سیاسی اشرافیہ کے چونچلے اور بھولے عوام

سیاسی اشرافیہ کے چونچلے اور بھولے عوام
سیاسی اشرافیہ کے چونچلے اور بھولے عوام

  

مجھے یقین ہے اگلے انتخابات تک عام آدمی سیاستدانوں کو بھولا رہے گا۔ سیاسی لڑائیاں ہوں گی، ایک دوسرے پر لفظی حملے ہوں گے، کرپشن کے الزامات کا تبادلہ ہوگا، حکومت کے انتقام اور اپوزیشن کی بے صبری کا ذکر اذکار جاری رہے گا، مگر عام آدمی کی بات کوئی نہیں کرے گا۔ یہ خواص، یہ سیاست کی اشرافیہ اسے صرف اس وقت یاد کرے گی، جب الیکشن کا موسم آئے گا۔ تب یہ سارے اپنا ہر غم بھلا کر غریب آدمی کے غم میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی اس بات کو مانیں گے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ وہی عوام جنہیں نئی حکومتیں بنتے ہی ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ یہاں ملتان میں تحریک انصاف کے کارکن یہ شکایت کر رہے ہیں کہ عید کے دنوں میں ارکانِ اسمبلی بشمول شاہ محمود قریشی کورونا ایس او پی کے نام پر کارکنوں سے نہ ملے، تاہم بڑے لوگوں کے لئے ان کے دروازے کھلے رہے۔

ان کی بڑی گاڑیاں ڈیروں پر جاتی رہیں اور کارکنوں کو ٹرخایا گیا۔ اب یہ کوئی نئی شکایت، کوئی نئی بات تو نہیں، اس موسم میں عوام سے مل کر کرنا بھی کیا ہے؟ یہ لوگ مسائل کی پوٹلیاں اور درخواستیں اٹھا کر آ جاتے ہیں، ووٹ ان سے تو ابھی اڑھائی برس بعد لینا ہے، ابھی سے انہیں سر پر سوار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ صرف تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی کا رویہ نہیں، ہر دور میں ووٹ دینے والوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔ ان کی اہمیت صرف اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک ان کے انگوٹھے پر سیاہی کا نشان نہیں لگ جاتا، نشان لگتے ہی اگلے پانچ سال کے لئے وہ ناکارہ شے کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔

قصور اس میں عام آدمی کا بھی ہے، یہ بھی خواص کے بغیر کسی کو ووٹ نہیں دیتے، ان کے اپنے اندر سے کوئی الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو ٹھٹھہ مخول سے اس کی درگت بناتے ہیں، پجیرو والا، بڑے ڈیرے والا اور بڑے کروفر والا ان کا آئیڈیل ہوتا ہے۔ برسوں پہلے میں نے جاوید ہاشمی سے پوچھا تھا کہ انہوں نے قاسم روڈ پر اتنا بڑا بنگلہ کیوں لیا۔ وہ تو ایک عوامی سیاستدان ہیں۔ انہوں نے عام آدمی کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیا تھا کہ پاکستان میں سیاست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا ڈیرہ بھی بڑا ہو۔ تین مرلے، پانچ مرلے والوں کو تو لوگ اپنے جیسا کمی کمین سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ بات درست تھی اور آج بھی درست ہے، یہ جاتی امراء، یہ بنی گالا، یہ بلاول ہاؤس، عوام کی اسی نفسیاتی کمزوری کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ غور کیجئے کہ عمران خان جیسا تبدیلی کا دعویدار سیاستدان بھی اس بات پر مجبور ہوجاتا ہے کہ پہلے ایک بڑا گھر بنائے۔ اتنا بڑا کہ جو زمان پارک لاہور جیسے بڑے گھر سے بھی بڑا ہو۔ بڑے گھروں میں رہنے والے جب تین مرلہ گھروں کے مکین عوام کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی حالت وہ بدلیں گے تو یہ بھولے، معصوم، لائی لگ عوام ان کی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں۔ ان سے امیدیں باندھ لیتے ہیں، ایسے عوام شاید ہی دنیا میں سیاستدانوں کو کہیں اور ملیں، جیسے پاکستانی سیاستدانوں کو ملے ہوئے ہیں۔  73 برسوں سے نسل در نسل دھوکے کھا رہے ہیں، مگر سنبھلنے اور سمجھنے کو تیار نہیں۔

مرحوم مجید نظامی کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں عوام کی حالت کسی ایک حکومت کے دور میں بہتر ہوتی ہے تو دوسری حکومت کے دور میں بدتر ہو جاتی ہے۔ ان کی یہ بات پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں حرف بحرف درست ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کسی خفیہ ہاتھ نے یہ طے کر رکھا ہے کہ پاکستانیوں کو ایک حد سے اوپر نہیں جانے دینا۔ بس ان کے ساتھ یہ سرکس لگائے رکھنی ہے کہ کنوئیں کے ڈول کی طرح کبھی وہ اوپر جائیں اور کبھی نیچے۔ بھارت میں عام آدمی پارٹی بنی تو سارے عام آدمی اس کی طرف متوجہ ہو گئے، یہاں عام آدمی پارٹی بنے تو سارے عام آدمی یعنی عوام اس کے پیچھے ہی پتھر لے کر پڑ جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے عوام کو سیاستدانوں نے ذہنی طور پر مفلوج کر رکھا ہے، انہیں اس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ چند بڑی سیاسی جماعتوں اور چند بڑے سیاستدانوں کی طرف دیکھیں، وہ انہی کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ ایک سے بددل ہوں تو کسی دوسرے لٹیرے کی حمایت شروع کر دیتے ہیں، ان میں کبھی یہ خیال جنم نہیں لیتا کہ اپنے میں سے قیادت پیدا کریں اور اس اشرافیہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں،

جس نے انہیں اپنا غلام سمجھ رکھا ہے۔ یہ نہیں کہ عوام کے اندر اس بدبودار استحصالی نظام کو بدلنے کی خواہش نہیں، وہ اسے بدل دینا چاہتے ہیں، اسی خواہش نے تو عمران خان کو بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں کامیابی دلائی تھی، اسی لئے تو یہ عوام تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہوئے تھے، مگر نتیجہ کیا نکلا، کپتان تبدیلی کے نعرے کو بھول گئے اور اس عام آدمی کو بھی بھلا دیا، جس نے کشتیاں جلا کر انہیں ووٹ دیا تھا، اس نے اپنی تمام پرانی وفاداریاں تبدیل کرکے عمران خان نے آس باندھ لی تھی کہ وہ اب ان کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے، انہیں جینے کا حق دیں گے۔

ہماری سیاسی اشرافیہ کے نزدیک معاشرے کا عام آدمی شطرنج کا ایک مہرہ ہے جو اس وقت کام آتا ہے، جب اس نے ووٹ پر ٹھپہ لگانا ہو۔ اس کی ہمدردی میں لچھے دار باتیں، اس کے لئے بڑے بڑے دعوے اور بڑی بڑی سیاسی بڑھکیں، اس سکرپٹ کا حصہ ہیں جو عوام کو دھوکہ دینے کے لئے لکھا گیا ہے، جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، وہاں کے عام آدمی کا مرتبہ چند دنوں کے لئے بلند ہو جاتا ہے۔ حکومتی و اپوزیشن امیدوار اس کی غمخواری میں گھلے جاتے ہیں۔ وہاں مریم نواز بھی پہنچ جاتی ہیں اور غریبوں کی حمایت میں بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، حکومتی نمائندے بھی عام آدمی کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ یہ عام آدمی جسے تھوڑی بہت عقل سے کام لینا چاہیے، پھر ایسی شہد میں لپٹی باتوں کے جال میں آجاتا ہے، پھر قطاروں میں کھڑا ہو کر اپنا ووٹ ڈالتا ہے۔ بڑی بڑی توقعات اور امیدیں وابستہ کر لیتا ہے، مگر صاحب جونہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے، جس طرح ٹینٹ والے اپنا سامان لے کر چلتے بنتے ہیں، اسی طرح یہ سیاسی جماعتیں بھی گدھے کے سینگ کی طرح حلقے سے غائب ہو جاتی ہیں۔ ڈسکہ الیکشن کا بہت شور تھا۔ کوئی بتائے گا ڈسکہ کے عوام کی داد رسی کے لئے اب کون کون انہیں دستیاب ہے؟

اس وقت جو غریب عوام کی حالت ہے، کوئی حقیقی جمہوری ملک ہوتا تو اس کی سیاست اور جمہوریت اسی ایک نکتے کے گرد گھومتی کہ عوام کی حالت بہتر کیسے بنانی ہے، انہیں جان لیوا غربت اور مہنگائی سے نجات کیسے دلانی ہے، مگر ہماری سیاسی اشرافیہ کا اس معاملے سے دور دور کا واسطہ بھی نظر نہیں آتا۔ دو وقت کی روٹی کے لالے پڑنا، ایک محاورہ تھا، جو اس حکومت کے دور میں ایک حقیقت بن چکا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی، عید کے دنوں میں مرغی کا گوشت 6سو روپے کلو تک بکتا رہا۔ چینی نایاب رہی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے عام آدمی مزدوری سے بھی محروم رہا، مگر مجال ہے سیاسی اشرافیہ نے اس طرف کوئی توجہ دی ہو۔ بلاول بھٹو اپنی راگنی سناتے رہے، مریم نواز اپنا دکھڑا بیان کرتی رہیں، کپتان کی سوئی اس بات پر اڑی رہی کہ ملک میں خوشحالی آ رہی ہے، بلکہ ان کی مخصوص زبان میں ملک اوپر جا رہا ہے، حالانکہ عام آدمی خودکشیاں کرکے اور کبھی بھوک سے مر کے زمین کے نیچے جا رہا ہے، مگر عام آدمی کی فکر ہے کسے؟

مزید :

رائے -کالم -