شکر کرو جان بچ گئی

شکر کرو جان بچ گئی
شکر کرو جان بچ گئی

  

اسد نامی ایک نوجوان ہمارے دفتر میں ملازم ہے۔ صرف نام سے نہیں ! شکل و صورت اور قدو قامت کے حوالے سے بھی صحیح معنوں میں دیہاتی ہے ۔کچھ دن پہلے رات گیارہ بجے کے قریب جب وہ دفتر سے نکلا تو کچھ فاصلے پرتین موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا اور گریبان سے پکڑ کر حکم دیا کہ ’’جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے جلد ی سے نکال دو ‘‘ ۔ اسد کو یہ تو پتہ چل گیا کہ اب وہ ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے لیکن پتہ نہیں اسے کیا سوجھی ؟ یہ اس کی بیوقوفی تھی۔ یا اسے اپنی جوانی پر بھروسہ تھا کہ وہ اکیلا تین ڈاکوؤں کے ساتھ الجھ پڑا ۔بات دھمکیوں سے آگے بڑھی اور مار کٹائی تک جا پہنچی ۔دیہی خد و خال کے مالک اسد نے اپنے طور پر پوری کوشش کی لیکن تین جوانوں کے آگے اس کاکوئی بس نہ چلا ۔ڈاکوؤں نے اسد کی خوب درگت بنائی بلکہ مار مار کر لہو لہان کر دیا اور جب انہوں نے پوری تسلی کے بعد اسد پر قابو پا لیا تو اس کی جیب سے بٹوا نکال لیا ۔

بٹوا نکالنے کے بعد ڈاکوؤں نے اسے فاتحانہ انداز میں کھولا ۔۔۔تو وہ یہ دیکھ ششدر رہ گئے کہ بٹوا بالکل خالی تھا۔اس کے بعد انہوں نے اسد کے سارے کپڑوں کی تلاشی لی تو وہاں سے بھی ایک ٹکہ نہ ملا جس پر ڈاکووں نے خالی بٹوا اسد کے منہ پر دے مارا اور گالیاں دیتے ہوئے کہا ’’کم بخت تو خالی بٹوے کیلئے اتنا لڑرہاہے اگر تیری جیب میں کچھ ہوتا پھر تو نہ جانے توہمارے ساتھ کیا کرتا‘‘؟ ڈاکو تو غصے سے تلملاتے چلے گئے لیکن اسد کا پورا بدن زخموں سے چور تھا ۔اس نے ہمت کی اور نزدیک ہی تھانے میں چلا گیا۔ تھانیدار کے کمرے میں پہنچتے ہی اسدنے درد سے کراہتے ہوئے ایک ہی سانس میں اپنے ساتھ ہونے والی پوری واردات سنا دی ۔ تھانیدار بولا ’’کتنا نقصان ہوا ہے تمہارا ‘‘اس سوال پر اسد کچھ دیررکا اور بولا’’ سر جی ! نقصان تو کوئی نہیں ہوا البتہ انہوں نے مجھے بہت زیادہ مارا ہے‘‘ ۔ سر جی ! میرے جسم پر اتنے مکے اور ٹھڈے مارے ہیں کہ کیا بتاؤں ۔ ہڈیاں، پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔

تھانیدار نے اسد کی بات پر توجہ نہ دی اور پھر پوچھا ۔۔میں کہہ رہا ہوں کہ’’ تم سے کیا کچھ چھینا ؟میرا مطلب ہے کہ کوئی نقدی یا موبائیل وغیرہ ‘‘ سرجی ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں چھینا کیونکہ میرے پاس نہ تو موبائیل تھا اور نہ ہی بٹوے میں کوئی پیسہ ! اچھا تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ تو پھر کس چیز کی رپورٹ درج کرانا چاہتے ہو۔بھاگ جاؤ کسی ہسپتال میں جا کر دوائی لو ۔۔تھانیدار نے تقریبا اسے دھکے دیتے ہوئے یہ جملے بولے اور کمرے سے نکال باہر کیا ۔ پھر کیا کرتا۔۔؟ اسد مجبوری کے عالم میں گنگا رام ہسپتال پہنچا ۔نرس نے اسد کے چہرے پر پٹی لگاتے ہوئے پوچھا تم بتا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے تمہیں مارا ہے ۔ یہ تو بتاؤ تم سے چھین کر کیا لے گئے ؟ ۔سسٹر چھینا توکچھ بھی نہیں کیونکہ میرے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔نرس نے اس بات پر قہقہہ لگایا اور بولی چل بھاگ یہاں سے ۔۔ جب تمہارا نقصان ہی نہیں ہوا تو پھر پریشان کیوں ہو؟

دیہاتی اسد یہ بات سمجھ نہ پایا کہ ان کو میرے جسم پر لگنے والی چوٹوں کا کوئی احساس نہیں ۔ یہ نقصان صرف مالی نقصان کو سمجھتے ہیں۔ جلا بھنا اسد گھر پہنچا اور گھر والوں کو رو رو کرسارا واقعہ سنا دیاگھر والوں نے اسد سے پہلا سوال یہی کیا کہ ڈاکو تم سے کچھ چھین کر تو نہیں لے گئے۔اسد نے جب اپنے گھر والوں کو بتایاکہ اتفاق سے آج اس کے پاس کوئی رقم نہیں تھی اور ڈاکوؤں نے اس سے کچھ نہیں چھینا تو گھر والوں کے چہرے پر اطمینان آ گیا اور کہنے لگے ‘ شکر ہے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔اسد نے انہیں بہت قائل کرنے کی کوشش کی ۔ کہ ڈاکوؤں نے مجھے بری طرح مارا پیٹا لیکن گھر والوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور کہا کہ شکر کرو کہ کوئی نقصان نہیں ہوا اور اگلے کئی دن اسد اسی صورت حال سے گزرا ۔۔کہ اس نے جب بھی کسی دوست کو اس واقعے کے بارے میں بتایا ، دوستوں کو یہ پتہ چلا کہ اس کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوا صرف مار پڑی ہے تو انہوں نے اس بات کو ہنسی مذاق میں ٹال دیا ۔

اس بات کو اتنی تفصیل سے اسی لئے تحریر کیاگیا کہ یہ ایک منفرد نوعیت کا واقعہ تھا کیونکہ آج کل ایسی واراداتیں ہمارے ہاں معمول کاحصہ بن چکی ہیں۔صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں سٹریٹ کرائمزکی سینکڑوں وارداتیں روزانہ سننے کو ملتی ہیں اور جب بھی کوئی واردات ہوتی ہے تو سننے والا یہی کہتا ہے کہ۔۔۔چلو سونے اور نقدی کا نقصان ہو گیا لیکن شکر کرو کہ’’ جان بچ گئی ‘‘ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ وہ کسی شادی میں شرکت کیلئے جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے ان سے دس لاکھ روپے مالیت کے زیورات چھین لئے ۔ اس واردات کو جو بھی سنتا یہی کہتا کہ شکر کرو’’ جان بچ گئی ‘‘ کتنی بے حس ہو گئی ہے ہماری سوچ کہ ڈاکو ہمیں دن رات لوٹ رہے ہیں اور ہم اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ شکرکرو کہ ’’جان بچ گئی‘‘۔کب تک ہم اس طرح جان بچاتے رہیں گے ۔

مجھے اسد کے واقعے میں یہی بات اچھی لگتی ہے کہ اس نے خالی بٹوے کیلئے جان کی بازی لگا دی کیونکہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم سے کوئی ہماراخالی بٹوہ بھی نہ چھین سکے کیونکہ یہ ہماری عزت نفس کا سوال ہے ۔ہمیں اپنی عزت نفس کا تحفظ چاہیے۔ اگر ہم ایسی ہی سوچ کے ساتھ کہ ڈاکوؤں نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ۔۔۔ صرف جان بخش دی ‘ یہ سب کچھ برداشت کرتے رہے تو ایک دن آئے گا کہ ہمارے مال و متاع کے ساتھ ساتھ ہماری جان بخشی بھی نہیں ہوگی ۔ *

مزید :

کالم -