ڈالر کی شرط ، پرائیویٹ حج سکیم کے آرگنا ئز رکوٹہ واپس کرنے کو تیار 

  ڈالر کی شرط ، پرائیویٹ حج سکیم کے آرگنا ئز رکوٹہ واپس کرنے کو تیار 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (رپورٹ:میاں اشفاق انجم)ڈالر اور ریال کی اڑان، ڈالر اکاﺅنٹ کھولنے اور بیرون ممالک سے سپانسر شپ سکیم کے ذریعے بکنگ کروانے کے سخت ترین عمل اور بیرون ممالک میں رہنے والوں کو پاکستان میں ڈالر بھیجنے کے لئے حائل مشکلات نے ملک بھر کے سینئر جونیئر تجربہ کار حج آرگنائزر کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ حج 2022ءمیں50روپے والا ریال حج2023ءمیں78سے80 روپے کا ہو چکا ہے پاکستانی روپے کے ٹکے ٹوکری ہونے کی وجہ سے سرکاری سکیم کی طرح پرائیویٹ سکیم کا حج بھی ڈبل ہو چکا ہے۔ عوام کی قوت خرید ختم ہونے کی وجہ سے بچوں کا پیٹ پالیں یا حج کریں فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک بھر کے حج آرگنائزر بالعموم اور جنوبی پنجاب کے بالخصوص پاکستان اور دنیا بھر کے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو حج کرنے کی درخواست کرتے کرتے تھک گئے۔وزارت مذہبی امور سے پرائیویٹ سکیم کی سپانسر شپ سکیم( ڈالر سکیم) ختم کروانے یا حج کوٹہ واپس کروانے کے لئے تیار ہو گئے۔وزیر خزانہ کی حاجیوں کے ذریعے ڈالر لانے کی ضد نے18 سال سے کامیابی سے سے جاری پرائیویٹ حج سکیم کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم پاکستان کی گورنمنٹ حج سکیم کی سپانسپر شپ سکیم میں صرف6700 حاجیوں کی درخواستیں پورے وسائل لگانے کے بعد وصول کر سکتے تھے، چاہئے تو یہ تھا سرکاری سکیم کی سپانسر شپ سکیم کی بڑی ناکامی کے بعد پرائیویٹ سکیم کی کمپنیوں کو اس آزمائش میں نہ ڈالا جاتا۔دور اندیشی کی بجائے ضد کے عمل کے تحت پرائیویٹ سکیم کی کمپنیوں کو کوٹہ کا50فیصد ڈالر سکیم میں لانے کی نہ صرف شرط رکھی بلکہ50فصد بکنگ نہ کرنے پر کمپنی کو بلیک لسٹ اور جرمانہ کی شرط بھی عائد کر دی۔19شوال تک پرائیویٹ سکیم کی سپانسر شب سکیم کا حال بھی سرکاری سکیم کی طرح کا ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ اور وزارت درمیانی راستہ نکالنے کی بجائے ضد پر اڑے ہوئے ہیں پرائیویٹ سکیم کی کمپنیاں10فیصد سے زیادہ بکنگ نہیں کر سکی تھیں جرمانے اور بلیک لسٹ سے بچنے کے لئے کوٹہ واپس کرنے کو تیار ہیں۔وزیر خزانہ اور وزارت نے فیصلہ نہ کیا تو پرائیویٹ سکیم کی کمپنیوں کو کروڑوں کا نقصان ہو گا اور سعودیہ بھیجے گئے ریال اور مکہ مدینہ میں بک کیے گئے ہوٹل کا خرچہ بھی برداشت کرنا پڑے گا، بڑے دیوالیہ پن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
حج سکیم 

مزید :

صفحہ آخر -