’اب تک جھوٹ بولتی آئی‘ 10 سالہ بچے کو اپنے بچے کا باپ کہنے والی 13 سالہ لڑکی نے ایسی بات کہہ دی، اصل باپ کا نام لے کر لوگوں کو حیران پریشان کردیا

’اب تک جھوٹ بولتی آئی‘ 10 سالہ بچے کو اپنے بچے کا باپ کہنے والی 13 سالہ لڑکی ...
’اب تک جھوٹ بولتی آئی‘ 10 سالہ بچے کو اپنے بچے کا باپ کہنے والی 13 سالہ لڑکی نے ایسی بات کہہ دی، اصل باپ کا نام لے کر لوگوں کو حیران پریشان کردیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) چند ماہ قبل روس کی ایک 13سالہ لڑکی نے ٹی وی پر یہ انکشاف کرکے تہلکہ مچا دیا تھا کہ اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کا باپ ایک 10سالہ لڑکا ہے۔ اس معاملے پر بہت لے دے ہوئی، ماہرین نے بچے کے ٹیسٹ کیے اور کہا کہ بچہ ابھی باپ بننے کے قابل ہی نہیں ہوا اور یہ ممکن ہی نہیں کہ لڑکی اس کے بچے کی ماں بن سکے۔ تاہم لڑکی، لڑکا اور ان کے والدین اس بات پر مصر رہے کہ یہ بچہ اسے 10سالہ لڑکے کا ہے۔ تاہم اب خود اس لڑکی نے اس حوالے سے ایسی حقیقت بتائی کہ ہر سننے والا دنگ رہ گیا۔

دی مرر کے مطابق 13سالہ ڈیریا نامی اس لڑکی نے قبول کر لیا ہے کہ اس کے بچے کا باپ 10سالہ لڑکا نہیں ہے اور وہ اس سے قبل جھوٹ بولتی آئی تھی۔ اس نے انکشاف کیا ہے کہ اسے ایک دراز قد موٹے سے نوجوان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ ڈیریا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”یہ سچ بتانا میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا،اس لیے آج تک نہ بتا سکی۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ میرے بچے کا باپ کون ہے تو اب میں سچ بتانا چاہتی ہوں کہ میرا بچہ میرے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا نتیجہ ہے۔ میں یہ نہیں بتا سکتی کہ یہ واقعہ کیسے ہوا کیونکہ اسے یاد کرنا ہی میرے لیے انتہائی اذیت کا باعث ہے۔ جس نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا وہ لمبے قد کا موٹا سا لڑکا تھا۔اس کی عمر 16سال کے قریب تھی۔ وہ میرے سکول میں نہیں پڑھتا مگر وہ ہمارے ہی ٹاﺅن کا رہائشی ہے اور میں اس کا نام بھی جانتی ہوں۔“

ڈیریا نے مزید لکھا کہ” یہ واقعہ گزشتہ سال نومبر میں پیش آیا۔ میں اب بھی اس شخص سے خوفزدہ رہتی ہوں کہ کہیں کسی سڑک پر چلتے ہوئے وہ دوبارہ میرے سامنے نہ آ جائے۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتی۔ امید ہے آپ میری حالت کو سمجھ رہے ہوں گے۔“رپورٹ کے مطابق لڑکی کے اس انکشاف کے بعد ایک سٹیٹ تفتیش کار نے اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے، جس کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش کے بعد ہی سامنے آئے گا جب اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اگر اس میں جنسی زیادتی کا ملزم بچے کا باپ ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -