پولیس وردیوں میں ملبوس 15 سے 20 افراد کا شہری کے گھر پردھاوا

پولیس وردیوں میں ملبوس 15 سے 20 افراد کا شہری کے گھر پردھاوا

  

لاہور (کرائم رپورٹر) پولیس وردیوں میں ملبوس 15 سے 20 افراد کا شہری کے گھر دھاوا‘ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کیساتھ ویڈیو بناتے رہے۔ خواتین کے مزاحمت کرنے پر زدوکوب کیا گیا اور جاتے ہوئے ڈی وی آر اور کیمرے تک اتار کر لے گئے۔ تفصیلات کے مطابق شاہین کالونی مین والٹن روڈ کے رہائشی الیاس امین مغل ایڈووکیٹ نے سی سی پی او  کے نام درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 11 مئی رات تقریباً 11 بجے کے قریب میرے بھائی افتخار علی جو کہ کافی عرصہ سے بطور چیئرمین انجمن تاجران مین والٹن روڈ کینٹ میں سماجی خدمات سرانجام دے رہا ہے‘ اسکے گھر 15 سے 20 افراد پولیس وردیوں میں ملبوس گھس آئے جبکہ ان کیساتھ کوئی لیڈی پولیس بھی نہ تھی  انہوں نے آتے ہی میرے بھائی افتخار علی کا پوچھا تو جب فیملی نے بتایا کہ وہ گھر میں موجود نہیں ہیں اس پر مذکورہ پولیس وردیوں میں ملبوس افراد نے انہیں زدوکوب کیا‘ گھر کی مکمل تلاشی اور ویڈیو بناتے رہے۔ الیاس مغل ایڈووکیٹ کے مطابق اگر پولیس وردیوں میں ملبوس افراس حقیقتاً لاہور پولیس کے اہلکار تھے تو انہیں اپنی شناخت کرانا چاہئے تھی اور سی سی ٹی وی کیمرے نہیں اتارنے چاہئیں تھے۔ الیاس مغل ایڈووکیٹ نے کہا کہ عورتوں اور بچوں کو ہراساں کرنا غیرقانونی ہے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر اس واقعہ کی تحقیقات کرائیں اور ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید :

علاقائی -