سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کامعاملہ، درخواست واپس لینے پر نمٹا دی

سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کامعاملہ، درخواست واپس لینے پر نمٹا دی

  

لاہور (نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی سے ملاقات نہ کروانے کے معاملہ پر سماعت کرتے ہوے درخواست واپس لینے کی بناپر نمٹا دی درخواست میں. موقف اختیار کیا تھا کہ سعد رضوی ایک ماہ کے زائد عرصہ سے زیر حراست ہیں مگر کسی کو ملاقات نہیں دی جارہی. چیف جسٹس قاسم خاں نے ملک افتخار احمد اعوان ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں پنجاب حکومت آئی جی جیل خانہ،ہوم سکرٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست گزار کا موقف تھا کہ صدر تحریک لبیک سعد رضوی سے ملاقات نہیں کی اجازت نہیں دی جارہی صدرتحریک لبیک سعدرضوی سے ملاقات کے لئے ہوم سکرٹری کودرخواست دی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومت کو ملاقات کی اجازت کا حکم دے. عدالت نے درخواست گزار وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی جانب سے پاور آف آٹرنری ٹرائل کورٹ میں جمع کروایا گیا, وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ٹرائل ہی نہیں چل رہاہے, عدالت نے پوچھا کہ آپ کیسے سعد رضوی کے وکیل مقرر ہوگئے عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا سعد رضوی کو کسی غیرقانونی جرم میں گرفتار کیا یا ڈیٹینشن آرڈر کے زریعہ گرفتار کیا وکیل نے کہا کہ ٹی وی پر چل رہا ہے کہ ڈیٹینش آرڈر کیذریعہ گرفتار کیا گیا   عدالت نے پوچھا کہ کہاں ہے وہ ڈیٹنشن آرڈر وکیل نے کہا کہ ابھی تک کوئی آرڈر ملا نہ ہی ملنے دیا جارہا ہے، وکیل نے کہا کہ میں آپ سعدرضوی کی بیوی کا پاور آف اٹارنی پیش کرسکتا ہوں،عدالت نے مکالمہ کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ تحریک لبیک کے لیگل ایڈوائزر ہے اور یہ تنظیم بینڈ ہے ایک کالعدم قراردے گئی تنظیم کو کوئی مستقل لیگل ٹیم ہوسکتی ہے، وکیل نے مزیدبتایا کہ یہ وہی تحریک لبیک ہے جس سے حکومت مذاکرات کررہی ہے، وکیل نے عدالت سے پوچھا کہ کیا میں فقط سعد رضوی کا وکیل بن کر آجاؤں تواجازت مل جائے گی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب وہ درخواست لے آئیں گے تو تب دیکھ لیں گے، وکیل نے کہا کہ اجارت دینی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں نہ دینی ہو تو 100 بہانے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہ جملہ میڈیا کے سامنے بولئے یہاں بولنے کی ضرورت نہیں،وکیل کے طورپر دلائل دیں، آپ بطور لیگل ایڈوئزر فرد واحد کی طرف سے پیش ہوسکتے ہیں مگریہاں تو ٹی ایل پی کی لیگل ٹیم ملنا چاہتی ہے، چیف جسٹس نے مزیدریمارکس دیئے کہ اگر آپ فقط سعد رضوی کے وکیل کے طور پر پیش ہوتے تو میں جیل حکام کو پاور آف اٹارنی پر دستخط کی ہدایت دے دیتا۔

نمٹا دی 

مزید :

صفحہ آخر -