موجود ہ حکومت کی سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی دلچسپی

 موجود ہ حکومت کی سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی دلچسپی

  

اعجاز احمد منہاس،

(ڈائریکٹر، لاہور عجائب گھر لاہور)

دُنیا بھر میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں میوزیم نہ ہو البتہ فرق فقط تعداد کاہے۔ امریکہ میں اسوقت ڈیڑھ ہزار کے قریب میوزیم اور تاریخی مواد محفوظ رکھنے والی گیلریاں ہیں جبکہ برطانیہ میں ویسے تو سینکڑوں کی تعداد میں میوزیم ہیں لیکن قومی اور نہایت وسیع عجائب گھروں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن میں سب سے زیادہ مقبول برٹش میوزیم، نیچرل ہسٹری میوزیم، سائنس میوزیم لندن،ریلوے میوزیم لندن، آرٹ میوزیم مانچسٹر، فوٹو گرافی، فلم اور ٹیلی ویژن کا قومی میوزیم، مومی مجسموں کا معروفِ زمانہ مادام تساد، ٹاور برج اور رائل میوزیم وغیرہ شامل ہیں۔ انٹر نیٹ کی دُنیا نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور برطانیہ کی ایسی ایک ویب سائٹ پر پانچ سو بیالیس پاکستان اور بھارت میں اگرچہ تعداد کے اعتبار سے تو عجائب گھر اتنے زیادہ نہیں ہیں۔لیکن قدیم تاریخ اور انسانی تہذیب کے ارتقاء کے اہم ادوار کے حوالے سے کئی ایسے اہم میوزیم ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دُور دُورسے سیاح آتے ہیں۔ لیکن ان ممالک میں بچوں، نوجوانوں اور عام شہریوں کو یہ میوزیم دیکھنے کی طرف راغب کرنے کی کوششوں کا شدید فقدان ہے پاکستان کا قدیم ترین میوزیم لاہور کا عجائب گھر ہے جس کی بنیاد 1890میں البرٹ ویکٹر نے رکھی تھی اور یہاں گندھارا آرٹ کے نایاب ترین مجسموں کے علاوہ منی ایچر مصوری کے تاریخی 3000نمونے اور چھٹی صدی قبل از مسیح سے لے کر دورِ حاضر تک کے چالیس ہزار سے زیادہ سونے چاندی اور تانبے کے سکے موجود ہیں۔ جبکہ اس کی لائبریری میں 30ہزار سے زائد کتابیں، اخبارات اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں، عالمی سطح پر معروف پاکستانی عجائب گھروں میں ٹیکسلا اور ہڑپہ کے عجائب گھر بھی شامل ہیں۔ کراچی میں ملک کاقومی عجائب گھر موجود ہے اس کی بنیاد 1971ء میں رکھی گئی تھی جبکہ ایشیاء کا سب سے بڑا نجی عجائب گھر لاہور کے بھاٹی دروا زے میں ہے۔ یہ فقیر خانہ میوزیم ”یہ میوزیم 1977میں فقیر خاندان نے قائم کیاتھا جس کی مناسبت سے اس کا نام بھی“ ہے اور اس میں سکھ اور مغلیہ عہد کے علاو ہ برصغیر میں مختلف اسلامی عہد کی بہت بڑی تعداد میں نادر و نایاب چیزیں موجود ہیں۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ موجود ہ حکومت کی سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی دلچسپی نظر آرہی ہے خاص طور پر مذہبی سیاحت کی طرف توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور پر کروڑوں روپے کے فنڈزجاری کیے اور چند ماہ میں اس کی تعمیر و تزئین کے بعد سکھوں کے اس عظیم مذہبی مقام کو کھول دیا۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہڑپہ میوزیم اپ گریڈیشن کے حوالے سے خصوصی دلچسپی لی اور از خود وہاں گورنر پنجاب کے ہمراہ گئے اور وہاں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام شروع کروائے۔ علاوہ ازیں بہت سے نظر انداز تاریخی مقامات کی بحالی پر سیکرٹری ٹورازم اینڈ آرکیالوجی احسان احمد بھٹہ ہر وقت اپنی ٹیم کے ساتھ فیلڈ میں خود جاکر ان کاموں کی نگرانی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شالامار باغ کی بحالی ہو، گجرات میوزیم کاقیام ہو یا پھر کلر کہار میوزیم ہر طرف سیکرٹری ٹورازم سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اس خطے کی لاکھوں سال پرانی تہذیب و تمدن پر محیط تاریخ سے روشناس کر وانے کے لیے میوزیم ایجوکیشن کو سلیبس کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور طلبہ کو میوزیم کے ساتھ جوڑا جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -