تن سازی کلبوں کے کو کھولنے اورمالی پیکیجز کی فراہمی کا مطالبہ

  تن سازی کلبوں کے کو کھولنے اورمالی پیکیجز کی فراہمی کا مطالبہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر) پشاور کے تن سازی کلبوں کے کوچز نے حکومت سے مالی پیکیج کی فراہمی اور کلبوں کو فوری کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا ہے تین ماہ سے کلبوں کی بندش سے لاکھوں روپے کا کرایہ سر چڑھ گیا ہے جسے ہر حال میں ادا کرنا ہے جو اگر مزید بڑھ گیا تو کلب بند کرنا پڑیں گے یہ باتیں گزشتہ روز ایشین جیم بازار کلاں میں سعیدالرحمان کی سرپرستی میں منعقدہ اجلاس کے دوران کہی گئیں اجلاس کی صدارت سابق ناظم حاجی ہدایت اللہ نے کی جبکہ اجلاس میں پاکستان ریلوے کے عدیل خان،کشور جیم کے کوچ کشور علی، شہباز جیم کے عنایت اللہ خان،بوم بوم جیم کے محمد یوسف،سرفراز جیم کے سرفراز خان، لائف فٹنس جیم کے عطاء اللہ، ایس ایس جیم کے شبیر خان،اولمپیاء جیم کے سید شاہ،ٹاپ جیم کے فقیر شاہ، با با جیم کے محمد خان،رائل جیم کے صدیق،پاور ہاؤس جیم کے مختیار،فواد جیم کے فواد خان اور پشاور کے مختلف کلبوں کے کوچز نے کثیر تعدا میں شرکت کی اجلاس میں حکومت کیساتھ اپنے مسائل کے حل کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کا صدر حاجی ہدایت اللہ کو چن لیا گیا جبکہ سعیدالرحمان،کشور علی، سرفراز خان اور عنایت اللہ بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں اجلاس میں کہاگیا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں تن سازی کے کلبز اوپن ہیں اور ان میں صحت مندانہ سرگرمیاں جاری ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں جو کہ امتیازی سلوک ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے تمام کلبوں کو ایس او پیز جاری کئے جائیں ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا ہم سوشل ڈیسٹینس کی مخالفت نہیں کرتے نہ ہی حفاظتی تدابیر کے خلاف ہیں تاہم ہمیں بھی جینے کا حق دیا جائے اور کم از کم دوپہر دو بجے سے رات 12بجے تک جیم کھولنے کی اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ کلبوں کی بندش ہمارے معاشی قتل کے مترادف ہے اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے تو ہم احتجاجاً کسی بھی انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کریں گے جس کی تمام تر ذمہ دار انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -