مذہبی جماعتیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی عملی حمایت کا فریضہ سرانجام دیں : محفوظ النبی خان

مذہبی جماعتیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی عملی حمایت کا فریضہ سرانجام دیں : ...
مذہبی جماعتیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی عملی حمایت کا فریضہ سرانجام دیں : محفوظ النبی خان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی( ڈیلی پاکستان آن لائن )مذہبی جماعتیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی عملی حمایت کا فریضہ سرانجام دیں جو کہ تحریک پاکستان کے عظیم رہنما چوہدری خلیق الزماں کا مشن تھا۔ ان خیالات کا اظہار معروف سماجی و سیاسی رہنما محفوظ النبی خان تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما چوہدری خلیق الزماں کی51ویں برسی کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری خلیق الزمان عالم اسلام کے ان اکابرین میں شامل تھے جنہوں نے برطانیہ میں اعلان بالفور کی مخالفت اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے بارے میں جدوجہد کی تھی۔ تحریک پاکستان کے مرحوم رہنما نے فلسطین سے متعلق تقسیم ہند سے قبل تمام بین الاقوامی کانفرسوں میں مسلمانان ہند کی نمائندگی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دور غلامی میں مسلمانان برصغیر نے جس جرأت کے ساتھ فلسطین سمیت ایشیاء اور افریقہ میں مسلم علاقوں کے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے لئے آواز اٹھائی تھی بدقسمتی سے آج ایسا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔

محفوظ النبی خان نے کہا ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسنی کے چوہدری خلیق الزماں کی جانب سے دیئےگئے استقبالیہ میں شامل تھے۔  چوہدری صاحب نے اسلامی سربراہی کانفرنس سے کافی عرصہ پہلے او۔آئی۔سی طرز کی تنظیم کے قیام کی تجویز پیش کی تھی اور مسلمانوں کی متحدہ عالمی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

 یہ امر قابل ذکر ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخیوں کے باوجود بنگلہ دیش کے صدر کی آفیشل ویب سائٹ پر جہاں ایک جانب جنرل سکندر مرزا کو متحدہ پاکستان کے مشرقی و مغربی بازوؤں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا  وہیں چوہدری خلیق الزمان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کرکے گورنر کی حیثیت سے گورنر راج لگا کر اختیارات پر قابض ہونے کے بجائے مستعفی ہونے کے فیصلے کی تعریف کی گئی ہے۔