچ سکے اور اس کی رحمتوں کا طلب گار ہو سکے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کو دس نیکیوں کے برابر اجر ملے گا۔

قرآن کا ایک ایک حرف پڑھنے سے جس طرح نیکی ملتی ہے اس طرح اس کی ہر سورۃ انسان کیلئے اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کیلئے ایک الگ مقام رکھتی ہے۔قرآن پاک کی عظمت پر سینکڑوں احادیث ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت میں کامیابی صرف قرآن پڑھنے اس پر عمل کرنے میں ہے اس کے علاوہ کوئی ایسا راستہ،کوئی ایسا طریقہ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرا سکے۔ اسی طرح معاذ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بارش والی اندھیری رات میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بلانے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ الناس کو صبح و شام پڑھا کرو (تین تین بار) تمہیں ہر چیز سے کافی ہوں گی۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”کیا تم میں سے کوئی شخص ہر رات ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کون ہے جو یہ طاقت رکھتا ہو؟ فرمایا:سورہ اخلاص ایک تہائی قرآن کی مانند ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”قرآن پڑھا کرو بے شک یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا“۔مندرجہ بالا احادیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے قرآن کی اتنی فضیلت بیان کی ہے کہ اس کی ہر سورۃ کو پڑھنے اور اس کی فضیلت پر احادیث موجود ہیں۔آج ہم اپنے بچوں کو دیگر علوم سے روشناس کراتے ہیں تا کہ وہ پڑھ لکھ کر بڑے افسر بنیں ملک کی خدمت کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا بھی اہم فریضہ ہے اور یقینا اس بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ تم نے کون ساعلم حاصل کیا یا صرف دنیاوی علم کے پیچھے لگ کر پیٹ پوجا کا بندوبست کرنے میں لگے رہے۔یہ قرآن پاک کا معجزہ ہے کہ چودہ سوسالوں میں اس کے کسی ایک حرف کسی ایک زیر زبر میں فر ق نہیں آیا اور لاکھوں حفاظ ہر سال پوری دنیا میں نہ صرف اس قرآن عظیم کو حفظ کرتے ہیں بلکہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں اس کو سناتے ہیں۔

ترقی کی دوڑ میں اگرچہ ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا بچہ بڑا فسر بنے ڈاکٹر بنے یا انجینئر بنے تا کہ وہ بھی معاشرے میں باعزت مقام حاصل کر سکے لیکن کچھ علامہ معتصم الہی ظہیر جیسے لوگوں نے اپنے بچوں کو اس پر فتن دور میں بھی قرآن پاک کی تعلیم دلائی اور ان کے بچوں نے بھی اپنے ماں باپ کی خواہش کو عملی جامہ پہنچایا۔ حافظ سہل الہی ظہیرنے صرف نو سال کی عمر میں چار ماہ اور پندرہ دن کی مدت میں قرآن حفظ کر کے ایک عظیم سعادت حاصل کی اور اب چھ سالوں سے ہر رمضان میں مرکزقرآن وسنہ میں مصلی سنا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ریکارڈ مدت میں قرآن پاک حفظ کیا بلکہ میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں بھی ٹاپ پوزیشن لے کر ثابت کیا ہے کہ قرآن کسی طرح بھی دنیاوی تعلیم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے۔اللہ تعالی نے حافظ سہل الہی ظہیرکوانتہائی پرسوز اور دل کو چھولینے والی آوازکا ملکہ دیا ہے۔خوش کن آواز کے ساتھ تلاوت میں کتنا اثر ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓکے قبول اسلام سے لگا لیں کہ جب آپ ننگی تلوار لیے غصہ کی حالت میں جا رہے تھے تو راستے میں حضرت نعیم سے ملاقات ہوئی،پوچھا:اے عمر ننگی تلوار لیے کہاں جا رہے ہو؟آپ نے کہا آج پیغمبر اسلام کا فیصلہ کردینا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا:پہلے اپنے گھر کی خبر لوتمہاری بہن اور بہنوئی دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔آپ رخ بدل کر بہن کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایاتو دونوں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔اس تلاوت نے آپ کے دل پر اتنا گہرا اثرکیا کہ آپ نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت عمربن خطابؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو سرفراز فرمائے گا اور اسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا۔جب تک مسلمانوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھا وہ دنیا میں حکمرانی کرتے رہے اور جیسے ہی انہوں نے اس سے رو گردانی کہ وہ ذلیل و رسوا ہو گئے۔اب یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اللہ کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے قرآن کو تھام کر دنیا وآخرت میں سرخرو ہونا ہے یا اسے چھوڑ کر رسوا ہونا ہے۔رمضان کریم ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کتاب کا ذکر کریں اور اس کو پڑھیں تو ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ نہ صرف قرآن پاک کو خودد پڑھیں گے بلکہ اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے تا کہ کل قیامت کے دن وہ ہماری سفارش کر سکے۔

مزید :

رائے -کالم -