ارسا حکام کسی صوبے کو پانی سے محروم نہیں رکھ سکتے،سہیل انور سیال 

ارسا حکام کسی صوبے کو پانی سے محروم نہیں رکھ سکتے،سہیل انور سیال 

  

لاڑکانہ (این این آئی)وزیرآبپاشی سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ ارسا حکام غلط دعوے کرکے غیرقانونی طور پر کسی صوبے کو پانی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔سندھ کو 90 ہزار کیوسک انڈینٹ کے مقابلے میں صرف 66 ہزار کیوسک پانی چشمہ بیراج سے فراہم کیا جارہا ہے۔بلاول بھٹو نے پانی کی تقسیم کے عمل میں بددیانتی کی نشان دہی کرکے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں۔پیر کو لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل انور سیال نے کہا کہ ارسا حکام کا یہ دعوی غلط ہے کہ سندھ کو 71 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہیپانی کے 1991 کے معاہدے کے تحت پنجاب کا حصہ ایک لاکھ 800 کیوسک ہے جبکہ پنجاب کو 96 ہزار 155 کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہے۔سندھ کے موازنے میں پنجاب میں صرف پانچ فیصد پانی کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ارسا حکام نے سندھ میں چار فیصد پانی کی کمی کا بھی غلط دعوی کیا، سندھ میں تقریبا 28 فیصد پانی کی کمی ہے۔یکم اپریل سے 10 مئی تک خریف کے سیزن میں معاہدے کے تحت سندھ کو 3.421 ملین ایکڑ فٹ پانی ملنا تھا مگر صرف 2.477 ملین ایکڑ فٹ پانی ملا۔سندھ کے بیراجوں پر کل تک ریکارڈ کی گئی پانی کی مجموعی کمی 37 فیصد تک ہے۔ارسا حکام کا یہ دعوی بھی غلط ہے کہ پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے تحت ہورہی ہے۔ملک میں پانی کی موجودہ تقسیم Three Tier فارمولے کے تحت ہورہی ہے جس کا 1991 کے معاہدے میں ذکر نہیں۔ارسا حکام کا سندھ کی جانب سے بلوچستان کو پانی کی فراہمی میں کمی کرنے کا دعوی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔پنجاب کبھی بھی یومیہ پانی کے استعمال کے اپنے اعداد وشمار کسی سے شیئر نہیں کرتا جبکہ سندھ اپنے اعدادوشمار سب سے شیئر کرتا ہے۔سہیل انور سیال نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی خواہاں ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پانی کی تقسیم کے معاملے میں پنجاب، خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور سندھ سمیت کسی سے زیادتی نہیں ہونے دے گی۔بلاول بھٹو نے پانی کی تقسیم کے عمل میں بددیانتی کی نشان دہی کرکے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں۔آج اگر کسی ایک صوبے سے پانی کی تقسیم کے عمل میں زیادتی ہورہی ہے تو کل کسی دوسرے صوبے کو اسی نظام کے تحت استحصال کا سامنا ہوگا۔وفاق اور تمام صوبوں کو مل کر ایک ایسا نظام بنانا ہوگا کہ جس میں کسی اکائی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔سندھ کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے ارسا ایک فریق کے طور پر سامنے آیا، یہ طریقہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی کو زیب نہیں دیتا۔

مزید :

صفحہ اول -