حکومت کی داستان

حکومت کی داستان
حکومت کی داستان

  

علامہ اقبال نے عالم شباب میں اپنی مشہور نظم ”تصویر درد“ لکھی تھی۔ یہ دل کی گہرائیوں سے نکلا درد ہے جو ”بانگ درا“ میں موجود ہے۔ اتنی طویل نظم یہاں رقم کرنا مقصود نہیں ہے لیکن اس کا ایک مشہور مصرع ہے

”تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں“

عمران خان حکومت کو مسندِ اقتدار پر بٹھائے دو سال ہونے کو ہیں اور اس عرصہ میں جیسی کارکردگی اس کی رہی ہے اور، لگتا یہی ہے کہ یہ نا اہلی، کرپشن، اقربا پروری اور عوام سے بے حسی کی بڑی داستانیں رقم کرکے جائے گی۔ انڈہ پہلے آیا کہ مرغی کی بحث کی طرح اس نقطہ پر کنفیوز ہونے کی ضرورت نہیں کہ کرونا کی وبا نے ملکی معیشت کو دیوار سے لگا دیا ہے یا وہ پہلے ہی لگ چکی تھی۔ جس دن عمران خان نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، اس دن سے آج تک کے تمام اعداد و شمار محفوظ ہیں۔اگر ہماری یادداشتیں کمزور نہ ہوں تو یہ سب ہی کو یاد ہو گا کہ کرونا کی وبا آنے سے پہلے ہی عمران خان کی حکومت معیشت اور گوورننس میں بری طرح ناکام ہو چکی تھی۔ پی ٹی آئی حکومت میں بہت چاؤ سے اسد عمر کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا لیکن آٹھ مہینوں کی بے مقصد اٹھک بیٹھک کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ تو فنانس کے آدمی ہی نہیں ہیں بلکہ مارکیٹنگ کے”گرو“ ہیں اور جو کام وہ سب سے اچھا کرتے ہیں وہ اپنی خود کی مارکیٹنگ ہے۔ آٹھ مہینوں بعد جب انہیں وزارت خزانہ سے ہٹایا گیا تو یہ بات طے ہو چکی تھی کہ نہ تو ان کی اپنی کوئی منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی ان کی پارٹی کے پاس معیشت کو سنبھالنے کی کوئی حکمت عملی تھی۔ اسد عمر نے خود اعتراف کیا 200 ارب ڈالر بیرون ملک سے واپس لانے والی بات محض ”مخول“ تھی اس لئے اسے بھول جائیں۔ کیسا جھوٹ تھا جو سالوں سے بڑھ چڑھ کر بولا جا رہا تھا۔ اسی طرح عمران خان کا دعوی بھی غلط نکلا کہ ان کے پاس 200 ماہرین کی ٹیم ہے جو ملکی معیشت کو جدید ترین خطوط پر استوار کرکے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دے گی۔ ابھی کرونا شروع نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا دعویٰ بھی ایک جھانسہ تھا۔ اقتصادی اعشارئیے جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اوپر جا رہے تھے،تمام کے تمام اعشارئیے‘ کرونا کے آنے سے پہلے ہی کٹی پتنگ کی طرح نیچے کی طرف تیزی سے آ رہے تھے۔سٹاک انڈیکس 54 ہزار سے دھڑام سے 28 ہزار پر گر چکا تھا، روپیہ کی قدراتنی کمزور ہو چکی تھی کہ وہ 105 سے160 روپے فی ڈالر تک سجدہ ریز ہو چکا تھا۔ پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی، سونا اور اشیائے ضرورت کئی گنا مہنگی ہو چکی تھیں اور پاکستان میں افراطِ زر کے تمام پچھلے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے جس کی وجہ سے سٹیٹ بینک نے شرح سود بھی 13.25 فیصد کی ریکارڈ سطح پر رکھی ہوئی تھی۔ اور تو اور بے تحاشہ قرضے لینے کا یہ عالم تھا پاکستان کے قرضے جو 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ارب روپے تھے، اور جنہیں پیپلز پارٹی نے 6 ہزار سے 14 ہزار (سوا دو ہزار ارب سالانہ)اور مسلم لیگ (ن) نے 30 ہزار ارب (تین ہزار ارب سالانہ)تک پہنچایا تھا، عمران خان حکومت نے پہلے سوا سال میں اسے 42 ہزار ارب تک پہنچا دیا یعنی 12 ہزار ارب کے نئے قرضے۔ بجٹ کا خسارہ جو پچھلی کسی بھی حکومت کے دور میں ساڑھے چار فیصد سے زیادہ نہیں بڑھا تھا،’’صاف چلی شفاف چلی“ حکومت میں ساڑھے آٹھ فیصد تک پہنچ گیا، یعنی پچھلی کسی بھی حکومت سے دوگنا بجٹ خسارہ۔ ان سب پر مستژاد کہ 25 لاکھ لوگ کرونا آنے سے پہلے ہی بے روزگار ہو چکے تھے اور ملک میں ایک بھی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہو سکا تھا،صرف پرانے منصوبوں پر نئی تختیاں لگائی جا رہی تھیں۔

وزیر اعظم عمران خان، ان کے ساتھی اور حمائیتی سب سے زیادہ رونا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دس سالہ دور کا روتے ہیں۔اب اس حکومت کے دو سال پورے ہونے کو ہیں تو لوگوں کو سمجھ آرہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پہلی مرتبہ ہماری برآمدات نے 25 ارب ڈالر سالانہ سے تجاوز کیا تھا جسے مسلم لیگ (ن) نے تقریباً اسی سطح پر برقرار رکھا تھا۔ لیکن ہوا کیا کہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد یہ تیزی سے نیچے گرنا شروع ہو گئیں اور 21 ارب ڈالر کی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اب کرونا کی وجہ سے عالمی کساد بازاری میں یہ اور نیچے آئیں گی۔ روپے کی قدر 40 فیصد تک کم ہو گئی لیکن برآمدات بڑھنے کی بجائے اور کم ہوتی گئیں۔ ظاہر ہے عمران خان حکومت میں صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ برآمدات بڑھا سکے۔ مشیر تجارت رزاق داؤد ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینے کی بجائے خام مال ہی برآمد کروا دینے میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں تو یہ کیسے بڑھیں گی۔ برآمدی شعبہ کو چین، بھارت، بنگلہ دیش، ویت نام، میکسیکو، تائیوان اور ملائیشیا انڈونیشیا وغیرہ سے سخت مسابقت کا سامنا ہے جو مربوط حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔گونگلووں سے مٹی جھاڑنے سے تو برآمدات بڑھنے سے رہیں اور نہ رات دن اپوزیشن اور میڈیا کو صلواتیں سنانے، ان کے خلاف مقدمات بنانے، نیب کے سیاسی استعمال اور مشیروں کے دو دو گھنٹے کی میڈیا بریفنگوں سے یہ بڑھیں گی۔ یہ اسی وقت بڑھیں گی جب حکومت اور اس کی ٹیم میں قابلیت ہوگی۔اسی طرح جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو گردشی قرضہ کے بڑھنے کی روزانہ ٹیپ چلاتے تھے۔ جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں گردشی قرضہ خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ ٹیپ بند ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آئی پی پیز کے خلاف تحقیقات کو منظر عام پر لانے کی بجائے اب وہ اس پر مٹی ڈالنا چاہتے ہیں۔ کوئی حکومت کسی سکینڈل پر مٹی اسی وقت ڈالتی ہے جب کھرا اس کے اپنے لوگوں کے گھروں کی طرف جاتا نظر آئے۔ عمران خان اگر کرپشن کے خلاف واقعی اتنا سنجیدہ تھے جتنا وہ شور مچایا کرتے تھے تو گندم، آٹا اور چینی مافیا کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹیں پبلک کردیں اور آئی پی پیز کے بارے تحقیقات بھی نہ روکیں۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو الزام لگایا کرتے تھے کہ ٹیکس اس لئے اکٹھا نہیں ہوتا کیونکہ حکمران چور اور ڈاکو ہیں۔ ان کے آنے سے پہلے 3850 ارب ٹیکس اکٹھا ہوا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسے دوگنا سے زیادہ یعنی 8000 ارب کریں گے۔ لیکن ان کی حکومت پہلے سال میں (جب ابھی کرونا نہیں تھا) صرف 3800 ارب ہی ٹیکس اکٹھا کر سکی تھی۔ اس سال کا تخمینہ کرونا کی وجہ سے اس سے بھی کم رہے گا۔ اگر پچھلے حکمران 4000 ارب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا نہیں کر پارہے تھے کیونکہ وہ چور اور ڈاکو تھے، تو اس سطح سے بھی کم ٹیکس اکٹھا کرنے والے حکمرانوں کو کیا سمجھا جائے؟ جس حکومت میں معاشی پالیسی کی بنیاد آٹھ بھینسیں (جن میں تین کٹے تھے)اور بیس پچیس سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں فروخت کرنے پر رکھی جائے اور جس کے معاشی ستون انڈے، مرغیاں اور کٹے (بچھڑے) ہوں وہ کہاں سے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معاشی پالیسیاں بنائے گی؟ اور جس حکومت کا ماٹو اقربا پروری ہو،اور جہاں تمام عہدوں کی قریبی دوستوں میں بندر بانٹ ہوئی ہو وہ اچھی گوورننس کا کیسے سوچ سکتی ہے؟ اور جو حکومت آف شور کمپنیوں میں دولت چھپانے کے قوانین کو موم کی ناک بنا کر ٹائیں ٹائیں فش کرنے کے لئے آرڈی ننس لانا چاہتی ہو وہ کیسے کرپشن کو ختم کر سکتی ہے؟ آٹا، چینی،وزارت صحت کے اربوں کے سکینڈل اور آئی پی پیز سکینڈل کو دفن کرنے اور آف شور کمپنیوں میں دولت کی ڈمپنگ کو آسان بنانے کا مطلب یہی ہو گا کہ اس حکومت میں نہ صرف نا اہلی اور اقربا پروری بلکہ کرپشن کے بھی نئے ریکارڈ قائم ہوں گے جس کے سامنے پچھلی کئی دہائیوں کی کرپشن بھی پانی بھرے گی۔

نا اہلی، اقربا پروری اور کرپشن کی داستانیں ایک طرف، عمران خان حکومت نے عوام سے بے حسی کے بھی نئے ریکارڈ بنائے ہیں، کرونا سے پہلے بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور آئی ایم ایف کی ناجائز شرائط مان کر، اور کرونا کے بعد لاک ڈاؤن میں پہلے تذبذب، سندھ حکومت (جو کرونا کے خلاف سنجیدہ لڑائی لڑ رہی ہے) کے خلاف محاذ آرائی اور اب غیر اعلانیہ اجتماعی مدافعت (herd immunity) کے لئے لاک ڈاؤن کھول کر لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں معیشت کا 1.5 فیصد سکڑنے کا خطرہ ہے لیکن لاک ڈاؤن کھول کر غیر اعلانیہ اجتماعی مدافعت کی پالیسی کی وجہ سے 2.2 فیصدآبادی کے مر جانے کا خطرہ ہے۔ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے اور اس بے حسی کی وجہ سے لاکھوں لوگ اگر جاں بحق ہوگئے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ بات سیدھی سی ہے کہ 1.5 فیصد معیشت کو 2.2 فیصد آبادی پر ترجیح دی گئی ہے۔ صحت کے حالات سب سے زیادہ صوبہ خیبر پختون خوا میں خراب ہیں اور کرونا سے اموات کی شرح بھی وہاں سب سے زیادہ ہے۔ اگر حکومت کا تمام دھیان کرونا کے نام پر عالمی اداروں سے اربوں ڈالر اکٹھا کرنے پر ہے اور عوام کو ان کے حال پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے تو پاکستانی عوام کی اس سے بڑی بدقسمتی ممکن نہیں ہے۔ غریبوں اور روزانہ اجرت پر مزدوری کرنے والوں کا تو محض ڈھکوسلہ ہے، حکومت کی تمام ترجیحات صرف امراء اور با اثر طبقہ کے لئے ہیں۔ایسی بے حسی اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی کہ ملک کی 2.2 فیصد آبادی کو موت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ بچ گئے تو ان کی قسمت اور اگر مر گئے تو بھی ان کی قسمت۔ حکومت صرف نقد رقم تقسیم کرنے پر زور دے رہی ہے اور آنے والے وقتوں میں سینکڑوں یا ہزاروں ارب کے سکینڈل سامنے آئیں گے۔ حکومت کے یہی چلن رہے تو علامہ اقبال کا شعر تھوڑی سی تبدیلی کے بعد ارشاد ہے،

”تمہاری داستاں سب سے اوپر ہوگی داستانوں میں“

مزید :

رائے -کالم -