بیگم نسیم ولی خان کی وفات

بیگم نسیم ولی خان کی وفات

  

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما خان عبدالولی خان کی بیوہ بیگم نسیم ولی خان انتقال کر گئیں، ان کی نماز جنازہ ادا کرکے چارسدہ میں سپردخاک کر دیا گیا۔ مرحومہ کی عمر 84سال تھی، ان کی وفات پر تمام مکاتب فکر کی طرف سے تعزیت کا اظہار اور دعائے مغفرت کی گئی۔ بیگم نسیم ولی خان اپنی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے بہت معروف تھیں، ان کی سیاست میں آمد 1975ء میں ہوئی، جب ان کے شوہر اور دوسرے معروف سیاستدان بغاوت کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کالعدم قرار دے دی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ولی خان خاندان کے تمام مرد جیلوں میں تھے اس لئے انہیں میدانِ سیاست میں قدم رکھنا پڑا،اس کے بعد ہی سردار شیر باز مزاری کی قیادت میں نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی بنی اور بیگم نسیم ولی خان نے اس پلیٹ فارم سے اپنے شوہر اور دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لئے مہم چلائی۔ بیگم نسیم سیاست میں آنے کے بعد بہت سرگرم رہیں اور پورے ملک میں دورے اور جلسے کرتی رہیں، وہ اچھی مقرر بھی تھیں، پاکستان قومی اتحاد کے قیام کے بعد ان کی جماعت  نوستاروں میں شامل ہوئی اور جدوجہد جاری رکھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے، خان عبدالولی خان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے بعد وہ کچھ عرصے کے لئے پس منظر میں رہیں۔ تاہم شوہر کی وفات کے بعد پھر سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اس سلسلے میں ان کے سوتیلے بیٹے اسفندیارولی  سے اختلاف بھی ہوئے اور عوامی نیشنل پارٹی کا الگ دھڑا بھی بنا، تاہم سینئر سیاستدانوں کی کوشش  سے مفاہمت ہو گئی۔ بیگم نسیم ولی خان شوگر، دل اور فشار خون کے امراض میں مبتلا تھیں، کافی عرصہ سے قریباً خاموش زندگی گزار رہی تھیں، دو روز قبل ان کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ خالق حقیقی سے جا ملیں، ان کی سیاسی خدمات کو یاد رکھا جائے گا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -