امریکہ شکست ور یخت کے چورا ہے پر....!

امریکہ شکست ور یخت کے چورا ہے پر....!
امریکہ شکست ور یخت کے چورا ہے پر....!

  

جو تا ریخ سے نہیں سیکھتے تاریخ ان کو سبق سکھاتے ہوئے نشان عبرت بنا دیتی ہے۔ نپولین بونا پارٹ کی فتوحات روس میں پہنچ کر ذلت آمیز شکست میں تبدیل ہوگئیں ۔کئی صدیوں بعد نپولین والی غلطی جرمن کے ہٹلر نے بھی دہرائی اور اسی انجام سے دوچار ہوا۔ افغانستان میں تاج برطانیہ کو دومرتبہ ہزیمت کا سامنا کرناپڑا۔ برطانیہ نے سکندر اعظم کے انجام سے سبق نہ سیکھ کر اپنی بربادی کرائی۔ 1841ءمیں کابل سے اس کے فوجیوں نے راہ فرار اختیار کی تو افغانوں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے تمام کے تمام ساڑھے 16ہزار فوجیوں اور سویلین کو قتل کردیا۔ صرف ڈاکٹر برائیڈن کو اس لئے زندہ چھوڑ دیا کہ وہ جلال آباد چھاﺅنی پہنچ کر انگریز حکام کو اپنے ساتھیوں کے انجام سے آگاہ کرسکے ۔بر طانیہ کے انجام کو روس نے نظر انداز کیا تو اس کو بھی نہ صرف افغانستان سے بھاگنا پڑا، بلکہ اس کے ٹکڑے بھی ہوگئے۔ امریکہ نے خود کو عقل کل سمجھا اور اپنی دانست میں شاید ماضی میں افغانستان پر بیرونی طاقتوں کی شکست کو ان کی بیوقوفی گردانتے اور اپنے اسلحہ وگولہ بارودپر ضرورت سے زیادہ ہی یقین کرتے ہوئے افغانستان پر چڑھائی کردی، یہ اس کی روس اور برطانیہ جیسی ہی غلطی تھی۔ یقینا انجام بھی ویسا ہی ہونا تھا،جو اب نوشتہ ءدیوار ہے۔ شکست کے ساتھ ساتھ ریاست کی شکست ریخت بھی نظرآرہی ہے۔

پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ معاشی بوجھ تلے دب کر بکھر گئی ۔ دوسری جنگ عظیم نے ایسا ہی دھچکا برطانیہ کو بھی پہنچایا ۔ اس کی معیثت زوال پذیر ہوئی تو درجنوں ممالک اس کے تسلط سے نکل گئے۔ آج امریکہ کی معیثت بھی افغانستان اور عراق جنگ میں ڈوب چکی ہے۔ اسے بھی ماضی کی سلطنت عثمانیہ اور برطانیہ جیسے حالات درپیش ہیں۔ اس کی بائیس ریاستوں نے اپنی اپنی آزادی کی تحریکیں شروع کیں تو دیگر کئی ریاستوں نے بھی ان کی تقلید کی۔باراک اوباما کے دوسری بار الیکشن جیتنے کے بعد 20ریاستوں نے یک بیک علیحدگی کی پٹیشنیں دائر کیں۔ امریکی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما کی کامیابی کے فوری بعدامریکی عوام میں متحدہ امریکہ سے علیحدگی پسند جذبات نے جنم لے لیا۔ ابتدا میں20ریاستوں کے عوام نے متحدہ امریکہ سے علیحدگی کی درخواست دی، اب یہ تعدار تیس ہوچکی ہے۔ اوباما انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے، انہیں علیحدہ اپنی حکومت بنانے کی اجازت دی جائے۔ ابتدا میں آزادی مانگنے والی ریاستوں میں لوزیانا، ٹیکساس، مونٹانا، شمالی ڈکوٹا، انڈیانا،مسی سپی، کینٹکی، شمالی کیرولینا، الباما، فلور یڈا، جارجیا، نیو جرسی ،کولوراڈو، اور ریگون، جنوبی کیرو لینا ،ٹین ینسی ،مشی گن، یسوری، نیویارک اورآرکنساس شامل ہیں.... امر یکی صدارتی انتخابات سے چند روز بعد 9نومبر کی شب شہریوں کی طرف سے یہ درخواست دائرکی گئی۔

لوز یانا پہلی ریاست ہے، جس نے انتخابات کے فوری بعد علیحدگی کی درخواست جمع کرائی، اس کے بعد ٹیکساس نے درخواست دی۔ امریکی قانون کے مطابق دراخوست جمع کرانے کے بعد ایک ما ہ کی مہلت دی جاتی ہے، اگر درخواست پر اس عرصے کے دوران 25ہزار افراد نے دستخط کردیئے تو باراک اوباما انتظامیہ اس پر غور کرے گی ۔ 25ہزار افراد کے دستخطوں کی شرط ایک دودن میں پوری ہوگئی ۔ اس کی طرف سے جمع درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی ملکی اور غیر ملکی اخراجاتی اصلاحات میں غفلت کی وجہ سے امریکہ مسلسل اقتصادی بدحالی کا شکار ہے ۔امر یکی شہری حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ امریکی ضابطے کے تحت وائٹ ہاوس کی ویب سائٹ پر پٹیشن کے لئے اس درخواست پر 150افراد کے دستخط ہونا ضروری ہےں ۔امریکی اعلان آزادی 1776ءمیں واضح ہے کہ جب بھی لوگ کسی سیاسی بندھن سے علیحدگی حاصل کرنا چاہیں، انہیں اس کی آزادی ہے کہ وہ علیحدہ ہوسکتے ہیں اور اپنی علیحدہ حکومت بنا سکتے ہیں۔

امریکیوں کو اپنے ملک کی چودھر اہٹ کا فائدہ تو اس صورت میں ہوسکتا تھا، اگر ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوجائیں۔ مسلسل جنگوں کے اخراجات امریکہ نے قرض لے کراور اپنے عوام پر ٹیکس لگا کرپورے کئے ہیں۔ امریکیوں کی ہلاکتیں اور معذرویاں الگ ہیں ۔ مزید برآں امریکی دنیا کے کسی کونے میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اب امریکی حکومت اپنے شہریوں پر سینڈی طوفان کی تباہ کاریوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے مزید ٹیکس لگانے کا اعلان کررہی ہے۔ ایسے میں امن کی خواہش رکھنے والے امریکیوں نے اپنی آزادی میں ہی بہتری جانی اور اعلان آزادی کا سہارا لیا۔ جو ریاستوں کو آزدی کا حق دیتا ہے معاملہ چل نکلا تو صرف بیس تیس ریاستوں کی آزادی تک ہی محدود نہیں رہے گا، شاید ایک امریکہ سے پچاس امریکہ جنم لے لیں اور کسی ایک کا نام بھی امریکہ نہ ہو، کیونکہ کسی بھی ریاست کا نام امریکہ نہیں ہے ۔ امریکہ کے ٹوٹنے کی ہماری پیش گوئیاں قرطاس پر بکھری ہوئی ہیں ،جواب پوری ہوتی نظر آرہی ہیں۔ دنیا کو تقسیم در تقسیم کرنے والے امریکہ کا متحدر ہنا ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے اپنا بور یابستر جلد گول کرنے پر مجبور ہوںگے ۔ بلوچستان میں بھی غیر ملکی مداخلت ختم ہوجائے گی۔ گانگریس میں بلوچستان کو الگ حیثیت دینے کی قرار واویں پیش کرنے والے اب اپنے ملک کی فکر کریں، جو گورے باراک اوباما کی قیادت کو پسند نہیں کرتے تھے،انہوں نے شائد کالوں کی حکمرانی سے نجات کے لئے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو اوباما بھی امریکہ کے لئے گورباچوف ثابت ضرور ہوگا۔

مزید :

کالم -