کورونا وائرس خواتین، عید اور دیگر تقریبات

کورونا وائرس خواتین، عید اور دیگر تقریبات

  

دُنیا بھر میں گذرتے ہوئے دن اور اِن گزرتے دِنوں میں رونما ہونے والے واقعات میں اتنی تیزی اور عجلت ہے کہ نگاہ اِن پر ٹھہر رہی ہے، نہ ذہن اِن کا احاطہ کر پا رہا ہے۔ لوگ معیشت اور معاشرت کے مسائل سے نبرد آزما تھے کہ کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو اپنی دہشت کی لپیٹ میں لے لیا۔دُنیا کے سب ہی ممالک میں لاک ڈاؤن اس طرح وارد ہوا کہ مقبوضہ وادیء کشمیر کا لاک ڈاؤن قدرے دھیما پڑ گیا۔ تاہم مقبوضہ وادی کے لوگ بھارتی غاصبوں کے ہاتھوں نو ماہ سے جس طرح قید ہیں، دُنیا کے لوگوں کو اب اس کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مَیں گھر میں مقید تو ہوں، لیکن وطن ِ عزیز کی خواتین کو درپیش مسائل بارے میرا ذہن ادھیڑ بُن میں لگا رہتا ہے۔ وبا کی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ ماہِ رمضان کی ضروریات کے احساس کے تحت ضرورت مندوں کے لئے کچھ کر گزرنے کی دُھن سر پر سوار تھی، چنانچہ چند درد مند دِل رکھنے والی ساتھی خواتین کی معاونت سے اور خواتین کی ایک فلاحی عالمی تنظیم کے زیر سایہ اشیائے خوردنی کے پیکٹ تیار اور تقسیم کئے گئے۔ ربِ کریم کا شُکر ہے کہ اُس نے ہمیں اِس کارِخیر کی توفیق بخشی۔ ربِ ذوالجلال سے دُعا گو ہوں کہ وہ ہمیں ہمت عطا کرے کہ ہم اُس کے دیئے گئے رزق میں سے غریب اور نادار لوگوں کی مدد کر سکیں اور کرتے رہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ خواتین ایڈیشن کے ذریعے مَیں اپنے وطن کی عورتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔ اگرچہ اب باتیں بدلتے موسموں اور اُبھرتے فیشن کی نہیں رہیں۔اب تو اس مہلک وبا کا ذکر اور شور ہے کہ جس نے پوری دُنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اس نے نادیدہ خوف کی ایک ایسی چادر تان دی ہے کہ جس کے نیچے دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی برتی جا رہی ہے،لیکن صحیح حالات کا پتہ تب چلے گا جب وبا کا زور ٹوٹے گا اور زندگی معمول کی جانب آئے گی۔

تاہم اس وبا کا نتیجہ ہے کہ موسموں کے اُلٹ پھیر سے جنم لینے والی تقریبات بھی بے رنگ رہیں۔شادی بیاہ کی گہما گہمی تو دور کی بات، سماجی میل ملاپ میں بھی پریشان کن کمی واقع ہوئی ہے۔ کہاں میک اَپ پارلرز میں لڑکیوں اور خواتین کی آمدورفت اور ان کا ذوق و شوق اور کہاں اب گھروں میں بند ایک انجانے خوف سے خاموش اور فکرو پریشانی میں غلطاں۔ شادی کی رونقیں تو بالکل ہی ماند پڑ گئی ہیں تاہم سمجھ دار خاندانوں کا یہ فیصلہ کہ چند اہم لوگ اکٹھے ہوں اور بچی کو رخصت کر دیا جائے، ایک نئے سماجی رجحان کی نوید ہے۔ امریکہ کی ریاست شکاگو میں میرے ملنے والے رہتے ہیں۔اللہ کریم کا دیا سب کچھ ہے۔انہوں نے بیٹی کی شادی کے لئے شاندار انتظامات کئے تھے،ہزاروں ڈالر پیشگی ادا کر چکے تھے کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن نے ساری تقریبات کا خاتمہ کر دیا۔شادی کی تاریخ آئی اور گذر گئی۔ خیال تھا کہ حالات معمول پر آئیں گے تو رخصتی کر دیں گے، لیکن وقت کی سنگینی یکساں رہی۔بالآخر طے پایا کہ چند معتبر لوگ آئیں اور بچی کو لے جائیں۔ یوں ایک مختصر اور سادہ تقریب میں لڑکی کی رخصتی بخیرو عافیت انجام پائی۔ دونوں گھرانوں نے سُکھ کا سانس لیا۔ لڑکا اور لڑکی دونوں اپنے گھر میں آباد اور خوش ہیں۔رہی فیشن اور کیٹ واک کی باتیں تو وہ قصہ ئ پارینہ ہوئیں۔یوں لگتا ہے کہ ان کی کبھی ضرورت ہی نہ تھی، بس ایسے ہی فیشن کے کارپوریٹ مافیا نے ایک دھندہ بنایا ہوا تھا۔

بہرحال زندگی معمول کی جانب آئے گی یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ جس نے ابھی چھڑنا ہے۔کورونا وائرس نے بہت سی ایسی باتوں کو جنہیں ہم ناگزیر سمجھتے تھے، بے وقعت ثابت کر دیا اور بہت سی ایسی باتوں کو اُجاگر کیا کہ جنہیں ہم غیر ضروری قرار دیتے تھے۔خواتین سے میرا التماس ہے کہ وہ ان تمام تجربات و مشاہدات کو زندگی کا حصہ بنائیں جن سے اِن ایام میں وہ روشناس ہوئی ہیں۔ ہماری خواتین قومی و سماجی ترقی میں ایک فعال عنصر ہیں۔وہی بچے بڑے ہو کر مُلک کی باگ دوڑ بہ احسن و خوبی سنبھالتے ہیں کہ جنہوں نے دانش مند ماؤں کی گود میں پرورش پائی ہوتی ہے۔ اچھی مائیں بچوں کو زندگی کی قیمت (Price) نہیں قدر (Value) سکھاتی ہیں۔ کورونا کی وبا نے ایک مدت کے بعد گھرانوں اور خاندانوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی یلغار سے دور رہ کر آپس کے مسائل اور دُکھ درد کو سمجھ اور بانٹ سکیں۔ بے شک یہ ایک سنہری موقعہ ہے۔مَیں امید کرتی ہوں کہ ہماری خواتین جو ملک ِ عزیز میں امتیازی حیثیت رکھتی ہیں،اس موقعہ سے فائدہ اٹھائیں گی اور ایک ایسی نسل کی آبیاری کریں گی جو احسن و اعلیٰ اقدار کی مالک ہو گی اور جو ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لانے میں ممدو معاون ثابت ہو گی۔

ماہِ رمضان کا یہ آخری عشرہ ہے۔عید کی آمد کی وجہ سے لوگوں میں اضطرابی کیفیت ہے۔لاک ڈاؤن نرم کیا ہوا، ساری احتیاطی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں۔بازاروں میں سماجی دوری کے سارے نعرے عوام نے ہَوا میں اُڑا دیئے۔ بہرحال ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق عید کی تیاریوں میں مشغول ہے۔ تاہم سر پر کھڑی وبا کے پیش ِ نظر ان رویوں کو جن کا لوگ اظہار کر رہے ہیں ہم بہادری یا بے خوفی کا نام نہیں دیں گے،بلکہ بے عقلی، کم علمی، حماقت اور جہالت کہیں گے۔ لاک ڈاؤن کی نرمی کے دوران مَیں نے خواتین ہی کو لاپرواہی برتتے دیکھا ہے۔وہ سماجی دوری کے تصور سے عاری ہیں اور ماسک کے استعمال سے بھی گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ یہ رجحان کسی بہت بڑی آفت کا پیش خیمہ ہو۔ بہرحال عید تو منانی ہے،لیکن اسے بہتر طور پر بھی منایا جا سکتا ہے اگر ہم کورونا کی وبا کا خیال کرتے ہوئے ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں جو اس مہلک مرض کے حوالے سے ہمیں بتائی جا رہی ہیں۔اللہ کریم سے دُعا ہے کہ وہ پاکستان پر اپنا کرم فرمائے اور لوگوں کو ہدایت سے نوازے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -