توہین ِ پارلیمنٹ بل

توہین ِ پارلیمنٹ بل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


قومی اسمبلی نے توہین مجلس شوریٰ بل2023ء متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس کے مطابق توہین ثابت ہونے پر چھ ماہ قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔ انسداد توہین کمیٹی کسی بھی ریاستی یا حکومتی عہدیدار کو طلب کر سکے گی۔ توہین کا کوئی بھی معاملہ اس کے سامنے پیش کیا جائے گا جو 60 روز کے اندر رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی،قومی اسمبلی یا سینٹ کے ایوان معاملہ کمیٹی کو بھیجیں گے جو توہین ِ پارلیمنٹ کے الزام کی تحقیقات کا آغاز کرے گی۔بل کے تحت پارلیمنٹ کی تحقیر ثابت ہونے کے بعد فیصلے پر عملدرآمد کی ذمہ داری جوڈیشل مجسٹریٹ پر ہو گی۔ توہین ِ پارلیمنٹ کی سزا کے خلاف 30روز کے اندر اپیل کا حق ہو گا تاہم سزا کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور سزا کے خلاف اپیل صرف اِسی کمیٹی کے سامنے ہی ہو سکے گی۔ کمیٹی کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے۔کمیٹی عدم پیشی پر شخصی وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی جبکہ وارنٹ گرفتاری  کے لیے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی منظوری ضروری ہو گی۔سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق رانا محمد قاسم نون نے  یہ بل ایوان میں پیش کیا۔انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے پارلیمنٹ کی توہین کی جا رہی ہے جس کی و جہ سے یہ بل اسمبلی میں لایا جا رہا ہے، جو کوئی پارلیمنٹ کی توہین کرے، اُسے سزا ملنی چاہیے۔ قاسم نون کا کہنا تھا کہ آج کا دن پارلیمانی تاریخ میں اہم ترین دن ہے اِس سے پارلیمان کی بالادستی قائم ہو گی۔ وزیر تعلیم رانا تنویر نے بل کی تائید کی اور اجلاس سے خطاب میں پارلیمنٹ کو سپریم قرار دیتے ہوئے کہا کہ توہین ِ پارلیمنٹ پر قانون سازی کی ضرورت کے تحت یہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔بل کے مطابق توہین کمیٹی کے ممبران کی تعداد پانچ ہو گی، قومی اسمبلی سے تین اور سینٹ سے دو ارکان اِس کا حصہ ہوں گے،کمیٹی میں ایک نام سپیکر ایک وزیراعظم اور ایک نام اپوزیشن لیڈر دیں گے، سینیٹ سے کمیٹی کا ایک رکن حکومت اور ایک اپوزیشن سے ہو گا، چیئرمین اور چیئرپرسن کا فیصلہ خود کمیٹی کرے گی،بل کے مطابق 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی توہین ِ پارلیمنٹ کے الزامات کی تحقیقات کرے گی،کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے مساوی ارکان شامل ہوں گے۔یہ کمیٹی شکایات کی رپورٹ سپیکر یا چیئرمین سینٹ کو پیش کرے گی جو متعلقہ فرد پر سزا کے تعین کا اعلان کر سکیں گے۔ مذکورہ بل قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد اب سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔
توہین ِ پارلیمنٹ کا قانون دنیا کی پارلیمانی تاریخ میں کوئی نیا قانون نہیں ہے،اِس کا اطلاق مختلف ممالک میں ہو رہا ہے اور اُن کی اسمبلیاں توہین ِ پارلیمنٹ پر مختلف شخصیات، اداروں اور اُن کے  ذمہ داروں کو طلب کرتی رہتی ہیں۔ قاسم نون کے مطابق ایسے قوانین صوبائی اسمبلیوں میں پہلے سے موجود ہیں تاہم قومی سطح پر یہ بل اب متعارف کرایا گیا ہے۔اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ کے استحقاق کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پہلے بھی ضوابط موجود ہیں،استحقاق کمیٹی اِس حوالے سے کسی بھی فرد کو طلب کر سکتی ہے اور کرتی بھی رہی ہے تاہم موجودہ سیاسی تصادم اور اداروں کے درمیان اختیارات کے تعین کے حوالے سے کھینچا تانی کی فضاء میں قومی اسمبلی کی جانب سے اِس بل کی منظوری اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
 پاکستان میں اداروں کے درمیان رسہ کشی ایک عرصے سے دیکھنے میں آ رہی ہے،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد اِس رسہ کشی نے بڑی شدت اختیار کر لی۔ عدالتی کارروائی کے دوران مختلف مواقع پر پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے کردار و افعال پر ایسے ریمارکس دیے گئے جس پر پارلیمنٹ میں شدید ر دعمل دیکھنے میں آیا۔پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بینچ بنانے کے اختیار کو محدود کرنے کے لیے بل منظور کر لیا جسے عدالتی اصلاحات کا نام دیا گیا تاہم سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اِس پر عملدرآمد روک دیا۔ اگر تمام ادارے آئین پاکستان کے تحت تفویض کردہ اختیارات کے دائرے میں کام کریں،ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ایک مربوط نظام کا حصہ بن کر اپنا اپنا کردار ادا کریں تومسائل اور اُلجھنیں کم ہوتی جائیں گی۔دنیا کی مہذب اقوام کا یہی وطیرہ ہے۔ اب جبکہ توہین ِ پارلیمنٹ قانون بننے جا رہا ہے تو یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ اِس قانون کا استعمال ذمہ دارانہ انداز میں ہو گا،کسی بھی جمہوری ملک میں پارلیمنٹ کا احترام بہت اہم ہے لیکن اِس کے ساتھ دیگر اداروں کی تکریم پر بھی کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -