شجاع آباد: سینئر صحافی صادق وینس کرونا کا شکار ہوکر جاں بحق

  شجاع آباد: سینئر صحافی صادق وینس کرونا کا شکار ہوکر جاں بحق

  

ملتان، شجاع آباد، ڈہرکی (نمائندہ خصوصی، نامہ نگار) شجاع آباد کا سینئر صحافی حاجی محمد صادق وینس کرونا وائرس کا شکار ہونے والا نشتر ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے مرحوم کی میت ایمبولینس میں ان کے آبائی گاؤں موضع ماڑھا شجاع آباد میں لائی گئی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم کو ان کے آبائی قبرستان بستی ماڑھیں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں نماز جنازہ میں حفاظتی کٹس میں موجود لوگوں نے (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

اور اہل علاقہ نے کافی وقفہ سے کھڑے ہو کر نمازجنازہ میں شرکت کی اس موقع پر نماز جنازہ میں موجود لوگوں پر حفاظتی سپرے کیا گیا حفاظتی کٹس میں ملبوس لوگ آگے والی صفوں میں موجود تھے جبکہ باقی لوگ پیچھے صفوں میں کافی فاصلہ پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھا میت کو ایمبولینس میں رکھا گیا بعد ازاں لوگوں کے جانے کے بعد ایمبولینس کو قبرستان لے جا یا گیا اور مرحوم کو حفاظتی کٹس میں ملبوس لوگوں نے انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے اس موقع پر سابق رکن قومی اسمبلی رانا شوکت حیات نون، رکن قومی اسمبلی محمد ابراہیم، رکن صوبائی اسمبلی رانا اعجاز احمدنون، سابق وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ، سید مجاہد علی شاہ سابق ایم پی اے، سید واجد علی شاہ نے حاجی صادق وینس مرحوم کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کیا انہوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مرحوم ایک ملنسار خوش اخلاق انسان تھے مرحوم حاجی صادق وینس انسانیت سے محبت کرنے والا انسان تھا اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے پریس کلب شجاع آباد کے صحافیوں نے گہرے غم دکھ کا اظہار کیا اس موقع پر صحافیوں نے کہا کہ حاجی محمد صادق وینس شجاع آبا دکا سرمایہ تھے ان کی صحافتی سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مرحوم ہنس مکھ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مالک تھے اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ ادھریکم اپریل سے 17 مئی کے درمیان نشتر ہسپتال میں کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 56ہو گئی ہے جبکہ نشتر ہسپتال کے چھ آئی سو لیشن وارڈز میں اس وقت کورونا میں مبتلا 32مریض زیر علاج ہیں جبکہ 01مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،جبکہ کورونا کے شبہ میں 18مریض زیر علاج ہیں,جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔جبکہ نشتر ہسپتال انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث 28 ڈاکٹروں سمیت 07 نرسز اور پیرا میڈیکس پہلے کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں تاہم اب پاک اٹالین ماڈرن برن یونٹ کے انتظامی افسران کی نا اہلی کے باعث طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم نہیں کی جا سکی جس کے باعث برن یوں ٹ کے 05ڈاکٹر،ڈاکٹر عامر،ڈاکٹر حمزہ،ڈاکٹر ماریہ، ڈاکٹر ارسلان اور ڈاکٹر شہر بانو کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ 03 سٹاف نرسوں سلمی،مسرت اور مریم میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی ہے،زرائع کے مطابق برن یونٹ کی 11نرسز اور 02 مزید ڈاکٹروں کو کورونا کے شبہ میں آئی سو لیٹ کر کے ان کے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے،ادھر برن یونٹ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں گھوٹکی محلہ شمس آباد ک سولہ سالہ نوجوان ارسلان ولد الطاف راجپوت بجلی والے کے نوجوان بیٹے کو چار روز قبل انتہائی تشویشناک حالت میں پنجاب کے شہر رحیمیارخان کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جو زندگی کی بازی ہار گیا گھوٹکی پولیس اور محکمہ صحت کے افسران ایم ایس ڈاکٹر فیاض راجپوت ایم ایس ' ڈاکٹرارباب ملک اور محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر آصف کلوڑ ودیگر عملہ کے ہمراہ کرونا کی حفاظتی کٹ میں عملے نے نوجوان کو خاکی شاہ قبرستان میں تدفین کردی ہے جبکہ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نوجوان کی موت کرونا وائرس سے نہں ں بلکہ وہ عرصہ دراز سے شوگراور دیگر امراض میں مبتلا رہا ہے جس کے باعث اسکی موت واقع ہوئی ہے انتظامیہ نے نوجون کی موت کو بلاوجہ کرونا میں ظاہر کیا ہے۔

صحافی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -