کیا کرپٹ پولیس افسران کا محاسبہ ہونا چاہیے؟

کیا کرپٹ پولیس افسران کا محاسبہ ہونا چاہیے؟
کیا کرپٹ پولیس افسران کا محاسبہ ہونا چاہیے؟

  

پاکستان کی ترقی وخوشحالی میں جہاں دہشت گردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہی کرپشن، قومی خزانے کی لوٹ مار، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت خوری اور جعلسازی نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ملک سے کرپشن اور رشوت خوری کے خاتمے کیلئے نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ادارے کام کر رہے ہیں لیکن افسوس ان اداروں کی کارکردگی انتہائی مایو س کن رہی، کرپٹ افسران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے بنائے جانے والے یہ ادارے خود کرپٹ افراد کا آلہ کار بن گئے اور پنجاب بھر کے بلیک میلروں کیلئے یہ ادارے سونے کی چڑیا بنے ہوئے ہیں۔ہمیشہ کی طرح آج بھی یہ ادارے بلیک میلر افراد افسران سے مل کر جھوٹی درخواستوں کے ذریعے سرکاری افسران اور سادہ لوح شہریوں کو پہلے بلیک میل کرتے ہیں اور کئی ماہ تک شہریوں اور سرکاری افسران کو خوار کرنے کے بعد اپنے تمام مطالبات منواتے ہیں۔ معاملات طے ہونے پر اگلے شکار کی طرف بڑھتے ہیں پھر دوبارہ دیگر افسران اورشہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں کئی سالوں سے یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے جبکہ متعدد سیاستدان ان اداروں کو سیاسی اور مالی فوائد کیلئے بھی استعمال کر رہے ہیں ایکشن سے پہلے ہی کیس روک دئیے جاتے ہیں اینٹی کرپشن کی کاروائی صرف درجہ چہارم کے ملازم سے لیکر 16ویں سکیل کے ملازم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور کانسٹیبل سے لیکر ایس ایچ اوز اور پٹواریوں کیخلاف کیسز اور مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ اینٹی کرپشن کی کارکردگی کا جائزہ اس بات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جس اینٹی کرپشن میں 60 فیصد سے زائد افسران و اہلکاروں کی سیٹیں خالی ہوں اس میں کام کرنے کی کیا صورتحال ہو گی جبکہ موجودہ افسران میں 80 فیصد انوسٹی گیشن افسران ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں ہے۔

زیادہ تر افسران و اہلکار اپنے محکموں کے سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اپنے محکموں کی انکوائریوں اور مقدمات میں ملوث اہلکاروں اور افسران کی سفارشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی کبھی کسی کرپٹ مافیا کا انکشاف ہو تا ہے توکوئی یقین سے یہ بات نہیں کر سکتا کہ اب اس کا گھیراؤ کر لیا جائے گا کیونکہ گھیراؤ کرنے والے اداروں کی کاکردگی پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔احتساب کے یہ ادارے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو ان اداروں کی کا رکردگی کو فوکس کرکے بہتری کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔پاکستان میں آئے روز بڑھتی ہوئی کرپشن کا براہ راست اثر غریب آدمی پر پڑ رہا ہے جس سے اس کا معیار زندگی دن بدن گر رہا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ پونے دوبرس سے برسراقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔لیکن ایک عام تاثر یہ ہے کہ اداروں میں کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ کرپشن پہلے سے بڑھی ہے اقتدار میں موجود سیاستدانوں ان کے رشتے داروں،بیوروکریٹس اور پولیس افسران پر ملک کو بے دریغ لوٹنے کا الزام ہے۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ ان کرپٹ عناصر کا محاصبہ نہیں کیا جاتا جس سے ہمارے ادارے آہستہ آہستہ کھوکھلے ہو تے جارہے ہیں۔ ان دنوں ڈی پی او ساہیوال کی خبریں بڑی سرگرم ہیں۔ڈی پی او ساہیوال امیر تیمور ایک اچھے اور تجربہ کار پولیس آفیسرز ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے انھیں بطور ڈی پی او تعینات کیا جارہا ہے موجودہ دور حکومت میں ہی نہیں وہ اس سے پہلے بھی کئی زمہ دار عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ان دنوں وہ سنگین الزامات کی ضد میں ہیں جس کے بعد محکمہ پولیس میں ایک بھونچال کی صورتحال ہے۔

ڈی پی او کی زمہ داری پورے ضلع کو کنٹرول کر نا ہو تا ہے ایک کمانڈر کے حوالے سے اس طرح کے شکوک و شبہات ادارے کا مورال ڈاؤن کر نے کے ساتھ یہ واقعہ وزیر اعلی پنجاب کی اپنی بدنامی کا باعث بھی بن رہا ہے کیونکہ امیر تیمورڈی پی او کے پھوپھا بھی ہیں،وزیر اعلی پنجاب عمران خان کے بااعتماد ساتھیوں میں شامل ہیں،اس حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کو فوری نوٹس لیتے ہوئے امیر تیمور پر لگنے والے واقعات کی غیر جانبدار انکوائری کروانی چاہیے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اس سے ادارے میں پائی جانی والی بے چینی کا خاتمہ ہو گا اور ان کے سیاسی مخالفین کے منہ بھی بند ہو جائیں گے۔امیر تیمور اگر بے گناہ ہیں تو انھیں بھی خود کو احتساب کے لیے پیش کر دینا چاہیے،پاکستان میں محکمہ پولیس کے متعلق عوام کی رائے اچھی ہو، ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے۔. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے۔

مزید :

رائے -کالم -