قرنطینہ کے 17 روز مشکل ضرور تھے لیکن بْرا تجربہ نہیں، گورنر سندھ

  قرنطینہ کے 17 روز مشکل ضرور تھے لیکن بْرا تجربہ نہیں، گورنر سندھ

  

کراچی (این این آئی) گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کورونا وائرس سے متاثر ہو کر قرنطینہ میں گزارے گئے 17 دنوں کو نئی دنیا سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن مشکل ضرور تھے لیکن برا تجربہ نہیں تھا۔گورنر سندھ کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گورنر عمران اسمٰعیل نے قرنطینہ میں گزرے 17 دنوں کے تجربے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا انجام صرف موت ہی ہو کیونکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس کو شکست دے سکتے ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ اس بیماری میں جڑی بوٹیوں کا استعمال مفید ہوتا ہے، مجھے ثنا مکی اور ادرک کے پانی کے استعمال سے بہت فائدہ ہوا اور اس وائرس کی علامات سے نجات ملی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ کورونا وائرس کا کوئی مخصوص علاج نہیں اس لیے آپ کو مسلسل اپنے معالج سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے اور اپنے آکسیجن پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور اگر یہ 92 سے نیچے جاتی ہے تو خطرناک ہے، اس سے اوپر ہونا چاہیے۔گورنر سندھ نے کہا کہ قرنطینہ کا عرصہ خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس سے قبل گزری زندگی کے بارے میں غورو فکر کرکے مستقبل کے لیے لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ قرنطینہ کے دوران خالق حقیقی سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی عنایات، نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگنے کا موقع ملتا ہے۔۔گورنر سندھ نے کہا کہ میرے لیے یہ عرصہ بہت مشکل ضرور تھا، لیکن بْرا تجربہ نہیں تھا کیونکہ قرنطینہ کے دوران ایک نئی دنیا کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھرپور ایمان ہے کہ اللہ نے ہر چیز کسی نہ کسی مصرف کے لیے بنائی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کورونا ہوجائے تو ہمت نہ ہاریں، اس کا مقابلہ کریں کیونکہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح بہت کم ہے

گورنرسندھ

مزید :

صفحہ اول -