تعلقات سیاست کی بھینٹ کیوں چڑھائیں۔۔۔؟؟؟

تعلقات سیاست کی بھینٹ کیوں چڑھائیں۔۔۔؟؟؟
تعلقات سیاست کی بھینٹ کیوں چڑھائیں۔۔۔؟؟؟

  

بعض اوقات انسان سوچتا ہے کہ کسی طرح سیاسی معاملات سے بچ بچا کر کالم آرائی کی جائے لیکن  موجودہ ملکی صورتحال پر نظر ڈالی جائے یا ملکی معاملات کا خیال آئے تو ایسا ممکن نہیں رہ پاتا کہ سیاست کو زیر قلم لائے بغیر  بندہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ سیاسی صورتحال ایسی بن چکی ہے کوئی سیاستدان ہو یا کوئی عام  انسان سیاسی موضوع گفتگو کا حصہ بنے بغیر تو جیسے گفتگو ادھوری ہی رہ گئی ہے۔ کوئی ڈرائینگ روم ہو یا حجام کی دکان ، شادی بیاہ کا فنکشن ہو یا کوئی نجی محفل  ہر جگہ سیاسی گفتگو تو جیسے لازم و ملزوم ہو چکی ہے۔

گزشتہ دنوں میری اپنے دور طالب علمی کے قریبی دوستوں کے ہمراہ ایک بیٹھک تھی۔ ملاقات کی غرض سے جب آفس سے نکلا تو بھرپور ارادہ تھا کہ پوری محفل میں سیاسی گفتگو سے مکمل گریز کروں گا۔ بلکہ میری کوشش یہ تھی کہ سیاست کو آج کی محفل کا حصہ ہی نہ بنایا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ طویل عرصہ بعد ہونے والی ملاقات سیاسی بحث کی نذر ہو کررہ جائے۔ لیکن اپنے اس ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا پایا۔

نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا نکلا، محفل کا آغاز ہونے کی  کچھ دیر بعد ہی گفتگو کا  رخ شغل میلے  اور مذاق سے ہوتا ہوا سیاست کی جانب مڑ گیا۔ گرما گرم بحث ہوئی بلکہ ایک دوست تو کافی جذباتی ہوگیا اور سابق حکمران جماعت کی خوبیاں گنوانے لگا تو دوسرا موجودہ حکومت کے حق میں دلائل دینے لگا۔  بحرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ محفل کا آدھے سے زیادہ دورانیہ سیاسی بحث کی نذر ہو گیا۔

اب ملک کی سیاسی صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ  کوئی بھی محفل اب سیاسی گفتگو سے پاک نہیں رہ گئی۔ بعض اوقات تو اگر کسی محفل میں سنجیدہ گفتگو نہ بھی ہو تو ازراہ مذاق بھی سیاسی  جملوں کا  استعمال معمول کی گفتگو کا حصہ بن جاتا ہے ۔ جیسے گزشتہ دنوں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا ایک جملہ   بظاہر تو ان کی زبان پھسلنے کے باعث ادا ہوا  کہ ’’ کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘‘ لیکن یہ جملہ میمز سے لیکر بعض اوقات ازراہ مذاق عام گفتگو میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

سیاسی پسند ناپسند کے باعث تو اب بعض  اوقات گفتگو لڑائی جھگڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔  کئی ایسے لوگ جو دیرینہ تعلقات کے باعث جانے جاتے ہیں ان کے تعلقات اس سیاسی پسند ناپسند کی بھینٹ چڑ چکے ہیں۔ ہر کوئی اپنے سیاسی رہنما کی خوبیوں کو بڑھ چڑھ کر بیان کرتا ہے  بحث پہلے معمول کے مطابق ہوتی ہے جب ایک دوسرے سے متفق نہیں ہواجاتا ہے معاملات جذبات سے ہوتے ہوتے لڑائی جھگڑے اور بعض اوقات  قتل پر منتج ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ آ پ سےشیئر کرتا چلتا ہوں ۔

ایک فیکٹری میں دو دوست اکٹھے کام کرتے تھے۔ ان کا تعلق سالوں پر محیط تھا۔ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آتے ، غمی خوشی میں شریک ہوتے تھے۔ دونوں کی تنخواہ بھی واجبی سی تھی جس سے دو وقت کی روٹی بمشکل پوری ہوتی تھی۔ جیسےانگریزی میں کہتے ہیں ’’Hand to Mouth‘‘ والی صورتحال تھی۔ دونوں دوستوں میں گاڑھی چھنتی تھی، لیکن ایک  معاملہ یہ تھا کہ دونوں کے سیاسی نظریات  ایک دوسرے سے میل نہ کھاتے تھے۔ 

عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہواتو  کام کے دوران سیاسی بحث شروع ہوئی، ایک جو  تحریک انصاف کا حامی تھا  اس نے اپنے دوست سیاسی مخالف کو  امریکی غلام کا طعنہ دیا  جبکہ دوسرے نے دو بدو جواب دیتے ہوئے یہودی ایجنٹ کا طعنہ داغ دیا، پل بھر میں دونوں کی دوستی ناراضی میں بدلی اور پھر بحث ہوتے ہوتے معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ یہاں تک  سیاسی اختلاف کے باعث ایک دوست قتل ہوا جبکہ دوسرا جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔

اب آپ اندازہ کریں کوئی ذی شعور  یہ گوارا کرے گا کہ اس کے دیرینہ تعلقات سیاست کی بھینٹ چڑھ جائیں ۔ یہ صرف جذبات کی رو میں بہہ جانے کے باعث  معاملات اس نہج کو پہنچتے ہیں۔  کبھی آپ نے غور کیا جن سیاسی رہنماؤں کے پیچھے ہم اپنے تعلقات داؤ پر لگا دیتے ہیں، وہ آپس میں نجی زندگی میں کتنے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ کبھی آپ نے  غور کیا جب یہ سیاسی  مخالفین کسی تقریب  یا فنکشن میں شریک ہوتے ہیں تو کس قدر گرمجوشی سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔  بلکہ دور کیا جانا حال میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کےدوران وقفے میں خواجہ سعد رفیق اور فواد چوہدری خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دیے ۔ کیمروں کی آنکھ نے یہ منظر محفوظ کر لیا۔ اول الذکر کا تعلق اس جماعت سے  جو تحریک عدم اعتماد لا رہی تھی ثانی الذکر شخصیت کا تعلق اس جماعت سے جس کےسربراہ کیخلاف تحریک عدم اعتماد آرہی تھی۔ اس کے باوجود دونوں خوشگوار موڈ میں محوگفتگو تھے۔ لیکن عوام ایسے مناظر دیکھ کر بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔

بظاہر ایک دوسرے کے سیاسی مخالف رہنماؤں کی تو بعض ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جو سیاسی اختلافات کے باوجود ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ غور کریں محمد زبیر عمر اور اسد عمر  دونوں سگے بھائی ہیں اول الذکر کا تعلق مسلم لیگ ن جبکہ ثانی الذکر کا تعلق تحریک انصاف سے ہے دونوں کی جماعتیں ایک  دوسرے پر غداری اور غلامی کے الزمات لگاتی ہیں ۔ اسی طرح پرویز خٹک کا تعلق  تحریک انصاف سے جبکہ ان کے بھائی جے یو آئی ف سے تعلق رکھتے ہیں ۔

پھریہ تو عوام کے لیے سوچنے کی بات ہے کہ آخر ہم کیوں ان سیاسی رہنماؤں کے وجہ سے آپس میں بگاڑ پیدا کررہے ہیں  جو خود تو مخالف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود گھل مل کررہتے ہیں مزید یہ کہ وہ ہمارے سیاسی پسند ناپسند کے جھگڑوں تعلق تک نہیں رکھتے مگر ایک عوام ہیں ان سیاسی رہنماؤں کے پیچھے دیوانے ہوئے پھرتے اور قریبی تعلقات کو دشمنیوں میں بدل رہے ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -