ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے باہمی افہام تفہیم اور قومی اتحاد کی ضرورت ہے:رحمان ملک 

ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے باہمی افہام تفہیم اور قومی اتحاد کی ...
ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے باہمی افہام تفہیم اور قومی اتحاد کی ضرورت ہے:رحمان ملک 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیرداخلہ اورچئیرمین انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈریفارمزسینیٹررحمان ملک نے کہا ہےکہ اسوقت پاکستان غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے، ایک طرف بلوچستان میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات ہو رہے ہیں،دوسری طرف کورونا وائرس کیوجہ سے صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے،ہمارا دشمن  بھارت دن رات پاکستان کیخلاف سازشیں کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں افغانستان کی سرحد پار سے پاکستان کے اندر حملے ہو ئے ہیں جسمیں کئی جوان شہید اور زخمی ہوئے ہیں،معاہدہ کے باوجود بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول اور  ورکنگ باونڈری پر اشتعال انگیزی کر رہا ہے اور معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے،ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے باہمی افہام تفہیم اور قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری کمزور معشیت کو کورونا وائرس نے مزید برباد کر دیا ہے جو پہلے فیٹف کیوجہ سے پریشان کن صورتحال سے دوچار تھی، اگر ہم نے اپنی معیشت کیطرف توجہ نہ دی اور غیر معمولی اقدامات نہ اٹھائے تو آنے والے دن کافی پریشان کن ہونگے،معشیت کی درستگی سمیت ہمیں اپنی اندرونی معاملات کو باہمی افہام و تفہیم کیساتھ درست کرنا ہونگے، اگر حکومت اور اپوزیشن سیاسی اختلافات کو بالائے تاک رکھکر قومی معاملات پر اکٹھے نہ ہوئے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل نہ دیا تو ملک مزید مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔ 

سابق وزیرِداخلہ رحمان ملک نے مزید کہا کہ فیٹف نے پاکستان کیساتھ بہت زیادتی کی اور بہت نقصان پہنچایا ہے،فیٹیف نے بھارت کیطرف سے پاکستان کے خلاف جعلی پروپیگنڈہ میں آکر ہمارے خلاف کاروائی شروع کی جو اب تک زیرالتواء ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ میں انڈیا کو فیٹف میں لے جاونگا اور آج مجھے خوشی ہے کہ فیٹف نے بھارت کیخلاف تفتیش شروع کردی ہے،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت منی لانڈرنگ اور دھشتگردوں کی مالی معاونت کرنے میں ملوث ہے اور فیٹف سمیت کوئی بھی بھارت کیخلاف نہیں بول رہا ہے،قوم کو بتانا چاہونگا کہ میں اب تک کئی خطوط فیٹف کو لکھ چکا ہوں جس میں کچھ خطوط میں کورونا وائرس کیوجہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی استدعا کی ہے اور کچھ خطوط میں بھارت کیخلاف کاروائی شروع کرنے کی استدعا کی ہے،بھارت کیخلاف سارے شواہد اور ثبوت فیٹف کو بھیج چکا ہوں اور عنقریب بھارت کیخلاف کارروائی ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ 

سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وہ ڈائریکٹر جنرل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی  کو خط لکھ چکے ہیں جسمیں انھوں نے جوہری ہتھیار کے پھیلاؤ پر بھارت کیخلاف فوری تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، آئی اے ای اے بھارت میں یورینیم کےنجی کاروبار پر ہنگامی اجلاس طلب کرے اور یورینیم کے اسطرح سرعام خرید و فروخت پر اقوام متحدہ اقدامات اٹھائے،مغربی ممالک بھارت میں نجی ڈیلرز کے ذریعہ یورنیم کی کھلے عام خرید و فروخت کے واقعےپر چپ ہیں حالانکہ یورینیم کو دہشت گرد انتہائی خطرناک بم بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ 

رحمان ملک نےکہاکہ سیاست اپنی جگہ پرمگرجب بات قومی معاملات اور مسائل کی آتی ہےتو انھوں نےہمیشہ سب سے پہلے آواز بلند کی ہے،میں پاکستان مخالف بیرونی سازشوں پر کسی دورمیں بھی خاموش نہیں رہا اور ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ 

مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ فلسطین میں معصوم مسلمانوں کا اسرائیل کے ہاتھوں قتل عام پر انہیں بہت دکھ اور افسوس ہے، کاش آج سارے اسلامی ممالک اکٹھے ہوتے اور امہ ہر مسئلے پر ایک طاقتور آواز  بلند کرتی تو  اسرائیل اور بھارت کی مجال نہ ہوجاتی کہ کشمیریوں اور فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرتے۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلامی نظام حکومت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی اکثریتی ممالک کو اسلامی ممالک کہتے ہیں نہ کہ اسلامی طرز حکومت کیوجہ سے،مغرب کے ڈر کیوجہ سے زیادہ تر اسلامی ممالک امہ کے اتفاق کے لئے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ 

انھوں نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ فلسطینیوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ سمیت سارے بین الاقوامی ادارے خاموش ہیں،جب مسجد اقصیٰ پر حملے ہورہے تھے تو ہمارے وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر تھے،کیاہی اچھا ہوتا اگر سعودی عرب کے محمد بن سلمان اور عمران خان ایک آواز کیساتھ اسرائیل کیخلاف بیان جاری کرتے اور مل کر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس بلانے کا تجویز پیش کرتے۔  

انھوں نےکہاکہ بھارتی وزیراعظم مودی بھی اسرائیلی ماڈل کی پیروی کررہاہے،جیسےفلسطین میں آبادکاری میں تبدیلی کے لئے اسرائیل مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے،اسی طرح کشمیرمیں مودی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے،مسلم ممالک کے سربراہوں سے اپیل ہے کہ جاگ اٹھیں اور کشمیر اور فلسطین پر اپنی خاموشی توڑ دیں۔ 

سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) نے پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کرکےبہت غلط قدم اٹھایا،سیاست میں جھگڑے ہوتےرہتےہیں لیکن  پیپلز پارٹی کو ہر دور میں احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور آج بھی خورشید شاہ جیل میں ہیں، دیکھنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں احتساب ہورہا ہے یا احتساب کے نام پر سیاسی انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں؟ انتقام اور احتساب میں بہت باریک فرق ہے.

مزید :

قومی -