کچھ فارن اور اپنے میڈیا کے بارے میں (1)

کچھ فارن اور اپنے میڈیا کے بارے میں (1)
کچھ فارن اور اپنے میڈیا کے بارے میں (1)

  

جو پاکستانی حضرات فارن پرنٹ میڈ یا میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی…… اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ زبان کی مغائرت ہے۔ ہمارے ہاں انگریزی پڑھنے پڑھانے والوں کی کمی نہیں ہوگی لیکن فارن میڈیا میں جن بین الاقوامی مسائل و معاملات پر کالم لکھے جاتے ہیں یا جن خبروں کو شرفِ طباعت بخشا جاتا ہے ان کی باگ ڈور سیاست کے ہاتھ میں ہے۔ اگر امریکہ کی بات کریں تو وہاں دو مین سٹریم سیاسی پارٹیاں ہیں جن کو ڈیمو کریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کہا جاتا ہے۔ امریکہ کا لوکل اور فارن میڈیا ان دو پارٹیوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ ہر پارٹی اپنے ترجمان (ماؤتھ پیس) کی فنڈنگ کرتی ہے۔ جوں جوں الیکشن نزدیک آتے ہیں ان میں ہر پارٹی اپنے صدارتی امیدوار کی کنویسنگ میں رات دن ایک کر دیتی ہے۔

”دی نیویارک ٹائمز“ ہمارے پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبون کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ (اتوار کو ناغہ کیا جاتا ہے) اس کی ہمدردیاں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ساتھ ہیں اس لئے جب سے صدر ٹرمپ برسرِ اقتدار آئے ہیں ان پر بڑی شدّ و مدّ سے تبرّیٰ تولّیٰ کیا جا رہا ہے۔ سارے کالم اور ساری شہ سرخیاں ٹرمپ کی ”مدح“ میں شائع کی جاتی ہیں۔ یہ اہتمام بین الاقوامی ایڈیشن میں بطور خاص مدنظر رکھا جاتا ہے۔

امریکی پرنٹ میڈیا کا ایک پہلو جو ہمارے لئے اہم اور سبق آموز ہے وہ یہ ہے کہ کوئی امریکی اخبار اپنے ملک کے سٹرٹیجک مفادات کی نفی نہیں کرتا۔ وائٹ ہاؤس میں خواہ ری پبلکن صدر بیٹھا ہو خواہ ڈیمو کریٹ، تمام اخبارات کے بین الاقوامی ایڈیشن ”باجماعت“ ملک کی اطاعت کی متفقہ پالیسی کا دم بھرتے ہیں۔ زیرِ نظر اخبار (دی نیویارک ٹائمز) کی بات کروں تو اس کے اندرونی اور بیرونی صفحات میں آپ کو امریکی سٹرٹیجک مفادات کی ہم نوائی نظر آئے گی۔ امریکہ کا پرانا دشمن تو روس تھا جو 1990ء سے پہلے سوویٹ یونین کہلاتا تھا لیکن جب سے چین نے پَر پُرزے نکالنے شروع کئے ہیں،امریکی میڈیا کا سارا زور چین کی ”تعریف و توصیف“ پر فوکس رہتا ہے۔ امریکی اخباروں کے نمائندے ماسکو اور بیجنگ میں تعینات رہتے ہیں۔ ان کے سارے اخراجات، ان کے مدر اخبارات (Mother News Papers) ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی ٹکسال بھی اپنا حصہ بقدر جثّہ اس میں ڈالتی ہے۔ روس اور چین کے دارالحکومتوں میں بیٹھے ان نمائندوں کا باقاعدہ ایک ہیڈ آفس ہوتا ہے جو ٹارگٹ کنٹری (چین اور روس) کے طول و عرض میں اپنے لوکل رپورٹروں کی ایک ٹیم ملک کے طول و عرض میں مقرر (Appiont) رکھتا ہے۔ اس ٹیم کا باقاعدہ بجٹ اخبار کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے۔ ان اخباری رپورٹروں کو اس بات کی باقاعدہ بریفنگ دی جاتی ہے کہ ٹارگٹ کنٹری کی کن کن کمزوریوں، قلتوں اور پوشیدہ، خوابیدہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر ناہے۔ جب ان میڈیا ہیڈکوارٹرز کی خبریں ماسکو اور بیجنگ سے امریکی ہیڈکوارٹرز (واشنگٹن، نیویارک، شکاگو، لاس اینجلز وغیرہ) میں پہنچتی ہیں تو وہاں بھی ایک مین ہیڈکوارٹر (Main HQ) قائم ہے جس میں دنیا کے مختلف خطوں کے سپیشلسٹ تجزیہ کار بیٹھے ہوتے ہیں جو ماسکو اور بیجنگ بیوروز سے موصول ہونے والی خبروں کو ایڈٹ کرتے ہیں۔ یہ سٹوریاں جب ایڈٹ ہو کر پریس میں جاتی اور گلوبل / بین الاقوامی ایڈیشنوں میں شائع ہوتی ہیں تو چونکہ ان سٹوریوں میں مقامات و اشخاص کے ناموں کی نشاندہی کی ہوتی ہے اس لئے اخبار کا قاری ان سٹوریوں کو حد درجہ قابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔ پاکستان میں جو حضرات (اور خواتین) پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہیں، ان کو ان ساری تفصیلات کا علم ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا ہمارا مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا بھی اسی پریکٹس کا پیروکار ہے۔نیوز چینل پر نمودار ہونے والی اینکر پرسن جب پاکستان کے کسی شہر کی خبر آن ائر کرتی ہے تو فوراً اس شہر میں اپنے نمائندے کو سکرین پر لاتی ہے اور اس سے وہی کچھ مکرر اگلواتی ہے جس کا خلاصہ اس نے اپنی زبان سے چند لمحے ادا کیا ہوتا ہے۔ یہ تکرار اس لئے کی جاتی ہے کہ ناظر اور سامع کو یہ یقین دلایا جائے کہ جو خبر یہ نیوز چینل دے رہا ہے اس میں سمعی بصری تفصیل کی Input بھی شامل ہے…… ہمارے قومی سطح کے اخبارات بھی اسی روش کے مقلّد ہیں لیکن ہمارے اخباروں کا بجٹ چونکہ بمقابلہ ای میڈیا، بہت کم ہوتا ہے اس لئے مختلف شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کے نمائندگانِ خصوصی کے اسمائے گرامی خبر کے ساتھ نہیں لگائے جاتے۔ فارن میڈیا میں چونکہ مالی معذوریوں کی رکاوٹیں شاذ و نادر ہی آتی ہیں، اس لئے وہ اخبارات اپنی روش پر چلتے رہتے ہیں …… اور ہمارے اخباروں کو تو آج کل سخت مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔

ماضی کے دو عشروں میں الیکٹرانک نیوز میڈیا نے جس طرح حکمرانوں کی مدح سرائی کی روش عام کی، جس تناسب سے میڈیا مالکان نے اپنی تجوریاں بھریں اور جس بے دردی سے اینکرز اور پروڈیوسرز نے اپنی اپنی شخصیات کے بت بنا کر ملک میں اپنا ایک حلقہ ء نیابت پیدا کیا،اس کی تفصیلات سوشل میڈیا کے توسط سے منظر عام پر آ چکی ہیں (اور آتی بھی رہتی ہیں) لیکن اس طرح کے گلچھرے پرنٹ میڈیا کے متعلقین کے حصے میں کم کم آئے اور آئے بھی تو ان کا دائرہ چند مالکان اور چند کلیدی عہدہ داراں تک محدود رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اب پرنٹ میڈیا سخت دشواری اور کساد بازاری کا شکار ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے کمرشلز تو بند نہیں ہوئے لیکن کم ضرور ہوئے ہیں۔ ان کا زیادہ زور واشنگ پاؤڈرز، بسکٹوں، جراثیم کش صابنوں اور چائے کی بعض برانڈ پر ہے۔ لیکن کہاں وہ بات کہ 20،25 منٹ کے اشتہارات کا (ہر 25منٹ کی معمول کی نشریات کے بعد) تانتا بندھا رہتا تھا اور کہاں اب یہ زبوں حالی کہ اس تانتے کے چند یادگاری سکے ہی باقی ہیں۔

حکومت کے ذمے پرنٹ میڈیا کا اربوں روپے کا بقایا ہے جس کی ادائیگی کی نویدیں گاہے بگاہے دی جاتی ہیں لیکن اس پروگرام پر بھی کورونا وائرس نے ڈاکہ ڈال دیا ہے۔ اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ یہ بقایا جات جلد ادا کئے جائیں اور حکومت کی طرف سے سرکاری اشتہارات کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اشتہار ساز کمپنیاں بھی گزشتہ دو سال سے کنجِ قفس میں مقید ہیں اور جو اداکار اور ماڈلز ان اشتہاروں کو بناتے تھے اور وہ صداکار جو فرفر اور تیز تر بولنے کا ایک ریکارڈ رکھتے تھے، وہ بھی ”بے روزگار“ ہو چکے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے وہ مالکان جن کے اپنے نیوز چینل نہیں ہیں، وہ حکومتی توجہ کے زیادہ مستحق ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ ان مالکان نے بھی اب اپنا قبلہ برطرفِ کج کلا ہے، راست کر لیا ہے اور حضرت امیر خسرو کے ہم نوا بننے کی طرف تیزی سے گامزن ہیں جنہوں نے حضرت نظام الدین اولیاء کی شان میں یہ شعر موزوں کیا تھا:

ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گا ہے

من قبلہ راست کردم، برطرفِ کج کلا ہے

(ہر قوم کا ایک سیدھا راستہ بھی ہوتا ہے، ایک دین اور ایک قبلہ ہوتا ہے۔ میں نے بھی آج ایک ”کج کلاہ“ کی طرف منہ کرکے اپنا قبلہ سیدھا کر لیا ہے…… کج کلاہ سے مراد حضرت نظام الدین اولیاء تھے!) (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -