ٹانک، منظور رشدہ فنڈز پروزیر اور محسود قبائل کے مابین خونریز تصادم کا خدشہ

ٹانک، منظور رشدہ فنڈز پروزیر اور محسود قبائل کے مابین خونریز تصادم کا خدشہ

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان سالانہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے منظور شدہ فنڈز پر وزیر اور محسود قبائل کے مابین خون ریز تصادم کا خدشہ، ڈیڈک کمیٹی کے چئیرمین قومی تعصب پر ترقیاتی سکیموں کو تقسیم کررہے ہیں،عمائدین محسود قبائل،تفصیلات کے مطابق سالانہ ترقیاتی منصوبے(اے ڈی پی) کیلئے صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے مختض اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ کی غیر منصفانہ تقسیم پر وزیر اور محسود قبائل کے مابین خون ریز جھڑپ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جنوبی وزیرستان ڈیڈک کمیٹی کے چئیرمین نصیر اللہ وزیر پر محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین ملک بانوت، ملک خٹک، سردار مصطفی اور دیگر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں تین حصہ آبادی محسود اور ایک حصہ آبادی احمدزئی وزیر قبائل کا ہے اور سابقہ انگریز دور سے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم نیکات سسٹم کے تحت ہوتی تھی لیکن موجودہ وقت ڈیڈک کمیٹی کے چئیرمین کا تعلق وزیر قبائل اور برسراقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ حالیہ اے ڈی پی میں اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ آٹھا کر اکٹریتی محسود قبائل کو ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کرکے قومی تعصب پر وزیر قبائل کو نواز رہے ہیں، قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ محسود قبائل کے علاقے سے پاس ہونے والے ایم پی اے جن کا تعلق پی ٹی ائی سے نہیں ہے اس لئے منتخب نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز نہیں دے رہے ہیں جو 10 لاکھ آبادی پر مشتمل محسود قوم سے زیادتی ہے، عمائدین کا کہنا تھا کہ محسود قبائل نے اپریشنوں کی وجہ سے ملکی مفاد کی خاطر گزشتہ پندرہ سالوں سے نکل مکانی کرکے اندرون ملک مہاجرین جیسی زندگیاں گزاری اور اب ترقی کے عمل میں محسود قوم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، عمائدین نے ڈیڈک کمیٹی کے چئیرمین پر ترقیاتی منصوبے کمیش کے عوض بیچنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز پر بارہ فیصدسیل کی دوکانداری لگی ہوئی ہے، مشران نے صوبائی وزیر اعلی سے ترقیاتی فنڈز میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور غیر منصفانہ تقسیم کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا بصورت دیگر محسود قبائل کے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں کرنے دینگے اور ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کیلئے خود نبردآزما ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -