پنجاب میں ٹرانسپورٹر تقسیم، ایک گروپ آج گاڑیاں چلانے پر تیار، دوسرے کا مسافروں میں کمی کی شرط ماننے سے انکار، آج سے شاپنگ مالز، پنجاب کی 26صنعتیں بھی کھولنے کا اعلان، عید، جمعہ کیلئے ایس او پیز کا فیصلہ

  پنجاب میں ٹرانسپورٹر تقسیم، ایک گروپ آج گاڑیاں چلانے پر تیار، دوسرے کا ...

  

 لاہور، مظفر آباد(خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے میں کورونا وائرس کے باعث پیدا صورتحال اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا، صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور آئی جی پولیس شعیب دستگیر سمیت اعلی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں آج سے کھلنے والے شاپنگ مالز اور بین الاضلاع پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا،۔ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کی جانب سے یوم علی کے موقع پر صوبائی وزیر قانون، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور انکی ٹیم کی جانب سے بہترین انتظامات کی تعریف کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا کہ تمام سول اور پولیس افسران کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ امید ہے افسران اسی جذبے اور محنت سے کام جاری رکھیں گے، جمعتہ الوداع اور عید الفطر کے موقع پر سکیورٹی اور دیگر انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجہ محمد بشارت نے کہا ہے کہ کسی ایک نے بھی ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو پوری مارکیٹ سیل کردی جائیگی‘ عید الفطر کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے،تاجر تنظیموں کی مدد سے ایس او پیز پر عملدر آمد کرایا جائے۔ ا نہوں نے کہا کہ جمعتہ الوداع، عید الفطر کی نماز کیلئے نئے ایس او پیزجاری ہونگے،پیرسے شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے ایس او پیزپرعملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں جمعتہ الوداع، عید الفطر کی نماز کے لئے ایس او پیزجاری کئے جانے کا بھی فیصلہ ہوا، چیف سیکرٹری جوادرفیق ملک نے اس موقع پر کہا کہ عید الفطر کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے،تاجر تنظیموں کی مدد سیایس او پیز پر عملدر آمد کرایا جائے،ایس او پیزکی خلاف ورزی پر پوری مارکیٹ کو سیل کیا جائے، بازاروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی بر داشت نہیں،ہفتے میں 4 دن کاروبار کی اجازت،3دن لاک ڈاون رہے گا۔چیف سیکرٹری جوادرفیق ملک کا مزید کہناتھا کہ ٹائیگر فورس کار آمد ہیومن ریسورس ہے، فائدہ اٹھایا جائے، آٹو موبیل انڈسٹری، پاور لومزکو کھولا جائے گا، مانیٹرنگ ٹیمیں فیکٹریوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کا معائنہ کریں گی۔ادھر پنجاب کے محکمہ صنعت و تجارت نے صوبے میں لاک ڈاون میں مزید نرمی کا باضابطہ نوٹیفیکشن جاری کردیا جس کے بعد صوبے میں مزید 26 سے زائد صنعتوں اوراداروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی منظوری کے بعد محکمہ صنعت وتجارت کی جانب سیجاری نوٹی فیکیشن میں مزیدصنعتی اداروں کو پیر 18 مئی سے کام کرنیکی اجازت دی گئی ہے۔ نوٹی فیکیشن کے مطابق صوبہ بھرمیں پاورلومز، ا?ٹوموبیل انڈسٹری کو کھول دیاگیاہے۔ سائیکل،موٹر سائیکل اورکار بنانے والے کارخانے بھی اپنا کام شروع کرسکیں گے۔نوٹی فیکیشن کے مطابق فوڈانڈسٹری، فلورملز، پولٹری فیڈملز، رائس ملزکوبھی کام کی اجازت ہوگی۔ لائیواسٹاک سے متعلقہ کاروبارکھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حفاظتی لباس،ماسک،گلوز تیار کرنے،اسٹوریج،پرنٹنگ،پیکنگ کے شعبے بھی کام شروع کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ دودھ اوردودھ سے بننے والی اشیا کی فیکٹریوں، سینی ٹائرز،صابن،ٹشو پیپر ز تیار کرنے والی فیکٹریز بھی کام جاری رکھ سکیں گی۔حکم نامے کے مطابق ا?ئل اینڈ گیس پرڈوکشن کمپنیوں، پاک عرب ریفائنری کمپنی،کھاد بنانے والے فیکٹریوں کو پرڈوکشن،ٹرانسپورٹیشن،اسٹوریج کی اجازت دی گئی ہے۔ٹریکٹر، تھریشر،ہارویسٹر بنانے والی کمپنیوں، بیج ،کھاد، زرعی ادویات،جانوروں کے چارے کی دکانیں بھی کھولنے کیاجازت ہوگی۔اس کے علاوہ اینٹوں کیبھٹے،ریت بجری،سیمنٹ،چھتیں تیارکرنے والے کارخانیبھی، سیمنٹ کی پیداوار، سپلائی، الیکٹر ک اپلائسنز کی سرگرمیاں بھی بحال کردی گئی ہیں۔دوسری طرف پنجاب میں ٹرانسپورٹرز دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ انصاف ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے گزشتہ رات ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کردیا ہے۔اس موقع پر ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حمید احمد نیازی بھی موجود تھے۔جبکہ ورکرز انصاف ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر شکیل اشرف بٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ لاری اڈ ہ پر گزشتہ رات ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے لاہور کے صدر مرزا شہزاد نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ کہا کہ حکومتی ایس او پی پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اور آج سے ٹرانسپورٹ کا پہیہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرایوں میں 15سے 20فیصد کمی کی جائے گی اور مسافروں سے نان اے سی ٹرانسپورٹ کا 15اور اے سی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 20 فیصد کمی کر کے کرایہ وصول کیے جائیں گے اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈمنسٹریٹر لاری اڈا۔انصاف ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری لاہور محمد خاقان عباسی۔ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حمید خان نیازی اور انصاف ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے شکیل اشرف بٹ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔مرزا شہز اد نے کہا کہ وہ حکومتی ایس او پی کو مانتے ہیں اور حکومت کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج سے ٹرانسپورٹ چلے گء اور اس میں حکومتی ایس او پی پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دو ماہ سے ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث گاڑیاں بند ہونے سے تباہ ہو چکی ہیں ٹرانسپورٹرز مقروض ہوچکے ہیں۔ڈرائیور اور کنڈیکٹرز کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال نے جنم لے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ایس او پی پر عمل درآمد کرتے ہوئے آج سے پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کردیا گیا۔تاہم اس میں مسافروں کو بھی چاہیے کہ وہ حکومتی ایس او پی پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں۔تاکہ کورونا جیسے جان لیوا مرض کا مقابلہ کرکے اس سے محفوظ رہ سکیں۔۔اس موقع پر لاری اڈا کے ایڈمنسٹریٹواحمد رضا بٹ بھی موجود تھے۔اس سے قبل آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چئیرمین عصمت اللہ نیازی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بتائے گئے ایس او پیز کچھ اور تھے اب نظر کچھ اور آرہے ہیں۔ ہماری مشاورت سے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔ہم نے کرایہ میں کمی منظور کرلی لیکن مسافروں کی تعدادمیں میں کمی قبول نہیں،پچاس فیصد مسافروں کیساتھ بسیں نہیں چلاسکتے۔اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر سے پنجاب بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان بنائے گئے ایس او پیز کے تحت گاڑیاں نہیں چلا سکتے۔ دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں 25 سے تیس فیصد کمی کا اعلان کیا،حکومت سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی کا مطالبہ کر دیا۔جنرل سیکرٹری پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن طارق نبیل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کرایوں میں 25 سے30 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے،،حکومت کرایوں میں کمی کے پیش نظرمارکیٹوں میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرائے،تاکہ عام عوام کو کرایوں میں کمی کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے،،ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوامی مفاد کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے طور پر کرایوں میں 30 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔دوسر ی طرف وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر میں لاک ڈاون میں دی جانے والی نرمی واپس لیتے ہوے لاک ڈاون سخت کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ فیصلہ کورونا کے بڑھتے ہوے کیسز کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ یہ احتیاطی اور حفاظتی اقدامات عوام کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھاے گئے ہیں اور عوام سے تعاون کی اپیل ہے۔ حالات اس ایسے نہیں کہ ہم عید کی شاپنگ کریں بلکہ اس سال عید سادگی سے منانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ رات 12 بجے سے آزادکشمیر بھر میں مکمل لاک ڈاون بحال کر دیا جائے گا۔ لاک ڈاون کے دوران اشیاء ضروریہ میڈیکل سٹور طے شدہ اوقات کار کے مطابق کھلے رہیں گے۔ عید تک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی عوام غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر نے کہا ہے کہ حکومت تاجروں کی بجائے کرونا سے لڑے، ہم ہر ممکن تعاون کریں گے۔ عوام کہتے ہیں حکومت کرونا کے نام پر پیسہ بٹور رہی ہے۔ حکومت کا بیانیہ پِٹ گیا تو تمام ملبہ تاجروں پر ڈال دیا گیا۔ ہم پہلے دن سے کہتے رہے کہ کاروبار چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کیلئے کھولا جائے۔ کس سائنسدان نے کہا ہے کہ کرونا ہفتے میں چار دن سویا رہتا ہے۔ کیا کرونا ہفتے میں تین دن اور شام پانچ بجے کے بعد کاٹتا ہے؟نعیم میر نے ان خیالات کا اظہار لاہور پریس کلب میں تاجر رہنماؤں کی کثیر تعداد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیااس موقع پر ملک امانت صدر لاہور،عمران بشیر، سہیل بٹ،شاہد نذیر،میاں خلیل عبیر، علی نصرت بٹ،شیخ عرفان اقبال،رانا سلیم، رضوان بٹ، شیخ ریحان، فاروق حفیظ، چوہدری قدیر، شبیر مقبول بھی موجود تھے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر کا مزید کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھلنے سے بڑے شہروں میں مزید رش بڑھے گا۔ مارکیٹوں میں پہلے ہی محدود وقت کی وجہ سے رش کنٹرول سے باہرہوچکا ہے۔حکومت نے عوام کو کم و بیش ساٹھ دن تک لاک ڈاؤن میں رکھا۔میڈیا بھی کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بارے میں مسلسل آگاہی دیتا رہا لیکن حکومت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ عوام نے کرونا وائرس کو سنجیدہ کیوں نہ لیا؟انہوں نے کہاکہ عوام نے کرونا وائرس پر ملکی سیاسی قیادت کو ایک پیج پر نہ پایااورکرونا وائرس پر ریاستی بیانیہ مسترد کردیا۔ وزیراعظم عمران خان خود بھی کنفیوڑ رہے اور عوام کو بھی کنفیوڑ کیااسی لئے آج عوام کہتے ہیں کوئی کرونا نہیں ے۔ نعیم میر نے کہا کہ حکومت نے محدود وقت اور محدود ایام کوختم نہ کیا تو بیماری پھیل سکتی ہے اس لئے حکومت بتائے کرونا پھیلانا ہے یا روکنا ہے۔محدود وقت کی وجہ سے بیماری پھیلی تو ذمہ دار حکومت ہوگی اس لئے حکومت فوری فیصلہ کرے۔دریں اثناپنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹرز کو اجازت کے بعد کراچی کے ٹرانسپورٹرز بھی میدان میں آ گئے کہتے ہیں تمام ایس اوپیز پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہیں، سندھ حکومت حتمی شکل دے کر ٹرانسپورٹ کھولے،دو ماہ کی بندش کے بعد کراچی کے ٹرانسپورٹرز کے صبر کا پیمانہ لبرز ہو گیا، صدر آل کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد ارشاد بخاری نے کہا ہے کہ حکومت ایس او پیز تیار کرے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔لاک ڈاون بندش سے شہر میں چلنے والی سات ہزار سے زائد بسوں کے ڈرائیورز، کنڈیکٹرز اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والا دیگر عملہ سخت پریشان ہے۔ سندھ کے ٹرانسپورٹرز نے اعلان کیا کہ اگر19مئی تک پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ از خود20مئی سے گاڑیاں سڑکوں پر لے آئیں گے، سندھ بس اور وین اونرس ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے تاحال ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت نہ دینے کے خلاف بدین بس اسٹاف پر احتجاج کیا اور حکومت سندھ کے عوام دشمن رویئے کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر سندھ بس وین ایسوسی ایشن کے رہنما منظور بروہی، افضل خان ودیگر نے کہاکہ حیدرآباد سے کراچی، بدین ٹھٹھہ، میر پور خاص، عمر کوٹ، جامشورو، مٹیاری دادو، نوابشاہ سمیت دیگرروٹس پر 18ہزار سے زائد مسافر گاڑیاں بند ہیں جس کے باعث عوام پریشان اور اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں مگر سندھ حکومت گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں دے رہی، لاک ڈاون کی وجہ سے مسلسل ٹرانسپورٹ بند ہے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے

اسلام آباد، کراچی، پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور اتوار کے روز آنے والے نئے متاثرین کے بعد ملک میں مجموعی طور پر مصدقہ کیسز 41 ہزار 152 جبکہ اموات 895 ہوگئی ہیں۔سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1423 نئے کیسز کا اضافہ ہوا۔۔سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 787 نئے کیسز اور 9 اموات کا اضافہ ہوا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 787 نئے کیسز کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 16377 ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد مجموعی اموات 277 تک پہنچ گئیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں اس وقت 114 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 31 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔پنجاب میں بھی کورونا وبا کے مریضوں میں 383 کا اضافہ ہوا جبکہ 7 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد ان نئے کیسز کے بعد 14584 ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مزید 7 اموات بھی ہوئیں جس کے بعد اب تک صوبے میں وبا کے باعث زندگی گنوانے والوں کی تعداد 252 ہوگئی۔ادھر خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید 214 کیسز اور 13 اموات سامنے آگئیں۔صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 214 متاثرین کا اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 6061 ہوگئی۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مزید 13 اموات بھی رپورٹ ہوئی اور مجموعی تعداد 318 تک پہنچ گئی۔اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 26 متاثرین سامنے آگئے۔سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ان نئے مریضوں کے بعد متاثرین کی تعداد 921 سے بڑھ کر 947 تک پہنچ گئی ہے۔ اتوار کے روزملک بھر میں کورونا سے پاکستان میں مزید 39 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد مجموعی تعداد 873 ہو گئی، ملک میں 40 ہزار 151 شہری وائرس کا شکار ہیں جبکہ 11 ہزار 341 افراد تندرست ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں 15 ہزار 590، پنجاب میں 14 ہزار 584 کیس رپورٹ ہوئے ہیں،خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 847 اور بلوچستان میں 2 ہزار 544 افراد متاثر ہیں۔ اسلام آباد 947، گلگت بلتستان 527 اور آزاد کشمیر میں 112 افراد کورونا میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے مزید ایک ہزار 352 کیس سامنے آئے ہیں۔کراچی جناح ہسپتال کے سینئر سرجن پروفیسر ایآر جمالی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا جنہیں نجی ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کردیا گیا، حفاظتی اقدامات کے باوجود بھی کورونا وائرس سینٹرل جیل کراچی پہنچ گیا۔ اب تک 40 قیدیوں اور عملے کے 3 ارکان کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ادھر کوئٹہ کے بازاروں میں آج بھی ایس اوپیز کی خلاف ورزی جاری ہے جس پر شہریوں اور دکانداروں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ پاک ایران سرحد سے پاکستانیوں کی آمد جاری ہے، مزید 38 پاکستانی تفتان بارڈر پہنچ گئے جنہیں سکریننگ کے بعد قرنطینہ منتقل کردیا گیااتوار کے روزخیبر پختونخوا میں 13،سندھ میں 9پنجاب مین7 بلوچستان میں 6اور گلگت بلتستان مین 4افراد کورونا کے باعچ جان بھق ہو گئے

پاکستان ہلاکتیں

لندن، واشنگٹن،نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کے پیش نظر عائد کی گئی بندشوں میں دنیا بھر میں بتدریج نرمی کی جارہی ہے لیکن وبا سے متاثرین اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔کورونا وائرس کے اعداد وشمار جاری کرنے والی ویب سائٹ ورلڈ میٹرز کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائس کے متاثرین کی تعداد 47 لاکھ 43 ہزار 444 ہوچکی ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 3 لاکھ 13 ہزار 704 ہوگئی ہے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 18 لاکھ 26 ہزار 290 ہے۔امریکا دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے لیکن اٹلی اور اسپین سمیت دیگر ممالک میں نئے کیسز کی شرح بڑی حد تک کمی آگئی ہے لیکن اسی دوران روس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔روس، کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اسپین، برطانیہ اور اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔تازہ اعداد وشمار کے مطابق روس میں مزید 9 ہزار 709 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 81 ہزار 752 ہوگئی ہے تاہم روس میں اموات کی شرح دیگر ممالک سے کم ہے۔روس میں اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2 ہزار 631 ہے اور 2 ہزار 300 افراد کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 67 ہزار 373 ہے جبکہ 2 لاکھ 11 ہزار 748 متاثرین اب بھی زیر علاج ہیں۔سری لنکا کی حکومت نے کورونا کے باعث عائد دوماہ طویل لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز کردیا ہے لیکن ہفتہ اور اتوار کو 24 گھنٹے کا کرفیو دوبارہ نافذ کردیا ہے۔سری لنکا میں گزشتہ ہفتے نجی کاروبار اور سرکاری دفاتر کھل گئے تھے تاہم حکام نے ہفتے کی رات کو دوبارہ کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا تاکہ لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے۔صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ کرفیو میں نرمی پیر کو ہوگی جبکہ ملک میں کورونا وائرس کنٹرول میں ہے۔سری لنکا میں کوروناوائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 960 ہوگئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔سنگاپورکے حکام نے کورونا وائرس کے مزید 682 کیسز کی تصدیق کی ہے۔سنگارپور کی وزارت صحت کے مطابق 682 نئے کیسز کے بعد ملک میں کورون وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 28 ہزار 38 ہوگئی ہے۔وزارت صحت کا کہنا تھا کہ نئے کیسز میں اکثر مہاجرمزدور ہیں صرف 4 مستقل رہائشی ہیں۔برازیل میں اموات کی لحاظ سے سب سے زیادہ تعداد والی ریاست ریو ڈی جنیرو میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بستر ختم ہوگئے ہیں۔ریاست کے سیکریٹری صحت کے مطابق جمعرات تک 369 افراد آئی سی یو میں منتقل ہونے کے لیے انتظار میں تھے۔رپورٹ کے مطابق ساؤ ہوزے کے اس ہسپتال کا افتتاح 4 مئی کو ہوا تھا، اور اس کے 128 بستروں میں سے زیادہ تر بھر چکے ہیں۔برازیل میں اس بیماری سے اب تک 15000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد شاید کافی زیادہ ہے۔جنوبی کوریا سے اتوار کو کورونا وائرس کے پانچ نئے متاثرین سامنے آگئے اور ان تمام کا تعلق دارالحکومت سیؤل میں لوگوں کے اس گروہ سے ہے جن میں شراب خانوں اور نائٹ کلبز سے کورونا پھیلا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کئی ہفتے تک ملک میں کورونا کا کوئی ماقمی مریض سامنے نہ آنے کے بعد جنوبی کوریا نے 6 مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی تھی مگر سیؤل میں نائٹ کلبز کے علاقے سے وبا کی چھوٹی سی لہر کے دوبارہ سر اٹھانے پر حکام سوچ میں پڑ گئے۔طانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انگلینڈ کی جانب سے کورونا وائرس میں کی گئی پیچیدہ نرمیوں پر عوام کی بے چینی سے آگاہ ہیں۔دی میل آن سنڈے کے لیے اپنے کالم میں وزیرِ اعظم نے لکھا کہ وبا کے خلاف لڑائی کے اگلے مرحلے میں مزید گہرائی کے حامل پیغامات کی ضرورت ہوگی۔انھوں نے کہا کہ انھیں برطانوی عوام کے شعور پر یقین ہے کہ وہ نئے قواعد کی پاسداری کریں گے اور انھوں نے ساتھ دینے کے لیے عوام کا شکریہ ادا کیاجاپان میں ایک لیبر یونین کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووِڈ-19 کے خلاف صفِ اول پر برسرپیکار ڈاکٹروں کو کام کرنے کے دشوار حالات کا سامنا ہے، کئی ڈاکٹروں کو استعمال شدہ ماسک بار بار پہننے پڑ رہے ہیں، کچھ ہی ڈاکٹروں کو خصوصی مشاہرہ دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس سروے میں اپریل کے اواخر سے چھ مئی تک 170 ڈاکٹروں کی رائے لی جس میں یہ پایا گیا کہ تین چوتھائی ڈاکٹروں کو فرنٹ لائن پر کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا جبکہ 80 فیصد ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں اس کام میں موجود خطرے کے حوالے سے کوئی خصوصی مشاہرہ ادا نہیں کیا گیا۔کچھ جاپانی ڈاکٹروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی اور مقامی حکومتوں کو ہسپتالوں اور طبی عملے کو مالی امداد اور حفاظتی سامان پہنچانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔فلپائن کے محکمہ صحت نے اتوار کو کورونا وائرس کے 208 مزید متاثرین اور سات مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد فلپائن میں متاثرین کی کْل تعداد 12 ہزار 513 ہوگئی ہے جن کی سب سے بڑی تعداد دار الحکومت منیلا میں ہے،اس کے علاوہ ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 824 ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 2635 ہے۔ایران نے اتوار کو مزید 1806 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی تصدیق کی ہے۔ ایران میں اس وائرس سے متاثرین کی تعداد 120198 ہو گئی۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -