" ہم نے مختلف موبائل فونز کا تجزیہ کیا اور ان کی سطح پر۔۔۔" کورونا وائرس ، ماہرین نے صارفین کو خبردار کردیا

" ہم نے مختلف موبائل فونز کا تجزیہ کیا اور ان کی سطح پر۔۔۔" کورونا وائرس ، ...

  

دبئی(ویب ڈیسک)دبئی پولیس کے ایک سائنسدان نے گزشتہ روز گلف نیوز کو بتایا کہ موبائل فون کورونا وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہیں اور امکان ہے کہ یہ آپ کے علم میں آئے بغیر کسی مرض کو گھر میں لے جانے والا ایک ٹروجن ہارس ہوں۔عالمی وبائی مرض کووڈ19 کے دوران، جس نے اب تک 4.6 ملین سے زائد افرادکو متاثر کیا ہے ، سائنس دان نے کہا کہ فون وباءکے پھیلاﺅ اور آلودگی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔دبئی پولیس میں محکمہ برائے فارنسک سائنسز اینڈ کرمنولوجی کے ڈائریکٹر ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میجر ڈاکٹر راشد الغفری نے آسٹریلوی یونیورسٹیز کے متعدد سائنسدانوں کے ایک گروپ کے ساتھ تحقیق کی جس میں یہ ثابت ہوا کہ موبائل فون کووڈ 19 سمیت دیگر جراثیم کی منتقلی کے لئے ایک راستہ پیش کرتے ہیں جس میں کووڈ19 بھی شامل ہے۔

میجر ڈاکٹر راشد الغفری نے کہا کہ ہم نے مختلف موبائل فونز کا تجزیہ کیا اور ان کی سطح پر سیکڑوں جراثیم پائے۔موبائل فونز کی اوپری سطح متعدی جراثیم جیسے بیکٹیریا اور کووڈ 19 وائرس رکھتے ہیں۔ فونز ٹروجن ہارس ہیں جو ممکنہ طور پر وبائی امراض میں کمیونٹی ٹرانسمیشن میں معاون ہوں گے۔تحقیق کے مطابق ، فونز کے ذریعے متعدی جراثیم کی یہ منتقلی لوگوں کی صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ انفیکشن فون کے ذریعے کام کے مقامات ، عوامی نقل و حمل ، بحری جہاز اور ہوائی جہازوں میں پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "موبائل فون دوران استعمال گرمی پیدا کرتا ہے اور یہ جراثیم کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے اور ان کی پیدائش کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔ موبائل فون کے زریعےکورونا وائرس سمیت وائرس کے پھیلاﺅ میں مدد فراہم کرنے کا امکان ہے۔سائنس دانوں کے گروپ نے جرنل آف ٹریول میڈیسن اینڈ انفیکٹو بیماری کے تحقیقی نتائج شائع کرنے سے پہلے موبائل فون پر پائے جانے والے جرثوموں کا تجزیہ کرنے والے تمام مطالعات اور جرائد کا جائزہ لیا۔

میجر ڈاکٹر راشد الغفری نے کہا کہ آلودہ موبائل فون بائیو سکیورٹی کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہیں ، جن کی مدد سے متعدی امراض آسانی سے سرحدوں کو عبور کرسکتے ہیں۔اگر کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوا ہے تو ان کے موبائل فونز کے آلودہ ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے کیونکہ وائرس طویل عرصے تک سطحوں پر رہ سکتے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -کورونا وائرس -