پیر سے ہفتہ چھ روز اور چوبیس گھنٹے دکانیں، شاپنگ مالز کھول دیئے جائیں

      پیر سے ہفتہ چھ روز اور چوبیس گھنٹے دکانیں، شاپنگ مالز کھول دیئے جائیں

  

  کراچی(این این آئی)چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدرکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم تیلی نے سندھ حکومت پر زور دیا ہے کہ صوبے میں جاری لاک ڈاؤن کو رمضان المبارک کے آخری ہفتے کے دوران مکمل طور پر ختم کر کے دکانوں اورشاپنگ مالز کو ہر روز24 گھنٹے کاروبار کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے جس سے نہ صرف مختلف کمرشل مارکیٹوں میں محدود اوقات کی وجہ سے لگنے والی بے پناہ بھیڑ کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ چھوٹے تاجر اور دکاندار بھی23 مارچ سے جاری طویل المیعاد لاک ڈاؤن کے باعث ہونے والے نقصانات کا کسی حد تک ازالہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ایک بیان میں سراج تیلی نے زور دیا کہ لاک ڈاؤن میں پیر سے ہفتے تک چھ روز کے لئے مکمل نرمی کرنی ہی ہوگی تاکہ کراچی والے بنا کسی مشکل، جلدبازی اور پریشانی کے کمرشل مارکیٹوں میں جاسکیں جبکہ دکاندار بھی بھیڑ سے پاک ماحول میں اپنے کسٹمرز کو ڈیل کریں جس کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے جو کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو موئثر طریقے سے روکنے کے لئے انتہائی اہم حفاظتی اقدام ہے۔بعد ازاں، سندھ حکومت کے اعلان کے مطابق عیدالفطر کی چھٹیوں سے لے کر 31مئی تک مکمل طور پرلاک ڈاؤن کو دوبارہ نافذ کردیا جائے جبکہ یکم جون اور اس کے بعد مجموعی صورت حال کا جائزہ لے کر سندھ حکومت اُسی فارمولے کے تحت چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو پیر سے جمعرات ہفتے میں چار دن کاروبار کرنے کی اجازت دے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز لاک ڈاؤن کو لاگو رکھا جائے۔سراج تیلی نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے سندھ حکومت کے اقدامات بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سخت محنت اور کاوشوں کو سراہا تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ بدقسمتی سے پچھلے ہفتے جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو یہ بات مشاہدے میں آئی کہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں نے باہمی رضامندی کے بعد طے شدہ ایس او پیز کو مجموعی طور پر نظر انداز کرکے سندھ حکومت سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے پریمئر چیمبر اور پوری تاجر وصنعتکار برادری کا حقیقی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کراچی چیمبر کو چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور صنعتکاروں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر کافی تشویش ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ عوام کی زندگیوں کی بھی اُتنی ہی پرواہ ہے کیونکہ ہم کسی بھی قیمت پر معصوم عوام کی زندگیوں کے عیوض کاروبار چلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے جو کسی بھی وقت اس جالیوا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں لہذا یہ ہر ایک کی ا خلاقی و سماجی ذمے داری ہے کہ ان ایس او پیز پر عمل پیرا ہو۔ انھوں نے کراچی شہر کی تمام کمرشل مارکیٹوں کے چھوٹے تاجروں و دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ عید الفطر کے شاپپنگ سیزن کے بقیہ دنوں کے دوران سختی سے تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کریں کیونکہ ان ایس او پیزمیں کسی بھی قسم کی غفلت برتنے سے تباہ کن صورت حال پیدا ہوگی جو پہلے ہی کافی خراب ہے اور ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہدوسری جانب شہریوں کو بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے ضروری حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر کرونا وائرس کی جان لیوا وبا کو شکست دے سکیں اور اپنے ملک کو مزید تباہی سے بچا سکیں۔سراج تیلی نے کہا کہ پہلے دن سے ہی وہ بار بار دہرا رہے ہیں کہ کرونا وائرس کہیں جانے والا نہیں اور یہ کچھ وقت ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہے۔

سراج قاسم

مزید :

علاقائی -