راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ سکینڈ ل، چیئر مین نیب نے تحقیقات کا حکم دیدیا 

  راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ سکینڈ ل، چیئر مین نیب نے تحقیقات کا حکم دیدیا 

  

  اسلام آباد،راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔چیئرمین نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں بدعنوانی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں اور کرپشن کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ ذ ر ا ئع کے مطابق چیئرمین نیب نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں بے ضابطگی اور غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔دوسری طرف پنجاب حکومت نے راولپنڈی رنگ روڈسکینڈل کی تحقیقات ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو سونپ دیں۔ترجمان پنجاب حکو مت کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری ڈی جی اینٹی کرپشن کو دیدی گئی ہے اور انہیں جامع رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی سمیت ساتھ ہی معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق حکومت پنجاب نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو ہدایت کی ہے کہ سکینڈل کی انکوائری کمیٹی میں ماہرین کو بھی شامل کیا جائے تاکہ کرپشن کرنیوالے انجام سے بچ نہ سکیں۔ترجمان صوبائی حکومت نے کہا راولپنڈی رنگ روڈسکینڈل کے تمام کرداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائیگا۔دو سر ی جانب خیال رہے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری مکمل ہوتے ہی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کر دیئے گئے ہیں۔ ڈ پٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق کو عہدے سے ہٹا کر ڈی سی چکوال کو راولپنڈی کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطا بق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کیپٹن (ر) شعیب کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر اٹک علی اننان قمر کو بھی عہدے سے ہٹاتے ہو ئے اے ڈی سی جی کیپٹن (ر) قاسم اعجاز کو اے ڈی سی آر راولپنڈی کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ تمام تبادلے راولپنڈی رنگ روڑ سکینڈل کی تحقیقات کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ کمشنر راولپنڈی کو بھی اسی وجہ سے پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔

راولپنڈی رنگ روڈ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانی ذلفی بخاری نے رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقا ت کیلئے خود کو پیش کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ذلفی بخاری نے کہا کسی بھی انکوائری کاسامنا کرنے کوتیارہوں، جب تک میرا نام کلیئر نہیں ہوجاتا عہد ے سے استعفیٰ دے رہاہوں۔میرے وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا نام کسی انکوائری میں آجائے چاہے وہ صحیح ہو یا غلط، اسے اپنا نام کلیئر ہوجانے تک عوامی عہدے سے الگ ہوجانا چاہیے، لہٰذا رنگ روڈ انکوائری میں مجھ پر لگنے والے الزامات کی بناء پر میں اپنا نام کلیئر ہونے تک عہدے سے مستعفی ہوکر مثال قائم کرنا چاہتا ہوں۔ ذلفی بخاری نے مز ید کہا میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں رنگ روڈ یا رئیل اسٹیٹ کے کسی اور جاری منصوے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، اس بار انکوائری اہل شخصیات کی جانب سے ہونی چاہیے، میں ا س حوالے سے جوڈیشل انکوائری کی حمایت کرتا ہوں، پاکستان میں ہی ہوں اور وزیراعظم اور ان کے وژن کیساتھ کھڑا ہوں، میں نے اپنے ملک کی خدمت کیلئے بیرون ملک آرام کی زندگی قربان کی، کسی بھی انکوائری کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں۔

ذلفی بخاری

مزید :

صفحہ اول -