لاک ڈاؤن میں نرمی سے وائرس پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے: محمود خان

لاک ڈاؤن میں نرمی سے وائرس پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے: محمود خان

  

ا پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی کی وجہ سے کورونا وباء کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اس لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت بھی اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے لہذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے معمولات زندگی خصوصاً بازاروں میں خریداری کرتے وقت احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھیں، یہ اس وباء سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کا واحد موثرذریعہ ہے اور یہی ہم سب کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ صوبے کے باشعور شہری اپنوں، اپنے پیاروں اور دوسروں کو اس مہلک وبا ء سے محفوظ بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں گے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ حکومت نے موجودہ صورتحال میں لوگوں اور خصوصا معاشرے کے کمزور طبقوں کو درپیش مالی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیاہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ وبا ختم ہو گیا ہے اور حالات معمول پر آگئے ہیں بلکہ اب اس وبا کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے لہذا عوام کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔ وزیر اعلی نے مزید کہا ہے کہ ہم صوبے کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کے پیش نظر ہرچیز کو مکمل طور پر بند نہیں رکھ سکتے کیونکہ ہمیں کورونا وباء کی روک تھام کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لئے معیشت اور کاروبار زندگی کا پہیہ بھی چلانا ہے اس لئے ان دونوں صورتحال کے درمیان توازن کو برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہم پر اپنا خصوصی رحم و کرم کرے اور مستقبل قریب میں یہ وباء ختم ہو جائے بصورت دیگر ہمیں اس وبا ء کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہوگا اور اپنے سماجی عادات و اطوار کو بدلنا ہوگا۔ وزیر اعلی نے تاجر برادری اور کاروباری حضرات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مشروط طور پر کھولے گئے بازاروں میں احتیاطی تدابیر اور سماجی رابطوں کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں انتظامیہ کو مجبورا ان متعلقہ مارکیٹوں کو سیل کرنا ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -