بلڈ پریشر کو ہر صورت قابو میں رہنا چاہئے، میں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے حقیقت کو تسلیم کر لیا اور باقاعدگی سے دوا لینا شروع کر دی جو آج تک لے رہا ہوں 

بلڈ پریشر کو ہر صورت قابو میں رہنا چاہئے، میں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے حقیقت ...
بلڈ پریشر کو ہر صورت قابو میں رہنا چاہئے، میں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے حقیقت کو تسلیم کر لیا اور باقاعدگی سے دوا لینا شروع کر دی جو آج تک لے رہا ہوں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:105
ریاض میں بہت سارا کام میرے ا نتظار میں تھا۔ اب چونکہ 2 مختلف پروجیکٹ یعنی مکہ اور الباحہ دیکھ رہا تھا اس لیے مجھے پہلے سے زیادہ وقت بچوں سے دور رہ کر گزارنا تھا۔ مکہ پروجیکٹ ڈاکٹر تولان کی سربراہی میں اطمینان بخش انداز میں چل رہا تھا، پھر بھی مجھے وہاں کام کی رفتار اور معیار کو دیکھنے کی خاطر ایک تواتر سے چکر لگانا پڑتا تھا۔ الباحہ پروجیکٹ والوں نے میری ہدایت اور مشورہ مان کر سارا منصوبہ نئے سرے سے شروع کر دیا تھا۔ وہاں میرا ماتحت مشیر کریگلیا بہت اچھے انداز میں میری مدد کر رہا تھا، پھر بھی مجھے مکمل طور پر کام میں ”ملوث“ ہونا پڑتا تھا تاکہ میں ان کو سیدھا راستہ دکھاتا رہوں۔ میرے الباحہ کے دوسرے دورے کے دوران انھوں نے مجھے ساؤنا کی سہولت استعمال کرنے کی دعوت دی جو انھوں نے اپنے ریسٹ ہاؤس میں لگا ئی ہوئی تھی۔ سچی بات ہے کہ مجھے علم نہیں تھا کہ یہ کیا بلا ہے۔ جب میں نے ان سے اس کی تفصیل پوچھی تو انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ کچھ دیر بھاپ سے گرم کئے ہوئے ایک کمرے میں بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد فوراً ٹھنڈے پانی کے تالاب میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ مجھے تو اس کا تصور کر کے ہی جھر جھری آگئی۔ ایسے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ چونکہ میں نے ان کا کیا ہوا کام مسترد کردیا تھا تو یہ شاید مجھ سے اس کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور مجھے اس ساؤنا کے چکر میں ڈال کر مار دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے جب مجھے بتایا کہ ساؤناان کے ملکوں یعنی فن لینڈ، ناروے اور سویڈن کے بڑے سکونتی علاقوں اور کوٹھیوں بنگلوں میں لازمی طور پر بنایا جاتا ہے، تو میری ہمت کچھ بندھی اور میں نے اس کا تجربہ کرنے کی ٹھان  لی۔ مجھے ابھی بھی ڈر لگ رہا تھا لیکن جب میں نے یہ عمل مکمل کر لیا تو میں اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ پھر مجھے یہ اتنا پسند آیا کہ اب جہاں کہیں بھی ممکن ہوتا ہے تو میں ضرور اس سہولت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔   
ایک روز، جب میں عزت سلیم کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد اس کے کمرے سے باہرنکلا تو مجھے چکر سا آیا اور میں وہیں ان کے سیکریٹری واجد کے پاس پڑے ہوئے ایک صوفہ پر بیٹھ گیا اور میں اپنی اس حالت پر پریشان اور حیرت زدہ تھا کہ آخر یہ ہوا کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ایسا ہوا ہو، لیکن میں نے فوراً ہی یہ امکان رد کر دیا۔ بعد ازاں جب میں نے ڈاکٹر سے چیک کروایا تو میرے بدترین خدشات کی تصدیق ہو گئی کہ واقعی ہی میرا ہائی بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا۔ اگلے دن میں امراض قلب کے ڈاکٹر سے ملا تو اس نے بھی یہی بتایا۔ مگر میں نے ابھی تک اس بات کو تسلیم نہیں کیا تھا اس لیے میں نے اس کے لیے کوئی دوا بھی نہ لی تاہم اس کی وجہ سے میں قدرے ذہنی دباؤ میں آگیا تھا اور ابھی تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا کہ مجھے بھی یہ شکایت ہو سکتی ہے۔میں چونکہ ان دنوں ایک مختصر عرصے کے لیے پاکستان جا رہا تھا، اس لیے سوچا کہ وہاں اپنے بھائی ڈاکٹر افضل مغل سے مشورہ کروں گا۔ وہاں میرا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ بلڈ پریشر کو ہر صورت میں قابو میں رہنا چاہئے خواہ یہ دوا لینے سے ہو یا بنا ء دوا کے۔ میں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے اور حقیقت کو تسلیم کر لیا اور باقاعدگی سے دوا لینا شروع کر دی جو میں آج تک بھی لے رہا ہوں۔ میں نے اس ساری صورتحال کا ذمہ دار مسلسل سفر اور اپنی بساط سے بڑھ کر 2پروجیکٹوں پر کام کو قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود میں نے اپنے آپ کو سست نہیں ہونے دیا اور کام کو پہلے ہی کی طرح لگن اور ذمہ داری سے جاری رکھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -