جناح ہاؤس کو قومی میوزیم بنانے کی بجائے کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ حامد میر نے اہم انکشافات کر دیئے

جناح ہاؤس کو قومی میوزیم بنانے کی بجائے کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں کیوں ...
جناح ہاؤس کو قومی میوزیم بنانے کی بجائے کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ حامد میر نے اہم انکشافات کر دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ )جناح ہاؤس کو قومی میوزیم بنانے کی بجائے کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے اہم انکشافات کر دیئے۔ اپنے بلاگ بعنوان "جیسی قوم ویسے حکمران " میں انہوں نے لکھا کہ کور کمانڈر لاہور کے گھر پر حملہ اور اسے جلا دینا ایک قابل مذمت واقعہ تھا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے لیکن موجودہ حکمرانوں کی منافقت دیکھیے کہ وہ صرف عمران خان کی مذمت کیلئے یہ بیانیہ بنا رہے ہیں کہ تحریک انصاف والوں نے جناح ہاؤس جلا دیا۔ 

"جیو " اور "جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ میں حامد میر نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صاحب اختیار یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ جناح ہاؤس کو قومی میوزیم بنانے کی بجائے کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ قائد اعظمؒ نے یہ گھر قاضی محمد عیسیٰ (قاضی فائز عیسیٰ کے والد) کے ذریعے موہن لال بھاسن سے خرید ا تھا 1944ء میں برطانوی فوج نے اس بنگلے کو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ذریعے اپنے قبضہ میں لے کر 700روپے ماہانہ کرایہ دینا شروع کر دیا۔ کرایہ داری کا معاہدہ 28اپریل 1947ء کو ختم ہونا تھا لہٰذا 3جنوری 1947ء کو قائد اعظمؒ کو برطانوی فوج نے بتایا کہ ہم کرایہ داری معاہدہ کے بعد بھی آپ کو آپ کا گھر واپس نہ کر سکیں گے جس پر قائداعظمؒ نے قانونی کارروائی شروع کر دی۔ یکم اگست 1947ء کو قائد اعظمؒ کو خط لکھا گیا کہ آپ کا گھر واپس کر دیا جائے گا۔

 31جنوری 1948ء کو اس گھر کی توسیع شدہ لیز ختم ہو گئی لیکن قائد اعظمؒ کو اس گھر کا قبضہ نہ دیا گیا۔ قائد اعظم ؒکی وفات کے بعد اس گھر کو پاکستانی فوج کے دسویں ڈویژن کے جی او سی کی رہائش گاہ قرار دیکر محترمہ فاطمہ جناح کو 500 روپیہ ماہوار کرایہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعدازاں 1959ء میں جنرل ایوب خان کے حکم پر جناح ٹرسٹ میں ساڑھے تین لاکھ روپے جمع کروا کر اسے کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ قرار دے دیا گیا۔ کچھ سال کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو جنرل صاحب نے فاطمہ جناح کو انڈین ایجنٹ قرار دیدیا۔ جس جنرل ایوب خان نے قائد اعظمؒ کے گھر پر قبضہ کیا اس کا پوتا عمر ایوب خان آج تحریک انصاف میں شامل ہے۔

پی ڈی ایم اور اس کے اتحادیوں کی حکومت نے 9مئی کو جناح ہاؤس لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پاک فوج کے شہداء کی یادگاروں اور فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ کرنے والوں کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتیں بنا کر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افسوس کہ ’’جناح ہاؤس لاہور‘‘ پر حملے کی مذمت کرنے والی حکومت قائد اعظم  محمد علی جناحؒ کی تعلیمات کو نظر انداز کر رہی ہے۔