دستارِ فضیلت کے لئے کوئی اور سر میسر نہیں؟

دستارِ فضیلت کے لئے کوئی اور سر میسر نہیں؟
دستارِ فضیلت کے لئے کوئی اور سر میسر نہیں؟

  

بچپن سے ایک بات سنتے آئے کہ ایک سردار جی کو کہیں سے پمپ مل گیا تو انہوں نے کہا کہ اب سائیکل بھی خریدنی پڑے گی۔ میری عمر کے لوگ پمپ اور سائیکل والی بات اکثر سن چکے ہوں گے۔ نئی نسل اگر اسے پڑھے جس کا امکان بہت کم ہے تو ان کے لئے عرض ہے کہ سائیکل کے ٹائر میں ہوا بھرنے کے لئے جو ''آلہ'' استعمال کیا جاتا تھا وہ پمپ کہلاتا تھا۔ 

سننے بلکہ پڑھنے میں آیا ہے کہ اگلے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے بلاول کی ''سلیکشن'' ہوچکی۔ پمپ اور سائیکل والی مثال ہمارے وزرائے اعظم پر بالعموم اور اب ''مبینہ سلیکشن'' پر بالخصوص لاگو ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی لیڈرشپ کا قحط الرجال تو ہر دور میں رہا مگر اس وقت یہ زیادہ اس لئے محسوس ہورہا ہے کہ ایک سیاسی نوزائیدگی سے ہم اس وقت گزرے ہیں اور نتائج بھی بھگت رہے ہیں۔ دوسری سیاسی نوزائیدگی کا بوجھ ہم بلاول کی ''مبینہ سلیکشن'' کی صورت میں لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ بلاول کو ابھی وزیراعظم پاکستان کیوں نہیں بننا چاہئے؟ اس کی کچھ وجوہات کا ذکر یہاں کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ بلاول گو سیاست میں نیا نہیں مگر سیاسی ناپختگی اور ذہنی ناپختگی ابھی اس کی زندگی کاحصہ ہے۔ سیاسی جانشینی کا تاج اپنی جگہ کہ بھٹو کا نواسہ، بے نظیر کا بیٹا اور سب سے بڑھ کر زرداری کا بیٹا ہے مگر ایسا بھی قحط الرجال نہیں کہ دستارِفضیلت کے لئے کوئی اور سر میسر نہیں۔ ایک بار بھی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر کام نہیں کیا حتی کہ ایک چھوٹی سی یونین کونسل چلانے کا تجربہ بھی نہیں۔ ناتجربہ کاری کا خمیازہ پوری قوم بشمول ''سلیکٹرز'' بھگت رہے ہیں تو پھر یہ ''مبینہ سلیکشن'' چہ معنی دارد؟

بلاول21ستمبر2023ء کو 35 برس کے ہوں گے جو وزیراعظم پاکستان کے لئے آئینی عمر بھی ہے۔ بے نظیر جب وزیراعظم بنی تھیں تو ان کی عمر 35 برس تھی۔ وہ مسلم دنیا کی بلکہ پوری دنیا کی کم عمر ترین وزیراعظم تھیں بلکہ کم عمر ترین خاتون وزیراعظم بھی تھیں۔ بلاول اور بے نظیر کو ایک پلڑے میں کبھی نہیں رکھنا چاہئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی تدبر اور فہم و فراست ابھر کر سامنے آئے۔ اگر ان کی زندگی میں زرداری فیکٹر نہ آتا تو وہ اس سے بہتر پرفارم کرتیں۔ بلاول کا وزیراعظم بننا حادثہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک ''پلانٹڈ حادثہ'' ہوگا اس سوچ کے ساتھ کہ وہ بڑے سیاسی خاندان کا رکن ہے تو اس کو آزما لیا جائے، تو آزمانے کے تجربے سے سبق حاصل کرچکے ہیں۔

تیسری بات یہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا سیاسی گراف وقت کے ساتھ نیچے آیا ہے اگرچہ کراچی کے موجودہ ضمنی الیکشن میں مبینہ طور پر ''اچھا'' کرنے دیا گیا ہے مگر حقائق کی عینک اتنی دھندلی نہیں کہ اس سے دیکھا نہ جاسکے۔ اگر الیکٹ ایبلز کے ساتھ پھر گراف ''اونچا''کرکے انہیں وزیراعظم بنانا ہے تو ''لوٹاازم'' کی آبیاری کا سلسلہ گویا جاری رہے گا اور اخلاقی کرپشن کا گراف بھی اونچا ہوتا رہے گا اور پاکستان کا گراف تو ہمیشہ کی طرح ''اونچا'' رہے گا ہی۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ ''ون ٹائم پارٹی''کی جزوی بحالی کا ایجنڈا ہوگا۔ اس وقت جب کہ بلاول کی پارٹی سندھ کے علاوہ دوسرے صوبوں بالخصوص پنجاب میں اپنی پوزیشن کھوچکی، مصنوعی مینڈیٹ کے بل بوتے پر آگے لانا ''سلیکٹرز'' کی دانش پر بھی سوالیہ نشان ہوگا۔ 

خاندانی سیاست کو ہی آگے بڑھاناہے تو بلاول کی سیاسی اور پارلیمانی تربیت کے لئے انہیں پارلیمنٹ میں باقاعدہ اپوزیشن لیڈر بنایا جائے، انہیں پارلیمنٹ میں قائم کسی کمیٹی کا سربراہ بنایا جائے، سندھ کا وزیراعلی بنا کر بھی ان کی اچھی سیاسی تربیت کی جاسکتی ہے لیکن خدارا پاکستان پر رحم کیا جائے انہیں وزارت عظمی کے تاج سے نہ نوازا جائے۔ وہ پہلے اپنی پارٹی کو تو اس قابل بتائیں کہ انہیں ''چاروں صوبوں کی زنجیر''کے خطاب کے بل بوتے پر دستارفضیلت عطا کی جاسکے۔ ہاں اگر پیپلزپارٹی کو باری دینی ہے تو رضا ربانی کے زیرسایہ بلاول کی کم از کم ایک پارلیمانی مدت کسی وزیر کے طور پر تربیت کرکے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائیں گے۔ وزارتِ عظمی کو کھلاڑیوں اور اناڑیوں کا کھیل نہ بنایا جائے تو پاکستان ترقی کے راستے پر بہتر انداز میں گامزن ہوسکے گا۔ ان شا اللہ۔

مزید :

رائے -کالم -