گاہکوں کو گھٹیا خدمات مہیا نہ کریں، میں بہت خوش ہوں پر لطف زندگی گزار رہا ہوں دوسروں کو زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا موقع فراہم کر رہا ہوں 

گاہکوں کو گھٹیا خدمات مہیا نہ کریں، میں بہت خوش ہوں پر لطف زندگی گزار رہا ہوں ...
گاہکوں کو گھٹیا خدمات مہیا نہ کریں، میں بہت خوش ہوں پر لطف زندگی گزار رہا ہوں دوسروں کو زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا موقع فراہم کر رہا ہوں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:92
دوسرے الفاظ، میں کارکردگی کے لحاظ سے ایک مقررہ ہدف کا تعین، انتہائی بہترین تحریک و ترغیب کا باعث ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال پیش ہے: 
کافی عرصہ قبل میرے ایک دوست نے مرغ پکانے کا ایک نادر اور منفرد طریقہ کہیں سے سیکھ لیا کہ جس کے ذریعے اس کے چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں آنے والے گاہکوں کو مرغ کے سالن کا ذائقہ غیر معمولی طور پر پرلطف معلوم ہوا۔ اس طریقے کے ذریعے اس نے اس قدر دولت کما لی کہ پہلے اس نے دوسرا ریسٹورنٹ کھولا اور پھر تیسرا ریسٹورنٹ کھول لیا۔
لیکن اب اس کے سامنے ایک مسئلہ در پیش تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اب اپنے ریسٹورنٹس کی تعداد میں مزید اضافہ کرے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے یہ فکر بھی لاحق تھی کہ تعداد میں اضافے کے باعث وہ ان بے شمار ریسٹورنٹس کی نگرانی بخوبی طور پر کس طرح کرے کہ ”مرغ کے سالن“ کے ذائقے کا وہی معیار برقرار رہے جسے اس کے گاہک ہمیشہ سے پسند کرتے آئے تھے، مزید برآں، وہ اپنے مزید کھولے ہوئے ریسٹورنٹس کے منتظمین کو سہولیات اور فوائد مہیا کرے تاکہ وہ بھی اس کی طرح سخت محنت سے کام کریں۔
پھر ایک دن میرا دوست میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے اور مزید دولت کمانے کے ضمن میں اس نے 3 فیصلے کیے ہیں۔ پہلے تو اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان ریسٹورنٹس کو ٹھیکے پر دینے کی بجائے خود ان کا مالک بن جائے۔ اس طریقے کے ذریعے وہ ان ریسٹورنٹس میں جاری سرگرمیوں کی مکمل اور بھر پور نگرانی کر سکے گا۔
اس کا دوسرا فیصلہ یہ تھا کہ وہ اپنے منتظمین کا انتخاب نہایت ہی احتیاط سے کرے، نہ صرف یہ منتظمین پیشہ ورانہ طور پر ماہر اور تجربہ کار ہوں بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط کردار کے مالک ہوں۔ وہ اس قسم کے منتظمین چاہتا تھا جو مکمل طور پر قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ہوں اور اپنی ملازمت کا زیادہ تر وقت اسے دھوکہ دینے میں نہ گزاریں، اور یا پھر گاہکوں کو کم یا گھٹیا خدمات مہیا نہ کریں۔
اس کے منصوبے کا تیسرا حصہ غیر معمولی طور پر جدت اور ذہانت کا شاہکار تھا۔ اس نے فیصلہ یہ کیا کہ وہ اپنے ہر ریسٹورنٹ کے منیجر کو نہایت قلیل بنیادی تنخواہ دے گا، زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک مناسب رقم دے گا اور ریسٹورنٹ کے منافع میں سے نصف حصہ بھی ادا کیا جائے گا۔ چونکہ منتظمین منافع میں براہ راست حصے دار تھے، اس لیے اگر وہ اپنا کام صحیح طریقے سے کرتے، اپنے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے اور مرغ کے سالن کا ذائقہ گاہکوں کی پسند کے مطابق وہی رکھتے تو وہ زیادہ سے زیادہ فوائد منافع حاصل کر سکتے۔
معاوضہ وصول کرنے کے ضمن میں فرخ دلانا اور فیاضانہ طرز عمل کے باعث، منتظمین اپنی تنخواہوں کو 6 اعداد تک لے جانے میں کامیا ب ہوگئے۔ تقریباً تمام منتظمین دیگر ادارے میں کام کرنے والے بالائی متوسط طبقے کے حامل منتظمین کی تنخواہوں کی نسبت دگنی تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -