ڈرون حملوں کا عذاب

ڈرون حملوں کا عذاب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


                                                گزشتہ دنوں ڈرون حملوں سے مثاثرہ خاندان کی ایک 13سالہ بچی نبیل الرحمن نے جب اپنی داستانِ الم امریکی کانگریس کو سنائی تو نہ صرف ترجمان رو پڑی، بلکہ تمام ارکان کانگریس بھی آبدیدہ ہو گئے۔ اس کے بعد ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی کے ایک رکن ایلن گریسن نے کہا کہ پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔
قارئین جہاں تک ڈرون حملوں کی بات ہے، 2004ءسے تاحال قبائلی علاقہ جات میں آئے روز قیامت صغریٰ کا یہ کھیل جاری ہے اور اب تک تقریباً 5ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں بقول ایک امریکی عہدیدار ،پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں میں مرنے والے 50 فیصد سے زائد عام قبائلی ہیں۔
قوم کے ساتھ کیا عجب مذاق ہے کہ بیچارے قبائلی آسمان سے برستی اس آگ میں بھسم ہوتے جا رہے ہےں اور ہمارے ارباب اختیار قوم کو یہ باور کروانے میں لگے ہوئے ہیں کہ ان حملوں سے عام شہریوں کا کوئی نقصان نہیںہو رہا۔ کم از کم یہ تضادات ہماری سمجھ سے تو باہر ہیں۔بہرحال گزشتہ دنوں امریکی یاترا پر گئے ہوئے پاکستانی وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا کہ یہ حملے بند ہونے چاہئیں، لیکن امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی بریفنگ میں ان حملوں کا ذکر تک نہ کیا، جبکہ بعد میں امریکی انتظامیہ نے کہا کہ یہ حملے بند تو نہیںہوں گے، البتہ کم کرنے پر غور کیا جا سکتاہے۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی انتظامیہ امریکی انتظامیہ کو قائل نہیں کر سکتی کہ شدت پسندو ںکے خلاف پاک فوج خود کارروائی کرے گی اور اگر ایسا ہو جائے تو ان حملوں میں کئی عام شہریوں کی جاں بخشی ہو جائے گی۔
خیر گزشتہ دنوں دورہ امریکہ کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کو امریکہ نے تجارت، توانائی،مسئلہ کشمیر کے حل، دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون، پاکستانی استحکام،اور معاشی تعاون کی یقین دہانی تو ضرور کروائی، لیکن ہمیں ذہن مےں رکھنا ہو گا کہ اس سے پہلے بھی امریکہ کئی بار بدعہدی کر چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1971ءکی جنگ میں ہم امریکی بحری بیڑے کا انتظار کرتے کرتے اپنے ایک بازو سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔ ماضی میںبھی امریکہ نے مسئلہ کشمیر،فلسطین کے حل کا کئی بار یقین دلایا، لیکن یہ مسائل تا حال حل نہیں ہو سکے۔ افغانستان اور عراق پر حملے سے قبل بھی امریکہ نے کچھ اسی طرح کے وعدے کئے جو ابھی تک وفا نہیں ہوئے۔ ان حالات میں ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ اب یہاں پر بھی صورت حال دو قسم کی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کر جائےں کہ امریکہ کی جرا¿ت ہی نہ ہو کہ ہماری مرضی کے خلاف کچھ کر سکے .... جس کے دور دور تک آثار نظر نہےں آتے اور دوسری صورت حال یہ ہے کہ اگر ہم نے کسی طاقًتور ملک کی چھتری کے نیچے ہی رہنا ہے تو پھر امریکی چھتری ہماری کون سی مجبوری ہے ۔ روس،فرانس اور چین وغیرہ بھی تو آپشن مےں موجود ہےں۔
ہم ہرگز یہ مشورہ نہیں دیتے کہ امریکہ کے خلاف فی الفور طبلِ جنگ بجا دیا جائے ،کیونکہ ابھی ہم اس قابل نہےں اور نہ ہی جنگیں مسائل کا حل ہو تی ہےں۔ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہےں، اس سلسلے میں اقوام عالم اور اقوام متحدہ کا سہارا لے کر امریکہ کو مذاکرات پر ہی مجبور کیاجائے، جس کے لئے میاں محمد نواز شریف ایک زیرک سیاستدان ہیں۔امید ہے وہ اس بحران سے احسن طریقے سے نمٹنے کی پوری کوشش کریں گے....لیکن اگر ہم صرف امریکہ سے ہی اپنے تمام مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کر لیں تو یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے، کیونکہ قصر شاہی سے تو ہر بار یہی حکم صادر ہو گا کہ ڈو مور(Do More)،ڈومور(Do More)۔
جب بھی پاکستان اور طالبان کو ایک میز پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو امریکہ ڈرون حملوں میں اہم طالبان رہنماﺅ ں کو نشانہ بنا کر ہمیشہ اس عمل کو سبوتاژ کرتا آرہا ہے۔18جون2004ءکو امن معاہدہ طے کرنے والے طالبان کمانڈر نیک محمد کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح 2009 ءمیں مذاکرات کی کوششوں کے درمیان تحریکِ طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، 2013 ءمیں جب مذاکرات کی بات کی گئی تو تحریکِ طالبان کے اہم کمانڈر ولی الرحمن کو نشانہ بنایا گیا اور اس بار جب مذاکراتی عمل تقریباً شروع ہونے کو تھا تو کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ۔
امریکہ دراصل کسی بھی صورت میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں امن کی آشا پوری طرح فعال ہو۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ قبائلی علاقہ جات کے رہنما ﺅں اور حکومت پاکستان کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے ....لہٰذا اس موقع پر قبائلی رہنماﺅں ،طالبان کمانڈر اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ تمام قوتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں اور جیسے بھی ہو، جس طرح بھی ممکن ہو، امن معاہدہ طے پا جائے تا کہ وطنِ عزیز کو مزیددہشت گردی کی آگ سے بچایا جا سکے۔ سر دست ان حالات میں دعا ہے :
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل کہ جسے اندیشہ ءزوال نہ ہو

مزید :

کالم -