قائمہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری میں ملکی کمپنی لینڈیسن نے حکومت کو2ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی

قائمہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری میں ملکی کمپنی لینڈیسن نے حکومت کو2ارب ڈالر ...
قائمہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری میں ملکی کمپنی لینڈیسن نے حکومت کو2ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری میں ملکی کمپنی لینڈیسن نے 2ارب ڈالر سرمایہ کاری کی حکومت کوپیشکش کر دی،حکومت کے اسلام آباد میں مجوزہ سیکٹرمیں سرمایہ کاری کی پیشکش ایک ارب ڈالر ٹیکس کی مد میں حکومت کو دے گی، قائمہ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں سی ڈی اے، وزارت ہاوسنگ  اور متعلقہ حکام کو طلب کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ذوالفقار علی بھٹی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت کے اعلیٰ حکام  کے علاوہ اراکین کمیٹی احمد رضا مانیکا، ساجد مہدی، افتخار نذیر،محمد اجمل خان، شمس النسائ، مسرت رفیق مہیسر،عبدالحکیم بلوچ، محمد ابو بکر، شاہدہ اختر علی، وجیہہ قمر، نواب شیر، رانا محمد قاسم نون، عامر طلال گوپانگ ،سردار ریاض محمود خان مزاری، نزہت پٹھان،  آسیہ عظیم،فہمیدہ مرزا، فرخ خان، علی نواز شاہ  سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اراکین کمیٹی نے سابقہ ایجنڈے کی منظوری دی۔ اجلاس میں ریئل اسٹیٹ میں کام کرنے والی ایک ملکی فرم لینڈیسن ڈویلپرنامی کمپنی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اگر حکومت ہماری پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرے تو ہم ریئل اسٹیٹ میں 2ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں، اس سلسلے میں ہمارا غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدہ ہو چکا ہے۔

اراکین کمیٹی کے مطالبے پر کمپنی حکام نے منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے سی ڈی اے اور وزارت ہائوسنگ کی جانب سے مختص ہائوسنگ سیکٹرز کی جگہ پر ہمیں وہاں پر سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارے مالی مسائل کی وجہ سے مختص شدہ سیکٹرز کی زمین مالکان کو رقم کی ادائیگیاں نہیں کر سکتی، ہم نہ صرف اس زمین کے مالکان کو معاوضہ ادا کریں گے بلکہ وہاں پر موجود مکانات کے مالکان کو بھی رقم ادا کر کے اس جگہ کو ڈویلپ کریں گے، کمپنی حکام کے مطابق حکومت اس سلسلے میں سیکشن 4لگائے اور ہمیں اعتماد میں لے تا کہ ہم اپنی سرمایہ کار کمپنیوں کو اس سلسلے میں باقاعدہ مدعو کر کے معاہدے پر دستخط کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کی جانب سے مجوزہ سیکٹرز کو ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے زمین مالکان اپنے طور پر زمینیں فروخت کر رہے ہیں جس سے حکومت کا لے آئوٹ پلان بری طرح متاثر ہو گا، اگر حکومت ہماری پیشکش کو منظور کرتی ہے تو ہم حکومت کو ٹیکس کی مد میں ایک ارب ڈالر ادا کریں گے اور ایک ارب ڈالر سے زمین خرید کر وہاں پر ہائی رائز بلڈنگز تعمیر کی جائیں گی۔ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں سی ڈی اے ،وزارت ہائوسنگ ، وزارت داخلہ سمیت متعلقہ حکام کو طلب کرلیا۔

مزید :

قومی -