تعلیم میں عورت اور مرد کی تقسیم ختم ہونی چاہئے

 تعلیم میں عورت اور مرد کی تقسیم ختم ہونی چاہئے

  

پاکستان میں عورتیں مختلف نوعیت کے بہت سارے مسائل کا شکار ہیں۔ یوں تو پوری دنیا میں عورتیں استحصال، جبر اور امتیازی سلوک سہ رہی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ مسائل بہت زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ پورے پاکستان میں عورتیں ان مسائل میں گھری ہیں، لیکن محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو زیادہ ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک کی محنت کش عورتیں جن مسائل کا شکار ہیں ان میں اہم روزگار کے مواقع نہ ہونا یا ان میں رکاوٹ، کم اجرت، بلامعاوضہ کام، جنسی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کیا جانا، امتیازی قوانین، سیاسی عمل میں شمولیت میں رکاوٹیں، معاشرتی تعصب، تشدد، رسم و رواج کے بندھن، عزت کے نام پر قتل، بداخلاقی، اغوا، گھر اور گھر سے باہر عدم تحفظ، تعلیم کے حصول میں رکاوٹیں، آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ، جبری محنت، زبردستی کی شادی، غیر معیاری رہائش، نامناسب خوراک،پروفیشن کے انتخاب میں پابندیاں،انصاف تک رسائی اور کھیلوں میں شمولیت میں رکاوٹ جیسے مسائل قابل ِ ذکر ہیں۔

کہنے کو تو ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی ہمارے ہاں عورت غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہے، عورتوں کے حالات تب تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک کہ سیاسی عمل میں عورتوں کی شمولیت مردوں کے مساوی نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے محض نمائشی اقدامات سے کسی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ منتخب اداروں میں محض عورتوں کا کوٹہ رکھوا دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اب ان کی آواز سنی جائے گی،بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ عورتوں کی سیاست میں آزادانہ شمولیت کے لئے تمام سماجی، سیاسی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، چونکہ عورتیں سماج میں انتہائی پسی ہوئی ہیں اِس لئے ایسی شمولیت کے لئے رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ شعوری کاوشیں انتہائی ضروری ہیں۔ اس حوالے سے وہ علاقے جہاں عورتوں کی سیاست میں شمولیت کی شرح انتہائی کم ہے وہاں خصوصی اقدامات کئے جائیں اور اگر کہیں عورتوں کو سیاسی عمل میں شرکت سے روکا جاتا ہے تو ایسے عمل کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی مانتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کیا جائے۔ منتخب ہونے والی عورتوں کو اختیارات دئیے جائیں اور انہیں آزادانہ فیصلے کرنے کا حق دیا جائے۔ عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کاخاتمہ کیا جائے۔ عورتوں کو قانونی حقوق کے حصول کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے قانونی حقوق کی جانکاری کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔ ان قبائلی اور جاگیردارانہ  رسوم و رواج کو روکا جائے جو عورتوں پر جبر کا ذریعہ ہیں اور ان کی آزادی میں رکاوٹ ہیں۔ مذہب کو عورتوں کے استحصال اورجبر کے لئے استعمال ہونے سے روکا جائے اور ایسی انتہا پسند تنظیمیں، گروپ یا افراد جو مذہب کو استعمال کرتے ہوئے عورتوں پر تشدد اور جبر میں ملوث ہیں یا اس کی ترویج کرتے ہیں انہیں روکا جائے۔ قانون سے متعلق تمام شعبوں جس میں عدالتیں، وکلاء اور پولیس شامل ہے کو عورتوں کے حقوق کے بارے میں باقاعدہ تعلیم دی جانی چاہئے۔ ”غیرت کے نام پر قتل“  ”قرآن سے شادی“ زبردستی شادی کرنے اور کروانے پر انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری منصفانہ فیصلے کئے جائیں اور رسم و رواج کے نام پر کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ تعلیم میں عورت اور مرد کی تقسیم کو ختم کیا جانا چاہئے۔ عورتوں کی شرح خواندگی کو بڑھانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور اس کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ تعلیم کے لئے بجٹ میں کم از کم 10 فیصد فنڈز رکھے جائیں جس میں عورتوں کی تعلیم پر اخراجات زیادہ مختص کئے جائیں۔ نصاب میں عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی مواد کا خاتمہ کیا جانا چاہئے۔ عورتوں کے حقوق اور آزادی سے متعلق مواد کو نصاب میں شامل کیا جائے۔

عورتوں کے لئے تعلیم بالغاں کا پروگرام پورے ملک میں وسیع پیمانے پر شروع کیا جائے۔ تعلیم کے جن شعبوں میں عورتوں کی شمولیت کم ہے وہاں اسے کم از کم مردوں کے مساوی لانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔تعلیم کے شعبہ میں عورتوں کو ترقی کے مساوی مواقع دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور  اس حوالے سے مخصوص عہدوں پر مردوں کے غلبے کو ختم کیا جائے۔

 عورتوں اور بچوں کی صحت کا انتظام حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تمام عورتوں کو صحت کی تمام سہولتیں مفت فراہم کی جائیں۔صحت سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرنے کا پورے ملک میں وسیع پیمانے پر مناسب بندوبست کیا جانا چاہئے۔ صحت کے شعبہ سے متعلق تعلیمی اداروں میں اضافہ کے ساتھ وہاں عورتوں کے داخلے میں اضافہ کیا جائے اور انہیں خصوصی مراعات فراہم کی جائیں۔ ملازمت میں ترقی کے لئے عورتوں کو مساوی مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ ملازمت اختیار کرنے کے لئے عورتوں پر موجود تمام سیاسی، سماجی اور معاشی دباؤ کو حائل ہونے سے روکا جائے۔ان فارمل سیکٹر میں عورتوں کی تنظیم سازی کو قانونی حیثیت دی جائے۔

زراعت اور صنعت میں کام کرنے والی عورتوں کے حالات کار کو صحت کے اصولوں کے مطابق بنانے کو یقینی بنایا جائے اور اس دوران صحت کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ محنت کشوں کی تنظیموں میں عورتوں کی شمولیت ہر سطح پر مردوں کے مساوی ہو اور اس حوالے سے تنظیموں میں شعوری کوششیں کی جائیں۔ بچوں کی نگہداشت، تعلیم اور تربیت کے لئے پورے ملک میں مراکز قائم کئے جائیں تاکہ ملازم پیشہ عورتیں دوہرے بوجھ سے نجات حاصل کر سکیں۔ کام کی جگہ پر عورتوں کو  ہراساں کرنے کے خاتمہ کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں، موجود قوانین پر عملدرآمد کیا جائے اور ضرورت کے مطابق نئی قانون سازی کی جائے تاکہ عورتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ گھر سے کام کی جگہ تک ٹرانسپورٹ مفت فراہم کی جائے اور مردوں، عورتوں کو مساوی اجرت دی جائے۔ عورتوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ کیا جانا چاہئے اس کے علاوہ اس تصور کو کہ بچوں کی پرورش عورت کی ذمہ داری ہے ختم کیااور بچوں کی پرورش کو پورے سماج کی ذمہ داری مانا جائے۔

عورتوں کی سیاست میں آزادانہ شمولیت کے لئے سماجی، سیاسی اور معاشی رکاوٹوں کو دور کیا جائے

 عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کاخاتمہ کیا جائے!

 نصاب میں عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی مواد کا خاتمہ ہونا چاہئے

مزید :

ایڈیشن 1 -