قدموں تلے جنت۔۔۔ماں کی یاد

قدموں تلے جنت۔۔۔ماں کی یاد
قدموں تلے جنت۔۔۔ماں کی یاد

  

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے 

ماں ایک ایسی ہستی ہے جس پہ بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا، مگر جس ماں کی کوکھ سے میں نے جنم لیا وہ اپنی ہستی میں ایک ادارہ تھیں۔ آپ نے انسانیت کی خدمت کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کا تصور بھی کسی عام انسان کے لیے ممکن نہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں انسان دوستی، شفقت و محبت، احساس، احسان، خلوص اور رواداری کی وہ اعلیٰ مثالیں قائم کیں جنہیں آج بھی ان کے حلقہ احباب میں انتہائی قدر و عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

میری والدہ کی شخصیت بہت پروقار و قابل رشک تھی کیونکہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ ہر آنکھ میں ان کی تعریف و تعظیم ہی دیکھی، انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کی بھلائی و مدد کے لیے صرف کیا، عزیزواقارب، ہمسائے حتی کہ ان کے طالب علموں کی ایک کثیر تعداد ان کی شفیق و حلیم طبیعت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔

 میری والدہ ڈاکٹر عنصر بیگم 25 ستمبر1939ء  کو انڈین پنجاب میں پیدا ہوئیں اور میڈیکل کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دیتی رہیں یہاں تک کہ ان کی بہترین تدریسی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں حکومت پنجاب کی جانب سے گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ شعبہ طب پر دو کتابوں کی شریک مصنف بھی ہیں، آپ نے خدمت انسانی کا سلسلہ لیڈی ایچی سن ہسپتال لاہور سے شروع کیا بعد ازاں مینٹل ہسپتال لاہور، میو ہسپتال لاہور، جناح ہسپتال کراچی اور پھر ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور میں بھی خدمت خلق کا کام سرانجام دیا۔ 

1985ء میں اکثر سکول کی چھٹیوں کے دوران جب ان کی پوسٹنگ مینٹل ہسپتال لاہور میں ہوئی تو ان کے ساتھ جایا کر تا تھا۔ ان کے اخلاق و اعلیٰ کردار کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر مریض کو کھلائی جانے والی خوراک، پہنائے جانے والے لباس کی بروقت تبدیلی اور اْن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ہمیشہ خاص نظر رکھتیں۔اکثر فرمایا کرتیں کہ یہاں کے مریض خاص طور پر قابلِ رحم ہیں اِن کا خیال رکھنا خاص عبادت ہے۔ ڈاکٹر نعمان جوان کے ساتھ ہی ہسپتال میں تھے اور اْن دِنوں پی ٹی وی کے ڈراموں میں کام کیا کرتے تھے ماں جی کو آپا جی کہہ کر مخاطب کرتے اور ہمیشہ ان کی مریضوں کے بارے میں فکر مندی کی تعریف کرتے حتیٰ کہ مریضوں کے لواحقین بھی جھولیاں اٹھا اٹھا کر ان کے حق میں دعائیں کرتے۔ 

ماں جی کو لندن میں قیام کے دوران برطانوی شعبہ صحت میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ سعودی عرب کے ملٹری ہسپتال طائف میں سات سال تک خدمات سرانجام دیں اور خدا کے فضل سے چار حج اکبر نصیب ہوئے جن پر وہ ہمیشہ اللہ کا خاص شکر ادا کیا کرتی تھیں۔ اْن کی ایران و عراق میں بھی طبی خدمات سرانجام دینے کی بہت خواہش تھی مگر بھٹو دور میں حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی بیرون ملک جانے پر پابندی کی وجہ سے وہ اس سعادت سے محروم رہیں۔

کراچی کے جناح ہسپتال میں مختصر قیام کے دوران عبدالستار ایدھی مرحوم کے شانہ بشانہ کام کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ وہ ان کو اید بھائی کہہ کر دعائیں دیا کرتی تھیں اور ان کی خدمات کا اکثر تذکرہ بھی کرتیں۔ عالمی سیاسی حالات میں بڑی دلچسپی رکھتیں۔ اکثر مجھ سے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کی حالت زار کا پوچھتیں اور ان کے لیے دعائیں کرتیں۔ مجھے کہا کرتیں کہ تم تجزیہ کرتے ہوئے ذرا بتاؤ  میری پینشن کب بڑھے گی؟ اِن حکمرانوں سے کہو کہ ہم بوڑھوں کا خیال رکھیں ہم نے اس وطن کی خدمت کی ہے۔ میں نے والدہ کے حکم پر چند کالم اِن مسائل پر بھی لکھے جن میں سے ایک کالم بینکوں کے باہر بزرگ شہریوں کی لگی قطاروں پہ تھا۔ میری اس تحریر کے بعد بینکوں نے بزرگوں کے لیے آسانیاں بانٹنا شروع کردیں جس پہ وہ مجھ سے بہت خوش تھیں۔

وہ اکثر پاکستان کی طرف ہجرت کے واقعات بیان کر کے آبدیدہ ہو جاتیں۔ وہ سات سال کی عمر میں اپنے ابا یعنی میرے نانا حاجی عبدالعزیز صاحب کے ساتھ ماں کے سائے سے محروم ہو کر پاکستان تشریف لائیں۔ ہجرت کی بے شمار تکلیفیں برداشت کیں کیونکہ انہوں نے اپنے سات مامْووں کو سکھ بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ خاندان کے پاکیزہ لہو کی قیمت پر ہم نے اس وطن کی آبیاری کی ہے۔ وہ ہمیشہ فخر محسوس کیا کرتی تھیں کہ وہ شہدا کی وارث ہیں۔ میری کتاب“ پتھروں کی بستی”کا شدت سے انتظار کر رہی تھیں مگر افسوس کہ کتاب اْن کی رحلت کے ایک ہفتے بعد میرے ہاتھ میں آئی جس کا مجھے عمر بھر ملال رہے گا۔

اماں جان دل کے عارضے میں پچھلے 20 سال سے مبتلا تھیں۔ وہ اس بیماری کے بعد اپنی صحت و خوراک کا خاص خیال رکھتی تھیں۔ انہوں نے آخری دم تک تہجد، قیام لیل اور نماز کبھی نہ چھوڑی۔ ہسپتال میں بھی وفات سے قبل نماز ادا کی اور پھر22 اپریل بروز جمعرات افطار کے عین وقت نجی ہسپتال میں سات دن زیر علاج رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

ان کے بغیر یہ پہلی عیدالفطر بہت ویران، اْداس اور دل میں کانٹے کی طرح محسوس ہوئی۔ وقت نے یادوں کے بہت سے دریچے کھول دیے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دل پر کوئی بہت بھاری پتھر رکھا ہوا ہے کہ جس کا بوجھ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا، یہی وجہ تھی کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے قلم اْٹھانے کی نہ تو ہمت ہوئی اور نہ ہی حوصلہ۔۔۔ مگر اپنے رب کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔ میرا ایمان ہے کہ  اْس رب کے سوا نہ تو کوئی موت دے سکتا ہے اور نہ حیات عطا کر سکتا ہے اْسی کو حق ہے اور میں اْس کے حق پر عاجز ہوں اور اللہ سے صبر کی التجا اور قارئین سے دعاوں کا خواستگار ہوں۔ خدا تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے اور خاص طور پر فلسطینی مسلمانوں پر اپنا رحم و کرم فرمائے۔ آمین!

مزید :

رائے -کالم -