سقراط معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں

سقراط معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو ...
سقراط معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط : 3

سقراط کی بدصورتی اور خوبصورتی:

سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یونان کے روایتی شہریوں کی طرح خوبصورت اور پرکشش شخصیت کا مالک نہ تھا بلکہ وہ جسمانی لحاظ سے بھدّا اوربدصورت تھا۔ اس لیے بچپن میں اس کے سکول کے ساتھی اس کی بدصورتی کی وجہ سے اسے مینڈک کہا کرتے تھے۔ اس کے قریبی دوست کرائیٹو نے اس کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی سے بے فکرہ اور لاپرواہ تھا۔ اس کے چھوٹے قد پر بے ترتیب شِکنوں سے پُرلباس ہوتا۔ اس کے ہونٹ موٹے اور کھردرے تھے۔ اس کی گردن کندھوں میں دھنسی ہوئی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور حلقوں سے ابھری ہوئی تھیں۔ اس کی ناک چپٹی اور پیشانی چھوٹی تھی۔ اس کی داڑھی بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی۔ اس کا لبادہ عموماً اس کے جسم سے ڈھلکا ہوا رہتا۔وہ اپنے بارے میں کہتا کہ یہ دیوتاﺅں کی مرضی ہے کہ میں ایسا ہوں کیونکہ ہر مخلوق کو خلق کرنے والا خود بہتر سمجھتا ہے کہ مخلوق کو کیسا ہونا چاہیے۔لیکن اس بھدّے اور بے ڈول جسم کے اندر بہت ہی خوبصورت، نیک، سچائی اور بصیرت سے بھرپور روح تھی۔

کرائیٹو کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا نیک، شریف، تحمل مزاج اور عالم شخص نہیں دیکھا اس نے کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچائی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مہربان اور دشمنوں کے ساتھ رحم دل تھا۔اس نے کبھی بھی اچھائی اور برائی کے درمیان تمیز کرنے میں غلطی نہیں کی۔ وہ نیک اور خوش ترین شخص تھا۔ اس کے اندر سچائی کی قوت تھی۔اس کا کہنا تھا جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ مخلوق کو اس کے فطری اصولوں کے ساتھ چلنا چاہیے۔وہ معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں۔

اس کی قوت ارادی بھی بہت طاقتور تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اگرچہ سقراط کے دور کا معاشرہ انتشار اور بدنظمی کا شکار تھا لیکن ایسے حالات میں اس کی اخلاقی خوبیوں کی بدولت اس کی ہر جگہ عزت کی جاتی تھی۔ وہ انتہائی خداداد ذہانت کا مالک تھا۔ 

محب وطن:

اس کا کہنا تھا کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ اپنے فرائض کو پوری ذمہ داری سے ادا کیا جائے۔ وہ جہالت کو برائی قرار دیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا خالق نے مخلوق کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے پیدا کیا ہے۔

اس کے قابل ترین شاگرد افلاطون کا کہنا ہے کہ سقراط ایک بہت بڑا محب الوطن بھی تھا۔ وہ کبھی بھی اپنے شہر سے باہر نہ گیا۔ اسے اپنے شہر اور ملک سے انتہائی محبت تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے ملک کے لوگ خوشحال، تعلیم یافتہ اور سچائی کے علمبردار ہوں۔

وہ ایک دفعہ اپنے دوست زینوفن کی دعوت میں گیا تو اس دعوت میں بہت سے امراءاور خوبصورت نوجوان بھی تھے جب کسی نے ا س کی بدصورتی کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا کہ میں اندر سے خوبصورت ہوں میرے ساتھ حسد نہ کرو دراصل یہ اس کا مزاحیہ انداز تھا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ سقراط کی ذات میں مزاح کا پہلو بھی نمایاں تھا۔

زینوفن کا کہنا ہے کہ سقراط علوم سائنس کا آقا ہے ہر کوئی جانتا تھا کہ اس کا قول اور عمل غیرمقدس نہیں ہے۔

سقراط خدا کی موجودگی کے بارے میںکہتا ہے کہ کائنات میں بکھری ہوئی فطرت میں وہ موجود ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ خدا انسان کی روح میں رہتا ہے۔اس کا کہنا تھاکہ میں عقیدے کی بجائے علم پر یقین رکھتا ہوں۔ نیک عمل میں خدا کی ذات خود موجود ہوتی ہے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -