ڈاکٹروں سے بانجھ پن کی ٹریٹمنٹ کرواتی خواتین لاک ڈاﺅن کے دوران قدرتی طور پر حاملہ ہونے لگیں، ڈاکٹر بھی حیران پریشان رہ گئے

ڈاکٹروں سے بانجھ پن کی ٹریٹمنٹ کرواتی خواتین لاک ڈاﺅن کے دوران قدرتی طور پر ...
ڈاکٹروں سے بانجھ پن کی ٹریٹمنٹ کرواتی خواتین لاک ڈاﺅن کے دوران قدرتی طور پر حاملہ ہونے لگیں، ڈاکٹر بھی حیران پریشان رہ گئے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ڈاکٹروں سے بانجھ پن کا علاج کرواتی اور مصنوعی طریقہ افزائش (آئی وی ایف) کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی خواتین لاک ڈاﺅن کے دوران فطری طور پر حاملہ ہونے لگیں جس پر ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی شہر پونے میں بانجھ پن کا علاج کرنے اور آئی وی ایف پروسیجر کرنے والے کلینکس کے ڈاکٹروں نے 9ایسی خواتین کے متعلق بتایا ہے جو مختلف وجوہات کی بناءپر سالوں سے فطری طور پر ماں نہیں بن پا رہی تھیں۔ ان میں سے 5بانجھ پن کا علاج کروا رہی تھیں اور 4آئی وی ایف پروسیجر کروا رہی تھیں۔

ابھی یہ پروسیجر مکمل نہیں ہوا تھا کہ لاک ڈاﺅن ہو گیا اور چند ہفتے کے دوران یہ تمام خواتین فطری طور پر حاملہ ہو گئیں۔ گائناکالوجسٹ و آئی وی ایف ماہر امیت پٹناکر اور ڈاکٹر سنیتا ٹنڈولوادکر کا کہنا تھا کہ ”ہم اس بات کی وجہ سمجھے سے قاصر ہیں کہ جو خواتین سالوں سے فطری طور پر حاملہ نہیں ہو پائی تھیں وہ لاک ڈاﺅن کے دوران بغیر کسی علاج کے حاملہ کیسے ہوگئیں۔ان میں کئی خواتین ایسی تھیں جن کے شوہروں میں سپرمز کا لیول انتہائی کم تھا اوران کے سپرمز بہت کمزور تھے لیکن وہ خواتین بھی حاملہ ہو گئیں۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں ہم اینٹی آکسیڈنٹ دوائیاں دے رہے تھے جو سپرمز اور بیضوں کا لیول بڑھاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے ان دواﺅں سے ان کے سپرمز اور بیضوں کا لیول اور صحت بہتر ہو گئی ہو اور خواتین حاملہ ہو گئی ہوں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -