بھارت اور نیپال میں کشیدگی بڑھ گئی، سرحد پر بھی جھڑپ

بھارت اور نیپال میں کشیدگی بڑھ گئی، سرحد پر بھی جھڑپ
بھارت اور نیپال میں کشیدگی بڑھ گئی، سرحد پر بھی جھڑپ

  

کھٹمنڈو(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیپال اور بھارت کی سرحد پر پھر جھڑپ، فائرنگ کا تبادلہ،دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ۔ بھارت کی جانب سے ہمسائیہ ممالک کو پریشان کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیپال میں بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد نے سرحدی چوکی پر حملہ کیا ہے  جس پر نیپالی پولیس کو مجبورا ہوائی فائرنگ کرنا پڑگئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق  نیپالی حکام کاکہنا ہے کہ تقریبا ڈیڑھ سو بھارتی شہریوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی۔ ان کسانوں نے یہاں زمینیں ٹھیکے پر لے رکھی ہیں تاہم کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے نیپالی حکومت نے سرحدی راستے بند کررکھے تھے جس کے  باوجودکسانوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصل کاٹنا چاہتے ہیں  لیکن بھارت اور نیپال کے درمیان سرحدی معاملات بتدریج بگڑ رہے ہیں۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 8 مئی کو لپو لیکھ کے قریب ہوکر گزرنے والے اتراکھنڈ مانسرور روڈ کا افتتاح کیا تھا جس کے بارے میں بھارتی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ وہ بھارت کی حدود میں ہے تاہم نیپال کا کہنا ہے کہ وہ اس کا علاقہ ہے۔

 بی بی سی اردو کے مطابق نیپال کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس کی سرزمین پر جس سڑک کی تعمیر کی ہے، وہ زمین انڈیا کو لیز یا کرائے پر تو دی جاسکتی ہے لیکن اس پر دعویٰ نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔

بدھ کے روز لپو لیکھ تنازع کے حوالے سے نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا جس میں سابق وزرا اعلی نے بھی شرکت کی تھی۔نیپال مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمان پریم سوال نے اس میٹنگ کے بعد بتایا ’وزیر اعظم نے سبھی رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انڈیا کی حمایت میں اس زمین پر اپنا دعوی نہیں چھوڑیں گے۔‘

نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گاہوالی نے کہا، ’وزیر اعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے آباؤ اجداد کی زمین کی حفاظت کرے گی۔ انھوں نے سبھی لیڈران سے اس معاملے پر تحمل سے کام لینے کی گذارش بھی کی ہے۔

دوسری جانب  نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں میں شدت آرہی ہے۔ کھٹمنڈومیں نیپالی شہریوں کی بڑی تعداد نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کیخلاف احتجاج کیا ہے، دوران احتجاج پولیس نے متعدد شہریوں کو گرفتار کرلیاہے۔

ادھر بھارتی آرمی چیف نے مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی روش برقرار رکھتے ہوئے اس کا الزام ہمسائیہ ملک پر تھوپ دیا ہے۔ انہوں نے کہا انہیں علم ہے کہ یہ سب کس کی ایما پر ہو رہا ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان کا اشارہ چین کی جانب تھا۔

کیونکہ نیپال اور بھارت کا  لپو لیکھ  نامی جس علاقے پر تنازع ہے وہاں  چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدوں سے متصل ہے۔

نیپال انڈیا کے اس قدم کے بارے میں ناراض ہے۔ لپو لیکھ میں مبینہ قبضے کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے اس سلسلے انڈیا کے سامنے لپو لیکھ علاقے پر نیپال کے دعوی کے دوہراتے ہوئے سخت الفاظ میں سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔اتراکھنڈ کے دھارچولہ علاقے کے مشرق میں مہا کالی ندی کے کنارے نیپال کا دارچولہ علاقہ واقع ہے۔ مہا کالی ندی انڈیا کی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے .

نیپال کی حکومت کا کہنا ہے بھارت نے اس کے لپو لیکھ علاقے میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے.

بی بی سی کے مطابق اس ہفتے جب دارالحکومت کٹھمنڈو میں انڈیا مخالف مظاہرے اپنے عروج پر تھے تو نیپال نے بدھ کے روز ایک اور بڑا فیصلہ کیا .

اس نے پہلی بار مہا کالی ندی سے متصل سرحدی علاقے میں آرمڈ پولیس فورس( اے پی ایف) کی ٹیم بھیجی ہے۔ کالہ پانی کے قریبی دیہات چھانگرو میں اے پی ایف نے ایک چوکی قائم کی ہے۔

اے پی ایف انڈیا کی بارڈر سیکورٹی فورس اور بھارت تبت سرحدی پولیس کی طرز کا نیم فوجی دستہ ہے۔

سنہ 1816 میں سوگولی کے معاہدے پر دستخط کے 204 سال بعد نیپال نے آخرکار تین ممالک کی سرحد سے متصل اپنے اس علاقے کی حفاظت کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -