کرپشن کے خلاف ویکسین ابھی ایجاد نہیں ہوئی

کرپشن کے خلاف ویکسین ابھی ایجاد نہیں ہوئی
کرپشن کے خلاف ویکسین ابھی ایجاد نہیں ہوئی

  

فرمایا ہے شبلی فراز نے کہ کرپشن وائرس کے خلاف ویکسین کا نام عمران خان ہے۔ یوں انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے بدلتی ہوئی اصطلاحات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست کو بھی طبی اصطلاح کا لبادہ اوڑھا دیا ہے۔ظاہر ہے وہ نئے وزیر اطلاعات ہیں تو انہوں نے نئے انداز سے انٹری بھی ڈالنی ہے۔ یہی بات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتیں تو کئی وزراء ناک بھوں چڑھاتے کہ کپتان کو ویکسین کہہ دیا ہے،لیکن شبلی فراز چونکہ تحریک انصاف کا اپنا چہرہ ہیں،اِس لئے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا،پاکستان میں وزیر اطلاعات کی بنیادی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ وہ کرپشن کا نام لے کر اپنی توپوں کا رُخ سیاسی مخالفین کی طرف کر دے، سو شبلی فراز بھی عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اس ڈیوٹی کی ادائیگی میں سرگرم ہو چکے ہیں۔ اب وزیر اطلاعات کا کیا کام ہے کہ وہ وزیراعظم کے ایک معاونِ خصوصی کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کرے۔ وزیر اطلاعات کا کام الزامات کا حصہ بننا تو نہیں ہے، اُسے تو حکومتی پالیسیوں کی اطلاع قوم کو پہنچانی ہوتی ہے یہ تو شہزاد اکبر بڑے تگڑے معاونِ خصوصی برائے وزیراعظم ہیں کہ جن کی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی خوشی خوشی بیٹھتی تھیں اور اب شبلی فراز بھی بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، پریس کانفرنس اس موضوع پر تھی کہ شہباز شریف نے کک بیکس اور منی ٹریل کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کا ابھی تک جواب کیوں نہیں دیا۔ یہ بھی پہلا موقع ہے کہ حکومتی وزراء زبردستی یہ جواب مانگ رہے ہیں، کس قانون کے تحت کوئی کسی کو یہ کہہ سکتا ہے کہ مَیں نے تم پر الزام لگایا ہے، اِس لئے اب تم اس کا جواب بھی دو،یہ سوال تو کسی عدالتی فورم پر جا کر پوچھا جا سکتا ہے اور پوچھنے والی بھی کوئی عدالت ہو گی، الزام لگانے والا نہیں۔

کورونا وائرس کے دِنوں میں سیاسی کھلواڑ ایسے ہی عجوبے دکھاتا ہے، مذاق در مذاق یہ ہے کہ ایک طرف حکومتی وزراء نے یہ مطالبہ کیا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے تو جواب آں غزل کے طو ر پر مسلم لیگی رہنماؤں نے شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کر دیا اسے کہتے ہیں نہلے پہ دہلا مارنا، کسی کے الزام لگانے پر کیا نام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے، کسی پر کوئی مقدمہ نہ ہو، کوئی ریاستی ادارہ متقاضی نہ ہو تب بھی کسی کو بیرونِ ملک جانے کے بنیادی حق سے محروم کیا جا سکتا ہے، کیا یہ سب سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش نہیں، کیا یہ موقف اِن کاموں کے لئے مناسب ہے، کسی ایک سیاسی شخصیت کو لے کر کرپشن کی کہانیاں سنانے کی روایت بہت پرانی ہو چکی ہے۔ اصل توجہ تو اُس کرپشن کی طرف دینے کی ضرورت ہے، جو قوم کے رگ وپے میں سرایت کر چکی،جو اوپر سے لے کر تحصیل کی سطح تک پنجے گاڑھے کھڑی ہے،جس کا عوام کو روزانہ سامنا رہتا ہے اور وہ اُن کے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتی ہے۔ عوام کو ریلیف تو اُس کرپشن کے خاتمے سے ملے گی۔ یہ سیاسی کرپشن کے قصے تو صرف ایک ڈھکوسلا ہیں،کردار بدل جاتے ہیں کہانی وہی رہتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں سیف الرحمن جن کا نام احتساب الرحمن پڑ گیا تھا۔ آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی کرپشن کے قصے اسی طرح مزے لے لے کر سناتے تھے، کئی فرنٹ مین، کئی جعلی اکاؤنٹس، کئی سرے محل انہوں نے بھی دریافت کئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب ختم ہو گئے۔ قومی خزانے میں ایک پیسہ نہیں آیا۔ آنے جانے والی حکومتیں نیب آرڈیننس میں تبدیلی کی دہائی دیتی رہتی ہیں،حالانکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایک انسداد بدعنوانی ایکٹ ایسا لایا جائے، جو سرکاری دفاتر سے کرپشن کا خاتمہ کر دے،جس سے عوام کو روزانہ پالا پڑتا ہے، اینٹی کرپشن جیسا لولا لنگڑا ادارہ بنا کر عوام کو بے رحم کرپٹ نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اس بدعنوانی کے وا ئرس کی ویکسین کیوں ایجاد نہیں ہوتی۔

وقت تو یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس بھی کرپشن وائرس کو ختم کرنے کی ویکسین موجود نہیں، کرپشن وائرس میں مبتلا افراد تو اُن کے اردگرد بیٹھے ہیں، حتیٰ کہ انکوائری کے بعد اُن کا رزلٹ بھی پازیٹو آ جاتا ہے،مگر وہ علاج کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔اس سارے منظر نامے میں شیخ رشید احمد کچھ سچ بول جاتے ہیں۔ وہ عمران خان کی یہ کہہ کر لاج رکھ لیتے ہیں کہ وزیراعظم کسی کو نہیں چھوڑیں گے،عید کے بعد وہ نیب کے چوکے چھکے بھی دیکھ رہے ہیں،جو حکومتی وزراء کے خلاف بھی لگنے والے ہیں۔سوال یہ ہے کہ نیب ہی کیوں یہ چوکے چھکے لگائے،خود وزیراعظم عمران خان یہ کام کیوں نہیں کرتے، چوکے چھکے تو اُن کی خوبی رہی ہے۔ہو ا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ مَیں نیب سے نہیں ڈرتا۔ مَیں گرفتاری کی صورت میں شور نہیں مچاؤں گا، نیب پر الزام نہیں لگاؤں گا۔یہ کام اُن کا ہے، جنہوں نے تیس سال تک حکومت کی۔ چلیں جی یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ گرفتاری سے نہیں ڈرتے اور نیب پر الزام بھی نہیں لگائیں گے،لیکن یہ کام آپ از خود کیوں نہیں کرتے کہ نیب انکوائری تک وزارت سے مستعفی ہو جائیں، تاکہ وزیراعظم عمران خان کو نیب کے ہاتھوں اُن کی گرفتاری پر شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہ چینی سکینڈل والے کابینہ میں بیٹھے کیا کر رہے ہیں۔ کیوں حکومتی عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں،کیوں اِس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور ہیں، وہ انہیں کابینہ سے نہیں نکال سکتے۔ شبلی فراز کو سوچنا چاہئے کہ عمران خان کے پاس کرپشن کے خلاف یہ کیسی ویکسین ہے، جو اپنے قریب بیٹھے ہووؤں پر اثر نہیں کرتی، ماڈل ٹاؤن یا بلاول ہاؤس میں بیٹھنے والوں تک پہنچ جاتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان ایک واضح بیانیہ لے کر اقتدار میں آئے تھے۔ اُن کی تقریریں اُٹھا کر دیکھ لیں، انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے چاہے وہ اُن کی حکومت میں ہی کیوں نہ ہو۔ اصل ویکسین یہ تھی، جن کا وزیراعظم عمران خان تذکرہ کیا کرتے تھے۔ یہ ویکسین ایجاد ہو جاتی، استعمال بھی ہوتی تو شاید کرپشن کا ناسور کسی حد تک مارا جاتا،مگر یہ ویکسین تو درمیان ہی میں ناکارہ بنا دی گئی۔ مصلحتوں اور سیاسی مجبوریوں نے اسے بے ضرر بنا دیا، جس طرح کورونا کیسز کسی بھی جگہ نکل آتے ہیں، اُسی طرح کرپشن کیسز کابینہ کے اندر سے نکل آئے، کتنے باہمت تھے، وزیراعظم جب انہوں نے آٹا چینی سکینڈل کی انکوائری رپورٹ کے عام کرنے کا حکم دیا کتنے باہمت تھے وہ اُس وقت جب پاور کمپنیوں کی لوٹ مار کے بارے میں رپورٹ کو شائع کرنے کا اشارہ دیا۔اُس وقت واقعی کرپشن کے خلاف ویکسین پورے عروج پر تھی، مگر پھر اُس ویکسین کو اچانک ناکارہ بنانے والے میدان میں اُترے، یہ کرپشن بچاؤ فرنٹ لائن سولجرز اتنے پاور فل تھے کہ وزیراعظم کو بے بس کر کے رکھ دیا۔اُن کے فیصلے ہوا ہو کر رہ گئے۔ آج سب کچھ جوں کا توں چل رہا ہے۔ اب ظاہر ہے اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے کچھ تو کرنا ہے، سو آج کل کرپشن کے خلاف ویکسین شہباز شریف پر آزمائی جا رہی ہے،حالانکہ ہمیں اب مان لینا چاہئے کہ پاکستان میں کوئی ایسی ویکسین ایجاد ہی نہیں ہوئی، جو اُس کرپشن کا خاتمہ کر سکے جس نے ہمارے نظام کو اوپر سے لے کر نیچے تک مفلوج کر رکھا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -