ریفنڈ ز رقو م کی ٹیکسوں میں ایڈ جسٹ کیا جائے: اسلام آباد چیمبر

ریفنڈ ز رقو م کی ٹیکسوں میں ایڈ جسٹ کیا جائے: اسلام آباد چیمبر

  

اسلام آباد ( پ ر ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ تاجر وصنعتکاربرادری کے اربوں روپے کے ریفنڈز ایف بی آر میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو آئندہ بجٹ میں دیگر ٹیکسوں میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے جس سے کاروباری طبقے کے مسائل کم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جون کے پہلے ہفتہ میں حکومت سالانہ بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ میں تاجروصنعتکار برادری کی طرف سے بھیجی گئی تجاویز کو شامل کیا جائے۔ کروناوائرس کی وجہ سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ معیشت کی ترقی منفی ہونے جا رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبا رتقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کاروباری طبقے کیلئے اعلان کردہ ریلیف بھی ابھی تک کسی کو نہیں ملا۔ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز رکے ہوئے ہیں جبکہ 2015کے ریفنڈز کی ادائیگی بھی ابھی تک نہیں ہوئی جس کی وجہ سے صنعتی شعبے کو لیکوی ڈیٹی کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کاروبار دوبارہ بحال کرنے میں سالہاسال لگ سکتے ہیں۔ تاجروصنعتکار موجودہ حالات میں ٹیکس کی رقوم بھی باآسانی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان حالات میں ایف بی آر کو چاہیے کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفینڈز کو کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دے اور اگر اس تجویز کو بجٹ میں شامل کر دیا جائے تو بزنس کمیونٹی کو بہت سہولت ہو گی۔ محمد احمد وحید نے وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طورپر اس امر کی نگرانی کریں کہ تاجر برادری کی طر ف سے بھیجی گئی بجٹ تجاویز کو ردی کی ٹوکری کی زینت بننے کی بجائے بجٹ میں شامل کیا جائے اور ایف بی آر میں امپورٹرز کے پھنسے ہوئے ریفنڈز کو دیگر ٹیکسوں میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔

جس سے بزنس کمیونٹی کے مسائل کم ہوں گے اور کاروبار کی لاگت میں بھی کمی واقع ہو گی۔

مزید :

کامرس -